بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » حضرت زینب بنت علی علیہ السلام کا کوفہ میں تاریخی خطاب، کوفیوں کے کردار کی شدید مذمت

حضرت زینب بنت علی علیہ السلام کا کوفہ میں تاریخی خطاب، کوفیوں کے کردار کی شدید مذمت

تحریر سید محمد عباس حیدر

”سب تعریفیں خدا وند ذوالجلال و الاکرام کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو میرے نانا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی طیب و طاہر اور نیک و پاک اولاد پر۔
اما بعد! اے اہلِ کوفہ!اے اہل فریب و مکر !کیا اب تم روتے ہو؟ (خدا کرے) تمھارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغان کبھی بند نہ ہو ! تمھاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت و جانفشانی سے محکم ڈوری بانٹی اور پھر خود ہی اسے کھول دیااور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا تم (منافقانہ طورپر) ایسی جھوٹی قسمیں کھاتے ہو۔جن میں کوئی صداقت نہیں۔ تم جتنے بھی ہو، سب کے سب بیہودہ گو، ڈینگ مارنے والے ، پیکرِ فسق و فجور اور فسادی ،کینہ پرور اور لونڈیوں کی طرح جھوٹے چاپلوس اور دشمنی کی غماز ہو۔ تمھاری یہ کیفیت ہے کہ جیسے کثافت کی جگہ سبزی یا اس چاندی جیسی ہے جو دفن شدہ عورت کی قبرپر رکھی جائے۔

آگاہ رہو! تم نے بہت ہی برے اعمال کا ارتکاب کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خدا وند عالم تم پر غضب ناک ہے۔ اس لئے تم اس کے ابدی عذاب و عتاب میں گرفتار ہو گئے۔ اب کیوں گریہ و بکا کرتے ہو ؟ ہاں بخدا البتہ تم اس کے سزاوار ہو کہ رو زیادہ اور ہنسو کم۔تم امام علیہ السلام کے قتل کی عار و شنار میں گرفتار ہو چکے ہو اور تم اس دھبے کو کبھی دھو نہیں سکتے اور بھلا تم خاتم نبوتۖ اور معدن رسالت کے فرزند( جوانان جنت کے سردار)، جنگ میں اپنے پشت پناہ ،مصیبت میں جائے پناہ، منارہء حجت اور عالم سنت کے قتل کے الزام سے کیونکر بری ہو سکتے ہو۔ لعنت ہو تم پر اور ہلاکت ہے تمہارے لئے۔تم نے بہت ہی برے کام کا ارتکاب کیاہے اور آخرت کے لئے بہت برا ذخیرہ جمع کیا ہے۔ تمھاری کوشش رائیگاں ہو گئی اورتم برباد ہو گئے۔تمہاری تجارت خسارے میں رہی اور تم خدا کے غضب کا شکار ہو گئے ۔تم ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوئے۔ افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسولۖکے کس جگر کو پارہ پارہ کر دیا ؟ اور ان کا کون سا خون بہایا ؟ اور ان کی کون سی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا ؟ تم نے ایسے اعمال کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں ، زمین شگافتہ ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم نے قتلِ امام کا جرم شنیع کیا ہے جو پہنائی و وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔اگر اس قدر بڑے پر آسمان سے خون برسا ہے تو تم تعجب کیوں کرتے ہو ؟ یقینا آخرت کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور رسوا کن ہوگا۔اور اس وقت تمہاری کوئی امداد نہ کی جائے گی۔ تمہیں جو مہلت ملی ہے اس سے خوش نہ ہو۔کیونکہ خدا وندِ عالم بدلہ لینے میں جلدی نہیں کرتا کیونکہ اسے انتقام کے فوت ہو جانے کا خدشہ نہیں ہے۔ یقینا تمہارا خدا اپنے نا فرمان بندوں کی گھات میں ہے”۔

اہلیانِ کوفہ کی حالت

قارئین ! پھر بی بیِ عالم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ حیران و سرگرداں ہیں اور تعجب سے انگلیاں مونہوں میں ڈالے ہوئے ہیں۔میں نے ایک عمر رسیدہ شخص کو دیکھا جو میرے پہلو میں کھڑا رو رہا تھا۔اس کی داڑھی آنسوں سے تر ہو چکی تھی۔ہاتھ آسمان کی طرف بلند تھے اور وہ اس حال میں کہہ رہا تھا:
”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ کے بزرگ سب بزرگوں سے بہتر، آپ کے جوان سب جوانوں سے افضل، آپ کی عورتیں سب عورتوں سے اشرف، آپ کی نسل سب نسلوں سے اعلی اور آپ کا فضل عظیم ہے”۔

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔