بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » ”ایکس ٹینشن” کی ٹینشن اورٹینشن فری عمران حکومت کو اب واقعی ٹینشن

”ایکس ٹینشن” کی ٹینشن اورٹینشن فری عمران حکومت کو اب واقعی ٹینشن

تحریر سید تبسم عباس شاہ

پاکستان میں عوام توپہلے ہی ٹینشن میں رہتی ہیں، کسی کو روزگار چھننے ، کسی کو بچوں کی تعلیم، شادیوں اورکسی کو خوراک کی ،صحت کی ٹینشن مار رہی ہے۔ عمران خان کی حکومت آنے کے بعد لوگ یہ سمجھ رہے تھے اب تبدیلی آنے کے بعد نئے پاکستان میں سب عوام ٹینشن فری ہوںگے کیونکہ انکی ٹینشن کومحسوس کرنے ، سمجھنے اور اسے حل کرنے کے لیے عرصہ دراز سے بے تاب خان اقتدار میں آگیا ہے۔ اب مہینوں نہیں ، دنوں میں ملک سے باہر لوٹ مار کے سارے پیسے واپس لاکر سارے غیر ملکی قرضے ،مہنگائی، بے روزگاری ختم، گیس بجلی مزید سستی، غریبوں کے لیے پچاس لاکھ گھر ،اور پتا نہیں کیاکیا؟ماضی کے حکمرانوں کی ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں ٹینشن زدہ عوام کی بے سکونی ختم کرنے کے لیے کریں گے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ انکی ٹینشن کو محسوس ، سمجھنے اور ختم کرنے والے کو وہ بھی اس کے بدلے ایکسٹینشن پہ ایکسٹینشن دیتے ہوئے کم از کم تاحیات اقتدار میں رکھیں گے اور وفات کے بعد اس کا باقاعدہ مزار بناکر اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ کہتے تھے کہ وہ ماضی کے حکمرانوں سے مختلف ہے۔ اس کے پاس اپنے لیے سب کچھ ہے، اسے اب کسی چیز کی ضرورت نہیں ، صرف عوام کی ٹینشن اسے کھائے جارہی ہے،اس لیے ہر صورت ایک مرتبہ موقع ضرور ملنا چاہیے۔ لیکن جب وہ اقتدار میں آگیا تو اسے عوام کی ٹینشن تیزی سے (X)ایکس ٹینشن (یعنی سابقہ) لگنے گی اور عوامی ٹینشنوں کے خاتمے کیلئے پہلے تین ماہ پھر مزید ڈیڈلائن بڑھانے لگا اور جب عرصہ اقتدار نو ماہ کو پہنچا تو اس نے گزشتہ کئی سالوں میںعوام کی بے روزگاری ،مہنگائی،غربت سمیت دیگر مسائل کی لی گئی ٹینشن سود سمیت دوبارہ عوام کو واپس کر کے بالکل ٹینشن فری ہو گیا۔جس کے بعد ٹماٹر 300،مرچیں 400،آئل گھی 250اور دیگر اشیاء کی قیمتوں نے جمپ لگا کرحکمرانوں کی طرح عوام کی پہنچ سے باہر ہونا شروع کر دیا۔اس دوران مولانا فضل الرحمن کا دھرنا آگیا جس پر دوبارہ انہیں عوام کے مسائل کی ٹینشن اس وجہ سے شروع ہو گئی کہ یہ ٹینشن کہیں ان سے مولانا نہ چھین لیں۔اس عرصے میں انہیں واقعی ہی دوبارہ ٹینشن ہوگئی لیکن جیسے ہی مولانا واپس ہوئے تو انہوں نے پھر اپنے پر نکالنا شروع کر دیے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ نواز شریف کوخود صحت کے نام پر باہر بھجوانے کے بعد یہاں تک کہنا شروع کیا کہ میری کابینہ تو ان کو بیرون ملک علاج کی اجازت دینے کے خلاف تھی لیکن میں نے ان پر رحم کیا ۔اس کے بعد آپے سے مزید باہرہوتے ہوئے میاں نواز شریف کو باہر بھجوانے کا الزام براہ راست عدلیہ پر لگاتے ہوئے چیف جسٹس سے کہا کہ وہ عدلیہ سے طاقتوروں کے انصاف کے کٹہرے میں بچ جانے کا تاثر ختم کریں ۔
عمران خان نے دوران حکومت جس طرح مختلف ایشوز پریوٹرن پر یوٹرن لیے بالکل اسی طرح آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سروس میں توسیع کے معاملے پر پہلے تقرری پھر توسیع ،پھر تقرری، پھر توسیع سمیت مزید یو ٹرنز نے سارے معاملے کو ہی متنازعہ بنا دیا اور اس حوالے سے حکومت کو عدالت میں خفت اٹھانے کے ساتھ ساتھ ملک کی بیرون دنیا جگ ہنسائی ہوئی ۔واقفان حال کے مطابق وزیر اعظم اور ان کی ٹیم نے جس طرح دیگر ملکی ایشوز کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا بالکل اسی طرح اس اہم معاملے کو بھی غیر سنجیدگی کی بھینٹ چڑھا دیا لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جنہیں خان اور ان کی ٹیم کی صلاحیت پہ ابھی بھی شک تھا ان کے سامنے بھی روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ تقریروں سے پوری دنیا فتح کرنے کے دعوے کرنے والے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم عملی طور پر کتنی پانی میں ہے ۔مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے اختیار، اقتداراور دولت آنے سے لوگ بنتے نہیں بلکہ بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ایک اور جگہ پر فرمایا کہ کسی شخص کی تحریر اس کے عقل کی عکاس ہوتی ہے۔کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے محمد اعظم خان کو یہ سمجھ کر اپنا پرسنل سیکرٹری لگایا کہ وہ بیسٹ آف دی بیسٹ ہے لیکن حالات نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ان کی اچھی چوائس نہیں تھی ۔میاں نواز شریف تو اپنے پرسنل سیکرٹری فواد حسن فواد کے” فوائد”اب تک اٹھا رہے ہیں۔اب لگتا ہے کہ عمران صاحب بھی اپنے سیکرٹری کے فوائد سے مستفید ہوں گے ۔حکومتی حلقے خود کہتے ہیں کہ اعظم خان کی نااہلی نے پوری حکومت کو سپریم کورٹ میں مروا دیا اور آرمی چیف کی سروس میں توسیع جو ماضی میں خاموشی سے ہو جاتی تھی اسے متنازعہ بنا دیا ہے ،ان کی اہلیت ،صلاحیت کا یہ عالم ہے کہ پہلی مرتبہ نہ صرف عمران خان بلکہ پوری پی ٹی آئی حکومت شدید ٹینشن میں ہے۔شرمندگی در شرمندگی کے باوجود ان کے اٹارنی جنرل عدالت کو یہ بتانے میں ناکام رہے کہ یہ سارا معاملہ کس قانون کے تحت عمل میں لایا گیا۔عدالت نے انہیں راستہ بھی بتایا اور وقت بھی دیا ہے، اب اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کی سروس میں توسیع یا دوبارہ تقرری کے معاملے پر فیصلہ حکومت کے حق میں آتا ہے تو بھی اور نہیں آتا تو بھی دونوں صورتوں میں ا ب عمران خان اور ان کی حکومت ٹینشن میں ہی رہے گی ۔اس صورتحال نے بزرگوں کے اس محاورے کو بھی ایک مرتبہ پھر سچ ثابت کیا ہے کہ ”بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بھلا”!!!۔بے روزگار کہتے ہیں کہ شکر ہے کہ ہمیں نوکری نہ دینے والوں کی اپنی نوکری اب خطرے میں ہے۔

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔