بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » بلاول کی آواز بند نہیں بلند ہورہی ہے ،کیوں؟

بلاول کی آواز بند نہیں بلند ہورہی ہے ،کیوں؟

تحریر سید تبسم عباس شاہ
پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زردا ر ی ، انکی بہن فریال تالپوراور خورشید شاہ سمیت اہم ر ہنما ئوں کی گرفتاری اور نیب کا نوٹس ملنے کے بعد بلاو ل بھٹو کی آوازبند ہونے کی بجائے مسلسل بلند اور لب و لہجہ سخت ہورہا ہے ۔جس کے حوالے سے مختلف حلقوں میں مختلف چہ میگوئیاں ہورہی ہیں اس وقت ان کے خلاف لکھنا آسان لیکن حق میں لکھنا بہت مشکل ہے لیکن میرا اس حوالے سے نقطہ نظر بالکل مختلف ہے۔

بلاول بھٹو

بلاول جس کا نانا راولپنڈی میں شہید ہوا، ماں اسی شہر کے لیاقت باغ میں دن دیہاڑے بزدلوں کے ہاتھوں گولیاں کھاکر شہید ہوئیں، باپ اور پھوپھی جن پر کیسز سند ھ کے تھے لیکن بند یہا ں ر ہے ۔اس کے باوجود وہ اگر اسی شہر میں بالکل اسی مقام پرجہاں وہ شہید ہوئی تھیں،بالکل اسی دن ، ا سی وقت برسی کی مناسبت سے جلسہ کر نے جا ر ہاہے تو اس سے یہ تو پتا چلتا ہے کہ کم از کم وہ موت سے تو نہیں ڈرتا۔ سیانے کہتے ہیں جوموت سے نہیں ڈرتا وہ کسی سے نہیں ڈرتا ،اس سے پھر سب ڈرتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو

لیکن شیخ سعدی کہتے ہیں ”اس سے ڈرو جو تم سے ڈرتا ہے”۔
مرنے کے لیے تو وہی تیار ہوتا ہے جو کرپٹ نہیں ہوتا، کرپٹ کہاں مرنے کے لیے تیا ر ہوتا ہے۔بلاول کا اگر خاندانی پس منظر دیکھیں تومعلوم ہو گا کہ اس میں کتنی اداسی اور سوگواری ہونی چاہیے ۔

نانا، ماں حتی کہ دونوں ماموں سمیت پورا ننھیالی خاندان قتل ، اس ماحول میں پلنے بڑھنے کے بعد بھی جو آواز بند نہیں، بلند ہوئی بلکہ مسلسل بلند ہوکر اپنے سیاسی مخالفین کا سکون غارت کررہی ہے ۔ وہ آواز بلاول کی ہے جس کے خلاف کبھی شیخ رشید ،کبھی مراد سعید ، تو کبھی گلی محلے کے لونڈے لپاڑے، پھرنوبت یہاں تک آپہنچتی ہے کہ عمران خان جو آج کل پاکستان کے وزیراعظم اور ”نئے پاکستان ” کے بانی ہیں وہ بھی ان کی نقلیں اتارتے اتارتے خود نقل بنتے جارہے ہیں لیکن بلاول نے اس کے باوجودحکومت کو ہر ایشو پر ایکسپوز کرنا بند نہیں کیا۔

بی بی شہید کے بچوں کی زندگی پرذرا نظرتو ڈالیں، ماں پاس ہے تو باپ قید، باپ رہا ہو ہی گیا تو ماںکی ممتا سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیے گئے۔
بلاول بھٹو، بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو وہ بچے ہیں جنھیں بہت عرصہ شفقت پدری جبکہ ماں کی ممتا سے ہمیشہ دور اور محروم کیا گیا۔ انکی زندگی میں بہت کم و قت ایسا ہوگا جب انھیں اکٹھے ماں کا سایہ اور باپ کی شفقت نصیب ہوئی ہوگی۔اس ماحول میں اگر کوئی عام بچہ پلے بڑھے تو ساری زندگی ذہنی مر یض ہوگالیکن انھوں نے تو اپنے مخالفین کو ذہنی مر یض کیا ہوا۔

بختاور بھٹو

ایسے میں ان کے مخالفین بھی حیران ہیں کہ کیا طاقت ہے جو انھیں ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بی بی شہیدکے مشن سے پیچھے ہٹنے نہیں دیتی۔ بالا آخر وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ بلاول بھٹو زر دا ری کے لیے والد ، پھوپھی اور قریبی ساتھیوں کی گرفتاری در گرفتاری کمزوری نہیں ، مضبوطی کا سبب بنی ہے اور وہ مضبوط ا عصاب کے حامل لیڈر کے طورپر سامنے آرہے ہیں۔ انکے والد کے خلاف یہاں تک پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ا تنا کرپٹ ہے کہ اسے جس کا گھر ، کاروبار،حتی کہ بیوی بھی پسند آجائے وہ بھی چھین لیتاہے ۔ کرپشن کے الزامات تو ایسی فہرست ہے ، جیسے پاکستان میں تمام جرائم اسی ایک شخص کے دم سے ہیں ۔ لیکن سب حیران ہیں کہ ان الزامات کے باوجود انھیں عوام کے دلوں سے نکالا نہیں جاسکا۔ یقینی طور پر اس کی وجوہات ہیں۔

ن لیگی حلقوں کیلئے میاں نواز شریف کی طرف سے شہباز شریف کے بجائے بلاول بھٹو زرداری یا خورشید شاہ کووزیر اعظم بنانے کی خواہش جہاں حیرت کا سبب ہے وہیں واقفان حال کے مطابق موجودہ حالات میں بلاول کے عمران حکومت کے خلاف دلیرانہ موقف سے میاں نوازشریف کا متاثر ہونا ہے۔

آصفہ بھٹو

حالیہ مثال بے نظیر انکم سپورٹ کی لے لیں ۔ جس کے پروگراموں سے مستفید ہونے والے افراد کے سروے میں 80فیصد لوگوں کی رائے نے عمران حکومت کو نہ صرف حیران بلکہ بالکل پریشان کر کے رکھ دیا ہے کہ انھیں یہ امداد بے نظیر بھٹو شہید یا ان کے خاندان کی طرف سے آرہی ہے۔جس کے بعد حکومت نے پہلے پروگرام کو مکمل طورپر بنداور اب پھر اسکا نام تبدیل کر دیا ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اب بھی اس پروگرام کے تحت57لاکھ خواتین کو ہر تین ماہ بعد پانچ ہزار روپے جبکہ پرائمری سکول سطح کی تعلیم کے لیے 21لاکھ لڑکیوں اور لڑکوں کو 1000ہزار اور750روپے امداد دی جارہی ہے۔ جبکہ گذشتہ پی پی پی دور حکومت میں” وسیلہ حق ”کاروبار کے لیے 3لاکھ روپے بغیر سود قرض حسنہ، وسیلہ صحت کے تحت ہیلتھ کارڈ، غریب خاندان کی ایک بچی یا بچے کو نیوٹیک سے مفت فنی تعلیم دلوانے کا وسیلہ روزگار پروگرام،بیوہ خواتین کی امداد کے لیے ایک لاکھ سمیت دیگر پروگرام شروع کیے گئے جن کو بعد ازاں ختم کردیاگیا ۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری

صحافی دوست رائو احسان الحق کے والد جو گذشتہ دنوں انتقال فرماگئے (اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے) زرداری صاحب کے لیے روزانہ اس لیے دعا کرتے تھے کہ انکی حکو مت نے انکی پنشن میں مناسب اضافہ کیا تھا جو نہ پہلے کسی نے کیا نہ ہی بعدمیں کسی کو توفیق ہوئی ۔عمران خان کا تو نام سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے، کہتے تھے اسے عام آدمی کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی رائے چھوٹے، بڑے سرکاری ملازمین اور بڑے بڑے بیوروکریٹس کی بھی ہے۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ انکی بنیادی تنخواہوں میں کئی سال بعداضافہ اور رننگ تنخواہوں میں 60فیصدتک ا ضافے کا کریڈٹ صرف پی پی پی حکومت کو ہی جا تاہے، نواز شریف نے 10فیصد جبکہ عمران خان نے ساڑھے7فی صد اضافہ کیا ہے۔

تبسم عباس شاہ کے دیگر کالم پڑھیے ،
ماں پاگل بھی ہوجائے تو بیٹے یاد رہتے ہیں
جنرل نیازی کے بعد اِک اور نیازی بہت دیر یاد رہے گا
بس عمران اب بس
ایکس ٹینشن کی ٹینشن اورٹینشن فری عمران حکومت کو اب واقعی ٹینشن

کلرکہار سے بزرگ شہری شیخ محمد خان کہتے ہیں بیرون ملک پاکستانیوںکے لیے روزگار کے دروازے اوپن کروانے کاسہرا صرف ذوالفقار علی بھٹو کے سرہے ، عام آدمی کو زبان دی ، باپ نے ملک کو ایٹم بم دیا ، بیٹی نے میزائیل ٹیکنالوجی دی لیکن پھر بھی وہ وفا دا ر نہیں تو کوئی بھی وفادار نہیں۔اگرتعلیمی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو بخوبی معلوم ہوگا کہ سب سے زیادہ تعلیمی ادارے بھی بھٹو دور میں بنے، عالمی دنیا میں پاکستان کے کردار کو منوایا ، مسلم بلاک کی بنیاد رکھی ۔جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے دشمن ان کے خون کے پیاسے ہوگئے۔

بینظیربھٹو

راولپنڈی سے پی پی کے دیرینہ کارکن شبیر عباس عابد کہتے ہیں کہ یہا ں کا باوا آدم بالکل نرالا ہے جو اپنی قائد اور بیوی کی شہادت کے موقع پاکستان کھپے کے نعرے لگائے اس کی حب الوطنی مشکوک اور جوکشمیر کا سودا کرے وہ سب سے بڑاہیرو۔ میں نہیں کہتا کہ پی پی میں سب فرشتے ہیں، ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں ۔ خصوصا زرداری صاحب نے ا پنے بچپن کے دوست انجم شاہ، فوزی کاظمی، اسد کریم سمیت درجن کے لگ بھگ قریبی افراد کے سا تھ جو سلو ک کیا اسے پی پی کے اندر بھی اچھا نہیں کہا جاتا اور اس کا نقصان بھی انھیں اٹھانا پڑ ر ہا ہے ۔ لیکن ان تمام تر خامیوں کے باوجوداگرپچاس سال پا کستان پیپلزپارٹی مری نہیں تو پھر اس میں ایسی بات ضرور ہے جس نے اسے مرنے نہیں دیا ۔ا ور اس میں بھی شک نہیں کہ اس میں بہتری کی کہیں زیادہ گنجائش ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو چاہیے کہ پنجاب سمیت ملک بھرمیں ناراض نظریاتی کارکنوں کو آگے لائیں اور فصلی بیٹروں سے جان چھڑ وا ئیں ، اس طرح ان کی آواز میں اتنی آوازیں شامل ہو جائیں گی کہ کوئی بھی بند کرنا مشکل ہو جا ئے گا۔

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔