بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » کونسی نیکی سید ابراہیم مجاب علیہ السلام کے حرم امام حسین علیہ السلام میں مدفن کی وجہ بنی ؟حیرت انگیزروحانی انکشافات

کونسی نیکی سید ابراہیم مجاب علیہ السلام کے حرم امام حسین علیہ السلام میں مدفن کی وجہ بنی ؟حیرت انگیزروحانی انکشافات

کربلا(تحریر سید تبسم عباس شاہ، عکاسی سید اکمل عباس باقری) حضرت سید ابراہیم مجاب علیہ السلام دنیا کی واحد خوش قسمت ترین ہستی ہیںجن کویہ اعزاز حاصل ہے کہ کربلا کا شہید نہ ہونے کے باوجود نہ صرف وہ حرم امام حسین علیہ السلام میں سیدالشہداعلیہ السلام کی ضریح سے چند قدم کے فاصلے پر دفن ہیں بلکہ وہاں پر اذن امام حسین علیہ السلام سے انکی ضریح بھی موجود ہے۔

جہاں انکی علیحدہ باقاعدہ زیارت پڑھنے کے ساتھ زائرین کے لیے تاکید انکے لیے دورکعت نماز زیارت پڑھی جائے۔

آپ علیہ السلام ساتویں امام موسی کاظم علیہ السلام کے بیٹے سید محمدعابدعلیہ السلام کے فرزند ہیں یعنی امام موسی کاظم علیہ السلام کے پوتے ہیں۔امام موسی کاظم علیہ السلام کی اولاد کو یہ شرف حاصل ہے کہ دنیابھرمیں سب سے زیادہ اولیا آپ علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا لقب کاظم ”یعنی غصے کو پینے والا”۔آپ علیہ السلام کو جب چودہ سال کے لیے قید کیاتو آپ علیہ السلام نے شکوہ کرنے کی بجائے اللہ تعالی کاان الفاظ میں شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ” اے اللہ تو نے مجھے ایسی تنہائی مہیاکردی ہے جس میں میرے اور تیرے درمیان کوئی بھی مخل نہیں ہوگا، اس پر تیراشکرگزار ہوں ۔

حضرت ابراہیم کو مجاب اس لیے کہا جاتاہے کہ روضہ امام حسین علیہ السلام میں آپکے سلام” السلام علیک یا اباعبداللہ علیہ السلام” کے جواب میں قبرامام حسین علیہ السلام کے اندرسے ”وعلیکم السلام” یا ابراہیم ” یعنی ”وعلیکم السلام میرے بیٹے ” جواب آتا تھا ۔

جسے نہ صرف موجود تما م حاضرین سنتے تھے بلکہ لوگ اس بات کے لیے ترستے اور منتظر رہتے کہ کب حضرت ابراہیم مجا ب علیہ السلا م ضریح مطہر امام حسین علیہ السلام میں زیارت کے لیے تشریف لائیں اورنواسہ رسول ۖ کو سلام کہیں اور قبر اطہر سے جواب آئے، اس طرح آواز امام حسین علیہ السلام سننے کا شرف حاصل کریں۔علمائے کرام کا سید ابراہیم مجا ب علیہ السلام کے بارے میں کہناہے کہ کربلا میں زیارت امام حسین علیہ السلام پر پابندی لگانے والے اور روضہ اطہر کو مسمارکرنیوالے ظالم حکمران متوکل عباسی لعین کے بعد جب حکومت اس کے بیٹے منتصر عباسی نے حکومت سنبھالی تو اسے اپنے ملعون باپ متوکل عباسی کے ظلم و ستم کے باعث لوگوں میں شدید نفرت کا سامنا تھا جس کے باعث وہ شدید پریشان تھا اس لئے اس نے لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی اجازت دے۔

اس عرصے میں حضرت محمدابراہیم مجاب علیہ السلام247 ہجری میں اپنے والدین کے ہمراہ کربلاتشریف لاکر فاطمی سادات میںسے سب سے پہلے یہاں رہائش اختیار کر لی۔

علمائے کرام کے مطابق آپ کاتذکرہ حرز الدین، مراقد المعارف، علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی، قمی، منتہی ا لآمال اور دیگرکتب میں ملتا ہے۔

حضرت محمد ابراہیم مجاب علیہ السلام کا یہ معمول تھا کہ آپ پوراہفتہ محنت مزدوری کرنے روزانہ ضریح امام حسین علیہ السلام پر باقاعدہ حاضری دیتے تھے اور شب جمعہ کو والدین میں سے ایک کو ایک شب جمعہ اور دوسرے کو دوسری شب جمعہ بوجہ نحیفی اپنی پشت پر یا کندھوں پر بٹھاکر روضہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرواکے واپس گھر چھوڑتے تھے۔ ایک مرتبہ محنت مزدوری سے تھک ہارکرشب جمعہ کو گھرواپس آئے اور حسب معمول اپنے والد کوکمر پر بیٹھاکر زیارت امام حسین علیہ السلام کروانے کے بعد واپس گھر لوٹے ہی تھے کہ والدہ نے کہا کہ ”بیٹا مجھے لگتاہے کہ شاید اگلے شب جمعہ تک میں اس دنیا میں نہ رہوں اس لیے مجھے بھی آج ہی زیارت امام حسین علیہ السلام کروادو”۔

جس پر تھکن سے چورسید محمدابراہیم علیہ السلام نے اپنی والدہ کواپنے کندھوں پر بٹھایا اور روضہ امام حسین علیہ السلام کی طرف چل پڑھے۔ جیسے ہی روضہ اقدس پرپہنچ کرالسلام علیک یابن رسول اللہ کہا توقبر امام حسین علیہ السلام سے آواز آئی ”وعلیکم السلام سید ابراہیم”۔اس کے بعد پورے عرب میں یہ بات مشہور ہوگئی اور آپ علیہ السلام کو مجاب کہا جانے لگا اور پورے عرب سے لوگ ہر شب جمعہ کو روضہ امام حسین علیہ السلام کی حاضری کے لیے اس لیے آنے لگے کہ وہاں سے ابراہیم مجاب علیہ السلام کے سلام کے جواب میں امام حسین علیہ السلام کی آواز سنیں گے۔آپ علیہ السلام کے متعلق مشہور ہے کہ آپ علیہ السلام روزانہ امام حسین علیہ السلام کے مصائب پر بے پناہ گریہ کرتے تھے۔

پاکستان میں یہ مشہور ہے کہ حضرت لعل شہبازقلندر سید ابراہیم مجاب علیہ السلام کے فرزند ہیں لیکن ایسے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجودہے جواس سے اس بنیاد پر اختلاف کرتے ہیں کہ دونوں ہستیوں کے ادوار میں بہت فرق ہے۔

جب اس حوالے حضرت لعل شہباز قلندر کے سجادہ نشین ڈاکٹر سید مہدی رضا سبزواری سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے” صدائے سچ ”سے گفتگو کرتے بتایا کہ نسل درنسل سینہ بہ سینہ اپنے بزرگوں اور کچھ کتب کے ذریعے حضرت لعل شہبازقلندر کاجو شجرہ نسب جو ہم تک پہنچاہے وہ حضرت سیدمحمدابراہیم مجاب علیہ السلام سے ملتاہے۔اسی نسبت سے کربلا کی زیارت کے دوران لعل شہبازقلندر کو امام زین العابدین علیہ السلام کو پہنایاگیا طوق ملاجو ساری زندگی انکے گلے میں رہا اور امام زین العابدین علیہ السلام کی یادہاتھ پس گردن رکھ کر، پائوں میں بیڑیاں ڈال کر سیہون کی تپتی زمین پر کئی گھنٹے عزاداری آپ کا ساری زندگی روزانہ کا معمول تھا ۔ انکی یہ عزاداری آگے چل دھمال کہلائی ۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سچ ہے کہ بعدمیں بعض لوگ اسکاانداز اپنے تئیں تبدیل کرتے رہے لیکن آپ کے عقیدت مند اس بات کو جانتے ہیں کہ دھمال دراصل عزاداری کربلا ہے اور وہ اسی نیت ، اسی تصور سے اسے بجا لاتے ہیں ۔

۔

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔