بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » یزید جتنا چاہے مکر کر لے نہ وحی خدا، نہ ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے،سیدہ کونین زینب بنت علی کااموی مسجدمیں اپنے تمام پیاروں کی مظلومانہ شہادت اور اسیری کے باوجودشکرخداپر مبنی تاریخ انسانی کاسب سے دلیرانہ خطاب

یزید جتنا چاہے مکر کر لے نہ وحی خدا، نہ ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے،سیدہ کونین زینب بنت علی کااموی مسجدمیں اپنے تمام پیاروں کی مظلومانہ شہادت اور اسیری کے باوجودشکرخداپر مبنی تاریخ انسانی کاسب سے دلیرانہ خطاب

واقعہ کربلا کے بعد زینب بنت علی علیہ السلام کا کردار بہت اہم ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد وہ دمشق لے جائی گئیں جہاں یزید بن معاویہ کے دربار میں دیا گیا ان کا خطبہ بہت مشہور ہے۔ یزید کی محفل میں جب زینب سلام کی نظر اپنے بھائی کے خون آلود سر پر پڑی تو انہوں نے جو غم ناک آواز میں فریاد کی جس سے سب لوگوں کے دل دہل گئے۔ آپ نے فرمایا تھا اے حسین علیہ السلام، اے محبوب خدا، اے مکہ و منی کے بیٹے! اے فاطمہ زہرا سیدة نساء العالمین سلام اللہ علیھاکے بیٹے، اے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کے بیٹے!
یہ سن کرراوی اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: خدا کی قسم! بی بی زینب سلام اللہ علیھا کی آواز سے وہ تمام لوگ رونے لگے جو یزید کے دربار میں بیٹھے ہوئے تھے اور یزید اس طرح خاموش بیٹھا ہوا تھا جس طرح اس کو سانپ سونگھ گیا ہو۔
یزید نے خیزران کی لکڑی لانے کا حکم دیا، پھر یزید نے اس لکڑی کو امام حسین علیہ السلام کے لبوں اور دانتوں پر لگایا۔ ابو برزہ اسلمی جو صحابی رسولۖ تھے اور وہاں پر موجود تھے) نے یزید کو مخاطب کر کے کہا: اے یزید! کیا تو اس چھڑی سے فرزند فاطمہ علیہ السلام کے دندان مبارک پر مار رہا ہے؟ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیغمبر اکرم حسین علیہ السلام اور ان کے بھائی حسن علیہ السلام کے لبوں اور دندان مبارک کو بوسہ دیتے اور فرماتے تھے کہ تم دونوں جوانان جنت کے سردار ہو جو تمہیں قتل کرے خدا اس کو قتل کرے اور اس پر لعنت کرے اور اس کے لیے جہنم کو آمادہ کرے اور وہ بہت خراب جگہ ہے۔
یزید غصہ میں چیخنے لگا اور حکم دیا کہ صحابی رسولۖ کو باہر نکال دو۔
یزید نے جب امام حسین علیہ السلام کے دندان پر چھڑی پھیر کر بے حرمتی کرنا شروع کی تو زینب بنت علی علیہ السلام سے نہ رہا گیا انہوں کھڑے ہو کر وسیع خطبہ فرمایا۔ ذیل میں ذینب بنت علی علیہ السلام کے خطبے کی خاص خاص باتیں لکھی ہیں:
سب تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت علیھم السلام پر۔ اما بعد! بالآخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا۔
رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو سفیان، معاویہ، قریش کے بزرگ افراد اور اپنے دشمنوں کو بخش دیا تھا اور فرمایا تھا: اذھبوا فانتم الطلقا (جاو تم آزاد ہو)پھر اس آیت کو زینب بنت علی علیہ السلام نے استعمال کیا۔
اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دیے ہیں اور رسولۖ کی آل علیھم السلام کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر در بدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے۔ اور خلافت کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ہوش کی سانس لے ۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ ہم جو انہیں مہلت دیتے ہیں یہ ان کے حق میں بھلائی ہے، ہم انہیں مہلت اس لیے دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں زیادتی کریں، اور ان کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے۔
اے طلقا کے بیٹے! کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹھا رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیا نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔
اے یزید! یاد رکھ کہ خدا، آل رسول پاک کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالا مال کر دے گا۔ خدا کا فرمان ہے کہ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں سے رزق دیے جاتے ہیں۔
افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بد نام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ہے۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں ۔
اے یزیدتو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔ تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔ تو نے جس گھنانے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔ تیری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستم گر لوگوںکے لیے خدا کی لعنت ہے۔

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔