بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » آرمی چیف سروس توسیع فیصلے کے بعد اسلام آباد میں قومی حکومت کی باز گشت

آرمی چیف سروس توسیع فیصلے کے بعد اسلام آباد میں قومی حکومت کی باز گشت

تحریر سید تبسم عباس شاہ

سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی سروس توسیع بارے کیس میںبرے طریقے سے ایکسپوز ہونے کے بعدعمران حکومت کی اہلیت ، صلاحیت، گڈگورننس دیانتداری،عوام کے لیے آسمان سے تارے توڑ کر لانے سمیت تمام بیانیے بری طرح دم توڑ گئے ہیں۔وزیراعظم نے آرمی چیف سروس توسیع کیس میںاہلیت، صلاحیت کے حوالے سے حکومت کے قوم کے سامنے مکمل طور پر ننگا ہونے کے بعد جس طرح ڈھٹائی کیساتھ فاتحانہ ٹویٹ کیا ، وہ صرف انہیں ہی زیب دیتا ہے۔ کیونکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںمقبوضہ کشمیر میںجاری بھارتی مظالم کو رکوانے کے لیے اقوام عالم سے ٹھوس اقدامات اٹھوانے میں ناکامی کے بعد تقریر جتنا جشن انھوں نے پی ٹی آئی کارکنوں سے منوایا، اسکی مثال بھی نہیں ملتی۔وہاں پر بھی انھیں جیل میں بند اپوزیشن رہنما نہ بھولے اور یہاں پر بھی انہیں تلواریں نیام میں رکھ کر بیٹھی اپوزیشن نہ بھولی اور انھوں نے سپریم کورٹ فیصلہ آنے کے بعد آرمی چیف سروس توسیع کیس پرخاموش ایسی اپوزیشن جو اس وقت کسی صورت بھی محاذآرائی کے موڈ میں نہیں کواشتعال دینے کے لیے للکارا۔ان کی فاتحانہ ٹویٹ سے ہی اندازہ لگالیں کہ ان کی نظر میں کامیابی کامعیار کیا ہے ۔اس کے علاوہ دوسروں کے کاموں کا کریڈٹ چوری کرنے کے حوالے سے بھی ان پر تنقیدسوشل میڈیا پربہت بڑھ گئی ہے۔ جس کا اندازہ نوازشریف کے دورمیں شروع کیے گیے ہزارہ موٹروے پر وزیراعظم خان کے نام کی تختی لگانے پر واٹس ایپ گروپوں میں سرکولیٹ ہونے والے ایک پیغام سے لگالیں کہ جس میں یہاں تک کہاگیا کہ عمران پہلے ریحام خان اور بشری بی بی سے شادی کی طرح دوسروں کے منصوبوں پراپنے نام کی تختی لگانے کے ماہر ہیں۔
ان حالات میں چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اپنی ٹیم کی نالائقی پر پریشان ہوتے اور اس بات کا جائزہ لیتے کہ ان کے دفتر سے آرمی چیف سروس توسیع کے بارے پروسیجرل خامیوں کو پٹیشنر تک کس نے پہنچایا۔یہ فکرمندی کی بات ہے کہ تمام حلقے وزیراعظم سیکرٹریٹ کواس بدانتظامی کا ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔لیکن فکرمندی کی بجائے وہ اپنی ٹیم کی نالائقی کا جشن منا رہے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ
عقل ہووے تاں سوچاں بڑیاں
نہ ہووے تے موجاںبڑیاں
یہاں ایک بہت ہی مزیدار لطیفہ قارئین کی نذرکرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
قیام پاکستان سے قبل برصغیر فوج میں بھرتی کے لیے ایک میراثی اور ایک مصلی نوجوانوں نے انوکھی شرائط عائد کرکے انگریز کمانڈر کوحیران کردیا۔ میراثی نے فوج جوائن کرنے کے لیے روزانہ چھٹی اور روزانہ تنخواہ کی شرط جبکہ مصلی نے انگریز فوج کا حصہ بننے کے لیے حالت امن میں بھی مخالفین کے سیزفائر کے باوجود روزانہ کم ازکم ایک مرتبہ ان پر حملے کی اجازت سے مشروط کرتے ہوئے کہاکہ میں نے اگر فوج جوائن کی تو دن میں ایک مرتبہ ضرور جنگ نہ ہونے کے باوجود جنگ چھیڑ دوں گا۔ شرائط سننے کے بعد انگریز کمانڈر نے برصغیرپاک وہند کی فوج میں آئندہ ہمیشہ میراثی، مصلی سمیت ”کمی” برادریوںسے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرتی پر پابندی عائد کردی۔
سب جانتے ہیں کہ آرمی چیف سروس توسیع کے لیے 6ماہ میں قانون سازی کے لیے دوتہائی اکثریت ضروری ہے جوکہ حکومت کے پاس ہے نہیں، اس لیے اپوزیشن کو ساتھ ملا ناضروری ہے۔ ایسے میں شیخ رشید اور دیگر پی ٹی آئی کے ذمہ داران برملا کہہ رہے ہیںکہ عمران خان اس کے لیے اپوزیشن سے بات نہیں کریں گے، اپوزیشن سے اس معاملے پر وہ بات کر یں گے جنھیں بات کرنا آتی ہے ۔
اس موضوع پر ایک انتہائی موئثرسیاسی شخصیت کا کہنا تھاکہ ا گر بات کرنیوالوں نے ہی ہر معاملے پر بات کرنی ہے تو کیاعمران حکومت صرف بیان بازی کے لیے معرض وجود میں آئی تھی ۔
حکومتی کارکردگی کے حوالے سے اگر کسی کو پہلے خوش فہمی تھی بھی تو اب جس طرح چیف آف آرمی سٹاف کی سروس توسیع کیس سپریم کورٹ میں لڑا ہے اب خوش فہمی میں نہیں رہے گا۔اس تجربے کے بعدعالمی سطح پر اس انتہائی حساس موضوع پر جگ ہنسائی سے بچنے کے لیے یہ معاملہ پی ٹی آئی قیادت کے رحم وکرم پر ویسے بھی نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ویسے بھی قانون سازی مانگے تانگے کے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کے اس کپتان کے بس کا روگ نہیں لگتا۔
اس لیے حالات دھرنے کو ختم کروانے کی طرح اس طرف جارہے ہیں کہ اب پھر چوہدری برادران کو ایک مرتبہ پھر میدان میں اتارنا پڑے گا۔ حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کوکسی بھی قومی مسئلے پر اکٹھا کرنے کی صلاحیت نہیں۔اس وقت ملک میں حکومتی نالائقی کے باعث کاروباری سرگرمیا ں بند ہیں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی خطرناک حدتک بڑھتی جارہی ہے۔ ان حالات میں ملک مزید سیاسی محاذآرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے قومی یکجہتی کی ضرورت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے۔ویسے بھی ملک کو اس وقت کشمیر، غربت، معاشی بدحالی سمیت جتنے چیلنجزدرپیش ہیں ان کو اکیلے حل کرنا پی ٹی آئی حکومت کے بس میں نہیں۔ چوہدری برادران تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول اور قابل عزت ہونے کے باعث تمام ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو کسی بھی قومی معاملے پر یک جا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں،اس لیے قوی امکان یہی ہے کہ انھیں یہ ٹاسک دیاجائے گا۔ واقفان کا کہنا کہ حالات قومی اتفاق رائے کے لیے سب پارٹیوں پر مشتمل قومی حکومت کی طرف تیزی سے جارہے ہیں۔اس میں ان ہائوس تبدیلی ،تمام پارٹیوں کو قومی اسمبلی میں ان کے تناسب کے مطابق قومی حکومت میں حصہ دینے سمیت سب کے لیے قابل قبول مختلف آپشنز موجود ہیںجبکہ حکومتی حلقے اس ممکنہ پیش رفت کی تردیدکر رہے ہیں ۔اس حوالے سے صورتحال آئندہ چند روز میں بالکل واضح ہو جائے گی ۔

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔