بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » ”ماں پاگل بھی ہوجائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں”

”ماں پاگل بھی ہوجائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں”

ماں کی محبت محبتوں کی ماں ہوتی ہے۔ جدید ترین ترقی کے باوجود ابھی کوئی ایسا آلہ ایجاد نہیں ہوا جس سے ماں کی اولاد سے محبت کوتولایا ناپا جاسکے۔اگر خدانخواستہ والد فوت ہو جائے تو ایسی صورت میں ماں اولاد کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوجاتی ہے اور والدہ سے والدین بن جاتی ہے ، اولادکا معمولی دکھ تکلیف بھی اس کا سکون چھین لیتا ہے۔
گذشتہ ہفتے سیالکوٹ میں بیٹے کے قاتل کوہائی کورٹ سے بری ہونے کے چھ ماہ بعد قتل کرنیوالی بیوہ ماں پروین اختر پورے ملک میں موضوع بحث ہے ۔ جس کے22 سالہ بیٹے تسلیم کو 2012میں قتل کیا گیا۔ ملزم نعمان سیشن جج کی عدالت سے سزائے موت اور لاہور ہائی کورٹ سے اپریل2019 ء کو قتل کے سات سال بعدبری ہونے کے بعد بیرون ملک چلا گیا جبکہ مقتول کی بیوہ ماں نے ملزم کی رہائی کے بعد یہ قسم کھائی تھی کہ جب تک قتل کابدلہ نہیں لے لیتی اسوقت پائوں میں جوتے نہیں پہنے گی،چنانچہ بدلہ لینے کے انتظار میںآٹھ ماہ ننگے پائوں رہی ۔کیس کے تفتیشی انور گھمن کے مطابق مذکورہ خاتون نے بیٹے کے قتل کے ملزم نعمان کوللکارا کہ میں بیٹے کا بدلہ لینے آ گئی ہوں، اس کے ساتھ ہی شوٹرز نے اس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کردیا۔ ملزمہ اپنے دوسرے بیٹے کے ہمراہ اس وقت ہماری حراست میں ہے۔ لیکن بیٹے کا بدلہ لینے کی وجہ سے مطمئن اور پرسکون ہے۔یعنی جیت گئی ممتا اور ہار گیا قاتل۔

مزید پڑھیں جنرل نیازی کے بعد اِک اور نیازی بہت دیر یاد رہے گا

یہ واقعہ ہمارے نظام انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پہلے تو انصاف میں تاخیر ہی انصاف نہیں اور دوسرا ملزم کا بالکل بری ہوجانانظام انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔اس وقت مذکورہ گو قانون کی نظر میں ملزمہ لیکن عوام کی نظر میں ہیرو ہے۔ اس کیس کو یقینا تفتیشی افسر نے خراب کیا ہے اور اس میں اتنی خامیاں چھوڑی گئی ہیں کہ عدالت کے پاس ملزم کو بری کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ لیکن سوال یہ کہ اس کیس کے تفتیشی افسر کو اب تک کیا سزا دی گئی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ شجر عباس ہمدانی کے مطابق ناقص تفتیش پر تفتیشی افسر اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داروں کو بھی سزادینی چاہیے ورنہ تفتیشی افسراور پراسیکیوشن کے ذمہ دار ناقص رپورٹیں بناتے رہیں گے اور انکی مجرمانہ کوتاہی سے عدالتیں بدنام ہوں گی۔ہمارے ہاںقتل کے مقدمات میں پولیس قاتل اور مقتول کے ورثاء دونوں سے پیسے لیتی ہے ۔

مزید پڑھیں آرمی چیف سروس توسیع فیصلے کے بعد اسلام آباد میں قومی حکومت کی باز گشت

لیکن کیسز خراب کرنے پران کے خلاف محکمانہ کاروائی کی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق جس شخص کو پاکستان میں ایک پولیس کیس کا سامنا کرناپڑے وہ غربت کی لکیر کے نیچے چلاجاتا ہے۔
نہج البلاغہ میں مولاعلی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ” نماز شب (تہجد) میں جوبھی دعا مانگی جائے ،قبول ہوتی ہے بشرطیکہ ما نگنے والا ظالم پولیس والا،سرکاری ٹیکس اکٹھا کرنے والا، گانا اور ڈھول بجانے والا نہ ہو”۔

مزید پڑھیں ایکس ٹینشن کی ٹینشن اورٹینشن فری عمران حکومت کو اب واقعی ٹینشن

ممتا کی تصویر کشی شیخ سعدی نے کچھ اس طرح کی ہے کہ ”ہرمرد اپنے آپ کو عقیل جبکہ ہرعورت اپنے بیٹے کوشکیل سمجھتی ہے”۔قرآن مجید میں لفظ ماں کا ذکر84مرتبہ آیا ہے۔اللہ تعالی نے ماںکا رشتہ ہی ایسا بنایا ہے کہ وہ کسی صورت بھی اپنی اولاد کے قاتل کو معاف کرہی نہیں سکتی۔
کلرکہارچک مصری میں افضل بی بی نامی بیوہ جواپنی دلیری اور جرات کی وجہ سے علاقے بھر میں مشہور تھیں۔ انکے لیے مزید بیٹے بیٹیاں موجود ہونے کے باوجود مقتول بیٹے کی موت جان لیوا ثابت ہوئی۔
اس دکھ کا احساس کوئی ماں ہی بہتر کرسکتی ہے۔”جس تن لاگے سوتن جانے”۔
خدانے یہ صفت دنیا کی ہر عورت میں رکھی ہے
ماں پاگل بھی ہوجائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں

مزید پڑھیں خان صاحب !اب نہیں توپھر کب؟

چینیوٹ ،سانگرہ سادات میں ظفر عباس نامی نوجوان کے اچانک غائب ہونے کے بعد کچھ روز تک بازیاب نہ ہونے پر جب اس کی ماں بہت زیادہ پریشان ہوئی توبیٹے نے خواب میں بتایا کہ اسے فلاں جگہ بھوسے کے سٹور میں قتل کرکے چھپایا گیا ہے۔ چنانچہ جب مذکورہ جگہ کی تلاشی لی گئی تو کچھ روز قبل قتل کے بعد بھوسے میں چھپائی گئی لاش برآمد ہوگئی ۔
پاکستان کے پراسیکیوشن کے نظام پرآزادکشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چوہدری ریاض اختر کی رائے سند کا درجہ رکھتی ہے ۔ جنھوں نے اپنے دور میںتمام ماتحت عدالتوں کو قتل کے کیسز کا فیصلہ ہر صورت صرف تین ماہ میں کرنے کا حکم دے رکھا تھا ۔ ایک مرتبہ اپنی رپورٹنگ ٹیم کے ہمراہ میرپور میں ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ان کا کہناتھاکہ جوں جوں وقت گزرتاہے ،لوگوں کی ہمدردیاں مقتول کی بجائے قاتل کے ساتھ ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔لوگ یہ کہنا شروع ہوجاتے ہیں کہ چاہے قاتل یا اس کا پورا خاندان پھانسی پر چڑھ جائے لیکن مقتول نے تو اب واپس آنا نہیں اورنہ ہی اس کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کو ہونیوالے دکھ کا ازالہ اب ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں بس عمران اب بس

اس لیے معززین علاقہ کے ذریعے درمیانہ راستہ نکال کرصلح کروائی جائے ،اس طرح فریقین میں مستقل دشمنی بھی ختم ہوجائے گی۔ اس صورتحال کا اثر قتل کی تفتیش پر انتہائی منفی پڑتا ہے، اس کے بعد گواہ منحرف ہونا شروع ہوجاتے ہیں کہ جب آگے چل کر راضی نامہ ہوجانا ہے توہماری دشمنی مفت میں جاری رہے گی۔ریاض اختر صاحب کا کہنا تھا کہ ان حالات کے پیش نظر تمام عدالتوں کو قتل کے مقدمے، اس کی اپیلوں کے فیصلے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا ہے ، دوسری صورت میں جج صاحبان کو تحریری طور پر اس کی وجوہات بتانا پڑیں گی۔ یہ پالیسی کچھ عرصہ بہت کامیابی سے چلی لیکن بعدازاں ریاض اختر صاحب کو ہی ہٹادیاگیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو چاہیے کہ وہ آزادکشمیر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس چوہدری ریاض اختر کی طرز پرتین ماہ کے اندر یا کم سے کم وقت میں قتل کے مقدمے کا فیصلہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں۔ اگر سیالکوٹ کی پروین کی طرح پاکستان بھر کے ہزاروں مقتولین کی مائوں نے مایوس ہوکر خود قاتلوں سے انتقام لینا شروع کردیا توبہت خطرناک ہوگا۔
دعا ہے کہ تمام قارئین دوستوں کی والدہ ہمیشہ سلامت رہیں ۔
آخر میں تابش کا ما ں بیٹے کی محبت پر لکھا گیا ایک بے مثال شعر

مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔