بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » خان صاحب !اب نہیں توپھر کب؟ تحریر سید تبسم عباس شاہ

خان صاحب !اب نہیں توپھر کب؟ تحریر سید تبسم عباس شاہ

پاکستان جس کی 40 فیصدآبادی پہلے ہی غر بت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارہی تھی،اس میں عمران خان حکومت کے مہنگا ئی کے سونامی نے بقول معاشی ماہرین متوسط طبقے کے مزید50 لاکھ افرادکوغربت کی لکیر کے نیچے دھکیل دیا ہے۔ مہنگائی کے اس بے ہنگم طوفان اور خوفناک معاشی صورتحال نے غریب، امیر،کاروباری ،غیرکاروباری، افسراور ملازمین سمیت تمام طبقات کو بری طرح متاثر کیاہے۔ اس کا اندازہ 126دن تک اپنا کاروبار چھوڑکر صرف ملک کے بہتر مستقبل کے لیے عمران خان کی کال پر دھرنا دینے والے معروف بزنس مین اورخان کے نام پرہروقت مرمٹنے کے لیے تیارپی ٹی آئی کے پی کے کے اہم کارکن نسیم خان آفریدی کی صدائے سچ سے ہونیوالی گفتگو سے لگایا جاسکتاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی غیرداشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں کاروبار بالکل ٹھپ ہورہے ہیں ، بے روزگاری اور غربت میں خوفناک اضافہ ہورہا ہے ، کاروباری لوگ اپنی پرانی سیونگز نکال نکال کر کھارہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم سمیت کوئی حکومتی عہدیدار اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے ، سبھی سیاسی مخالفین پر الزامات کی بمباری میں مصروف ہیں، کسی کو اس امر کی فرصت نہیں کہ دیکھیں کہ بیس کروڑ عوام مہنگائی کی اس چکی میں کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔
خودمیں نے زندگی میں پہلی مرتبہ تبدیلی کے لیے ووٹ ڈالا اور اپنے علاقے میں ڈور ٹوڈور جاکر عمران خان کے لیے مہم چلائی۔لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کہاں گئے تمھارے لیڈر کے مہنگائی ، غربت ،کرپشن کے خاتمے کے دعوے ، کب ریلیف دلائو گئے؟۔میں شروع میں انھیں کہتاتھا کہ تھوڑا وقت لگے گا۔اب لوگ کہتے ہیںکہ ”ھل من مزید”، ہماری چیخیں نکل رہی ہیں، کب چیزیں سستی ہوں گی؟۔ اب انکے سوالوں کا میرے پاس جواب نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر سیاستدان تو کم پڑھے لکھے لوگوں کو بے وقوف بناتے تھے لیکن مجھے افسوس اس بات کا ہے عمران خان نے پڑھے لکھے لوگوں کو بے وقوف بنایاہے۔ میں وزیراعظم نہیں عام آدمی ہوں ، صرف ایک چھوٹے سے علاقے سے ان کے لیے ووٹ مانگے ہیں۔مجھ سے میرے علاقے کے لوگوں کی مشکلات نہیں دیکھی جاتیں، دل کڑھتا ہے،کئی دن نیند بھی نہیں آتی ہے۔ میں حیران ہوں کہ عمران خان تو بیس کروڑ افرادکے وزیراعظم ہیں انھیں مہنگائی کے ہاتھوں اپنی غریب عوام کومرتا دیکھ کر سکون کی نیند کیسے آجاتی ہے۔ان حالات میں بھی بقول صحافی ارشاد بھٹی (جنھوں نے گذشتہ دنوںوزیراعظم کا انٹرویو کیا تھا) کہ وزیراعظم بہت ریلیکس ،بات بات پر قہقہہ لگارہے تھے۔ لوگ مہنگائی بے روزگاری سے مررہے ہیں اورا نھیں قہقہے، طنز، لطیفے اور مخالفین کی نقالی اور تمسخر جیسی فضولیات سے فرصت نہیں۔
ان کے پرانے گھسے پٹے بیانات سن سن کر واقعی کان پک گئے ہیں،اب انھیں نیوز چینلزپر دیکھ کر ٹی وی ہی بند کردیتا ہوں۔ لوگوں نے ہمیں ووٹ چیزیں سستی کرنے کے لیے دیے تھے ہم نے مہنگی کردیں۔ وہ باتیں ایسے کرتے ہیں جیسے پرائم منسٹر( پی ایم) نہیں بلکہ پراجیکٹ منیجر ( پی ایم) ہیں۔ خان صاحب سب کو ٹیکس ادائیگی کی تلقین کرتے نہیں تھکتے لیکن خود بنی گالہ میں3ارب روپ مالیت کے 300 کنال گھرکا ٹیکس صرف ایک لاکھ روپے دے کر ” اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت” بنے ہوئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق متوسط طبقے کو اپنی آمدن کا اسی فیصد تک صرف زندہ رہنے کے لیے خوراک پر خرچ کرنا پڑتاہے،ان کے پاس بچوں کی تعلیم، صحت کے لیے بہت کم پیسے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے متوسط طبقے کی ایک بڑی اکثریت نے دوپہر کا کھانا بھی چھوڑدیاہے ۔ اس وقت امیر غریب سبھی پریشان ہیں ہر کوئی یہ پوچھتاہے کہ اب کیا ہوگا؟ورلڈبنک کی ماضی کی ایک رپورٹ کے پاکستان متوسط آمدنی کے حامل شخص کو اگر ایک پولیس کیس یا بیماری لگ جائے تو وہ خاندان غربت کی لکیر کے نیچے چلا جاتا ہے جبکہ حالیہ عرصے میںادویات میں اضافے کے باعث غریب لوگ علاج کی بجائے بغیر علاج مرنے کو ترجیح دیتے ہیں
وزیراعظم صاحب آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ اس وقت 2کروڑ22لاکھ بچے غربت کے باعث سکول سے باہرہیں،روزانہ830 خواتین زچگی اور بچے کی پیدائش کے دوران جبکہ 1000میں سے 178 پیدائش کے وقت مرجاتے ہیں۔ ملک کی 60 فیصد آبادی پہلے ہی خوراک کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ عوام کے معاشی حالات ہنگامی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اب بھی اس حوالے سے ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پھر کب ؟ موجودہ صورتحال کی بدولت جرائم اور لوگوں میں ڈپریشن کی شرح میں خطرناک اضافہ ہوچکا ہے۔
مولاعلی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ”جب غربت بڑھتی ہے تو غیرت سستی ہوجاتی ہے ،غربت ایک دروازے سے داخل ہوتی ہے اور غیرت دوسرے دروازے سے نکل جاتی ہے ”۔
غریبوں کے حالات کی مختلف شعراء نے کیاخوب عکاسی کی ہے۔یہ اشعار پاکستانی حکام اور غریب عوام کی نذرکیے جاتے ہیں۔
گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب
بیٹی کسی غریب کی فاقوں سے مر گئی
٭٭٭٭٭
میں خون بیچ کر روٹی خرید لایا ہوں
امیرشہر بتایہ حلال ہے کہ نہیں
٭٭٭٭٭
ہوائیں سرد اور جسم ہے لباس میرا
امیرشہر تجھ کوذرا بھی ہے احساس میرا ؟
٭٭٭٭٭
امیر شہر کو خبر نہیں ہوتی
عید گھر گھرنہیں ہوتی
٭٭٭٭٭
روٹی امیرشہر کے کتوں میں بٹ گئی
فاقہ غریب شہر کے بچوں میں بٹ گیا
٭٭٭٭٭
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
٭٭٭٭٭
امیر شہر لوٹ لیتا ہے غریبوں کو
کبھی باحیلہ مذہب ، کبھی بنام وطن
٭٭٭٭٭

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔