بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » جنرل نیازی کے بعد اِک اور نیازی بہت دیر یاد رہے گا

جنرل نیازی کے بعد اِک اور نیازی بہت دیر یاد رہے گا

دونیازیوں نے پاکستانی قوم کو بہت بیزار کیا ہے ۔جن میں ایک نیازی تھا اور ایک نیازی ہے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد نیازی سے بے نیاز ہوکرسرکاری سطح نیازی نہیں رہا۔حیران کن یہ ہے کہ اس نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے تمام وزارتوں ، ڈویژنوں اور انکے ذیلی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ اسے اب سرکاری خط کتابت میں نیازی نہ لکھاجائے۔ نیازی سے ان کی بے نیازی کی صحیح وجہ تووہ خود یا کوئی نیازی ہی بتاسکتا ہے۔

لیفٹنینٹ جنرل امیرعبداللہ نیازی کے علاوہ تقریبا سب نیازی ہی اچھے ہیں۔ جنرل نیازی بھی اس لیے اچھے نہیں کیونکہ ان کاڈھاکہ میں بھارتی جنرل ارووڑا کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا عمل ایساتھا جو ہر محب وطن پاکستانی کے دل پر اب بھی زخم کی طرح نقش ہے ۔
ان کے اس عمل کی ہرپاکستانی نے اپنے اپنے انداز میں مذمت کرکے دل بھڑاس نکالی ۔ انھی کی مذمت میں پاکستان بھر میں یہ لطیفہ مشہور ہواکہ” جوجنگ میں ماراجائے وہ شہید ،جو زندہ جائے وہ غازی اور جو بھاگ جائے وہ نیازی”۔

جنرل نیازی نے 90ہزار فوج کے ہمراہ پوری قوم کا دل توڑا تھا، انکایہ عمل جہاں ملک وقوم کے لیے وہیں میانوالی کے غیور نیازیوں کے لیے بھی شرمندگی کا سبب بنا۔
لیکن جمال پور، کمال پور سیکٹر میںساتھیوں کے سرنڈر کے باوجود آخری دم تک بھارتی فوج سے لڑے والے کرنل سلطان احمدکا نام نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی فوج کی تاریخی کتابوں میں عزت سے لیاجاتا ہے۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ کے مطابق جنرل نیازی جنسی سکینڈلز ، سمگلنگ کے حوالے سے بھی بدنام تھے۔ بطور جنگی قیدی بھارت سے واپس آنے کے بعدشرمندگی کی بجائے انتہائی ڈھٹائی سے استقبال اور حاضر سروس جرنیل کی گاڑی طلب کرنے لگے۔ بعدازاں” جماعتِ عالیہ مجاہدین” کے نام سے اپنی جماعت بناکرمارچ 1977 کے قومی اتخابات میں انتخابی نشان پگڑی کے ساتھ حصہ لیا۔ انھیں جمعیت علمائے پاکستان کے کوٹے سے قومی اسمبلی کے الیکشن کا ٹکٹ ملا ۔ جب قومی اتحاد نے بھٹوحکومت کیخلاف تحریک شروع کی توجنرل نیازی سر پر میانوالی سٹائل پگڑی باندھے سٹیج پر موجود ہوتے تھے اور بار بار اپنے کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔

مزید پڑھیں آرمی چیف سروس توسیع فیصلے کے بعد اسلام آباد میں قومی حکومت کی باز گشت

نیازی قبیلے کا پاکستان کی تعمیر وترقی میں بہت کردار رہاہے،میانوالی کا ذہن میں آتے ہی ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی، مولانا کوثر نیازی ،منیر نیازی، ڈاکٹر اجمل نیازی،حفیظ اللہ خان نیازی اور عطاء اللہ خان کے چہرے آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ان شخصیات نے اپنی اپنی فیلڈ میںنمایاں کام کرکے اپنے علاقے اور قبیلے کا نام روشن کیا ہے لیکن جنرل نیازی کانام کوئی بھی عزت سے نہیں لیتا۔ ڈاکٹر شیرافگن نیازی میانوالی کی سیاست میں پوری زندگی ناقابل شکست، انتہائی ملنسار اور منفرد انداز کی وجہ سے علیحدہ شناخت رکھتے تھے۔

مزید پڑھیں ایکس ٹینشن کی ٹینشن اورٹینشن فری عمران حکومت کو اب واقعی ٹینشن

وزیراعظم عمران احمد نیازی کی حکومت نے عام آدمی کوریلیف دینے اور اس کا معیار زندگی بہتر کرنے کے لیے نئے پاکستا ن اور تبدیلی کے نام پر جو تباہی مچائی ہے، اس سے قوم سولہ ماہ کے عرصے میں بہت زیادہ متنفر ہوئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ انھیں ان کے جھوٹے انتخابی وعدے ، یوٹرنز، مہنگائی ، بے روزگاری، ریکارڈ غیرملکی قرضے ،ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی شرمناک بے قدری اور ٹیکسز میں بے تحاشا اضافے نہ صرف بہت دیرتک یاد رہیں گے بلکہ اس کا خمیازہ بھی بہت عرصے تک قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ انکے بارے ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی مرحوم کی رائے 2008ء میں بھی اچھی نہیں تھی جس میں بیشتر بعدازاں 100فیصد صحیح ثابت ہوئی ہے۔مشرف کابینہ میں بطور وزیر قانون ان کا میانوالی کی سیاست پر انٹرویو کا موقع ملا تو انھوں نے عمران خان بارے ایسے انکشافات کیے جن میں سے بیشتر بوجہ صحافتی ضابطہ اخلاق اشاعت سے قبل سنسر کرنے پڑے۔ حفیظ اللہ نیازی گو خان صاحب کے قریبی عزیز ہیں لیکن میڈیا پر برملا کہتے ہیںعمران خان عقل ودانش سے محروم شخص ہیں

جبکہ پاک چائنا اکنامک کوریڈور کے پہلے ترجمان عاصم خان نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان وہ بدقسمت ترین انسان ہیں جنہیں قوم کے مستقبل یعنی نوجوانوں اور خواتین کی غالب اکثریت سمیت معاشرے کے تمام پڑھے لکھے طبقوں نے آنکھوں پر بٹھایا اور ووٹ دیا تاہم انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ کے اندر ہی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ خان صاحب نے ثابت کیا کہ انہیں نہ گورننس کی ابجد سے آگاہی تھی اور نہ ہی ان کے پاس ملک چلانے اور معیشت سمیت تمام شعبوں کے حوالے سے سیاسی و معاشی ٹیم کی قیادت کرنے کی معمولی سی بھی صلاحیت تھی۔اس وقت وہ اپنی نا اہلی کی وجہ سے جس مقام ہر لے گئے ہیں، اس بدترین مقام سے واپسی ان کے بس میں نظر نہیں آتی۔۔

مزید پڑھیں خان صاحب !اب نہیں توپھر کب؟

دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی مسئلہ ہے کہ اپنے بارے ہمیشہ بلاوجہ خوش فہمی کا شکا ررہتے ہیں۔ دوسرا وزیراعظم بننے کے بعد بھی کرکٹ اور کپتانی ان کے اندر سے نہیں نکلی۔ خوش فہمی کے مرض کے باعث ہی پہلے دورہ امریکہ کے موقع پر صدر ٹرمپ کے ہاتھوں تنازعہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش پر خوب بے وقوف بنتے ہوئے حسب سابق پاکستانی قو م کو حسب استطاعت جتنا بے وقو ف بناسکتے تھے ، بے وقوف بناتے رہے اور ایسا ماحول بنادیا کہ جیسے سالوں پرانا مسئلہ کشمیر بس ٹرمپ کی صرف ثالثی پیشکش سے ہی حل ہونے لگا ہے۔اس ضمن میں جتنی” چھوڑ” سکتے تھے،اس سے بھی زیادہ” چھوڑیں” کہ سب کو پیچھے چھوڑدیا اور پیچھے مڑکر بھی نہیں دیکھا۔

ٹرمپ میں بھی یہ مینوفیکچرنگ فالٹ ہے کہ وہ بھی جو کہتا ہے، کرتا اس کے الٹ ہے۔خان صاحب اس کی شخصیت کا جائزہ لینے کی بجائے اس کے سحر میں مبتلا ہوکرنہ صرف خود خوش فہمی کا شکار ہوئے بلکہ قوم کی امیدیں بھی بڑھادیں۔جس کانقصان یہ ہوا کہ وقتی طورپر قوم بھی اس یقین کے ساتھ خوش ہوگئی کہ واقعی یہ مسئلہ حل ہونے والا ہے۔دوسری طرف ان کے حواری تو پہلے ہی پھولے نہیں سماتے ، جیسے ہر مشکل سے مشکل مسئلے کا حل خان کی پٹاری میں ہو،اوپر سے اگر خان کا بیان آجائے تو ان کے پائوں زمین پر نہیں لگتے ۔ سیانے صحیح کہتے ہیں کہ عام شخص کی غلطی کا خمیازہ وہ خود لیکن کسی لیڈر کی غلطی سے اسکی قوم اور آنے والی نسلیںمتاثر ہوتی ہیں۔بعدازاں ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی” ہاتھی کے دانت دکھانے او رکھانے کے اور ” ثابت ہوئی۔

مزید پڑھیں بس عمران اب بس

جبکہ اس دوران ہندو بنیا مودی اپنے انتخابی منشور کے مطابق کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کر نے کی ورکنگ کرتا رہالیکن ہم نے اس کے انتخابی اعلانات پرعملدرآمد سے اس کوباز رکھنے یا جوابی کاروائی کے لیے پیشگی حکمت عملی ہی تیار نہ کی جبکہ بھارتی قیادت نے اس معاملے پر عالمی برادری کو اس مسئلے پر پاکستانی موقف کی حمایت سے باز رکھنے کے لیے دن رات ایک کردیے ۔ جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کا سٹیٹس تبدیل ہوا اور کشمیریوں پر مزید ظلم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن عمران حکومت اس معاملے پر صرف تقریروں، بیانات اور ٹویٹس کے علاوہ کچھ نہ کرسکی۔ جن کے دفاع کو ہم ہمیشہ اپنا دفاع سمجھتے تھے ، انھوں نے بھی ہمارا ساتھ دینے کی بجائے مسلمانوں کے قاتل مودی کو ایواڑد دینے شروع کردیے ۔ اس صورتحال میں نہ صرف کشمیریوںبلکہ ہرپاکستانی کا دل چھلنی ہوا اور وہ اسے کسی صورت یہ ہضم نہیں کرپارہے کہ انڈیا کا دعوی آزادکشمیر پر برقرار رہے لیکن ہمارا دعوی مقبوضہ کشمیر پر ختم ہوجائے۔یہ صورتحال قوم کے لیے قابل قبول نہیں ، اس حوالے سے پورے ملک میں اضطراب پایا جاتا ہے لیکن دوسری طرف عمران حکومت نے غیر سنجیدگی کی تمام حدود عبور کرتے روزانہ کی بنیاد پر قوم کوروزانہ نئے ایشوز میں الجھاکر اتنے سنجیدہ مسئلے سے پہلوتہی کرنا شروع کردی ہے۔ انکے ناقدین کہتے ہیں کہ حکومت کایہ طرزعمل اس مسئلے پر قوم کی توجہ ہٹانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔عمران خان اگر کشمیر کے معاملے پر انڈیا کو اس کے موجودہ موقف سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوئے تو تاریخ انھیں معاف نہیں کرے گا۔ ایسے میں ان کا شمار بھی بنگال میں 90ہزار فوجیوں کو لڑنے کی بجائے سرنڈر کرانیوالے جنرل امیر عبداللہ نیازی کے ساتھ ہوگا۔

#IMRANKHAN #IMRANNIAZI #PTI #TABDELISARKAR #INFLATION #UNEMPLOYEMENT #POVERTY #PMLN #JUI #PPP

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔