بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » کیا سب مسلمان کافر ،ہم سمجھ دار یا سمجھ سے دور؟

کیا سب مسلمان کافر ،ہم سمجھ دار یا سمجھ سے دور؟

کیا سب مسلمان کافر ،ہم سمجھ دار یا سمجھ سے دور؟

پہلے سب کہتے تھے کہ اتنی زیادہ مصروفیت ہے کہ فرصت بالکل بھی نہیں، ا ب کہتے ہیں کہ فرصت ملی بھی تو ایسی کہ فرصت سے فرصت ہی نہیں ہے۔ پہلے جو مصروفیت سے تنگ تھے اب فرصت سے تنگ ہیں ۔اوراتنے تنگ ہیں جودن کو بھی اذان نہیں سنتے تھے وہ رات دس بجے بھی اذان دیتے نظرآتے ہیں۔لیکن کر کچھ نہیں سکتے، جو پہلے ”میں میں ”کرتے تھکتے نہیں تھے ۔

اب بڑے بڑے تیس مار خان چاروں شانے چت کرونا سے پناہ ڈھونڈتے نظرآرہے ہیں۔شکر ہے کہ کرونا کا کوئی فرقہ نہیں، حالانکہ ہم نے پہلے اسے زائرین اور پھرتبلیغیوں سے نتھی کرنے کی پوری کوشش کی۔اب ہندوستان والے اسے مسلمانوں سے جوڑکر نفرت کا نشانہ بنارہے ہیں۔ہندووں کی مسلمانوں سے نفرت تو سمجھ آتی ہے لیکن مسلمانوں کی مسلمانوں سے نفرت سمجھ سے بالاتر ہے، جو اکثر دلوں سے نکل کر زبان پر آجاتی ہے۔”مسلمان فیس بک مجاہدین” کی آئے روزسوشل میڈیا پرایک دوسرے کو نیچادکھانے کی مشقیں اس کی بدترین مثالیں ہیں۔

کسی وقت بھی ختم ہوسکتی ہے؟

ہماری اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ ہم کبھی مخالف فرقے پر کرونا کے حملے کواس طرح فاتحانہ اندازمیں عذاب سے جوڑ تے نظر آتے ہیں جیسے کروناخودتو ہمارا دینی بھائی ہو اور ہمارے مخالفین کی ایسی تیسی کررہا ہو۔لیکن جب ہم پر حملہ کرتا تو پھر اپنی زبان سے نکلے الفاظ کو بھول کرخدا کی پناہ مانگنا شروع کردیتے ہیں۔

قیام پاکستان کی تحریک کو ناکام بنانے کے لیے اغیار نے ہمیں سنی شیعہ میں خوب تقسیم کیا ہواتھا ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کوکراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کی میٹنگ میں ایک صاحب نے کھڑے ہوکرکہہ دیا کہ ہم آپ کو ووٹ قطعا نہیں دیں گے کیونکہ آپ شیعہ اور ہم سنی ہیں ۔ قائداعظم ایک لمحے مسکرائے اور پھر فرمایا کہ آپ گاندھی کو ووٹ دیں گے؟۔وہ صاحب کہنے لگے جی۔جس پر قائد اعظم نے کہا کہ گاندھی کو ضرورووٹ دیجیے ، کیونکہ وہ تو پکے سنی ہیں۔یہ بات سن کر حاضرین ہنس پڑے اور مذکورہ شخص شرمندہ ہوگیا۔

قیام پاکستان کے بعد تو ہمیں ان غلطیوں سے سیکھنا چاہیے تھا ۔ نفرت پر آئیں تو اپنوں کو اپنا نہیں مانتے تھے اور محبت پر آئیں توغیروں کی محبت میں اتنے آگے چلے جاتے ہیں کہ واپسی کا راستہ ہی چھوڑ جاتے ہیں۔نہ نفرت کی ٹھوس بنیاد ہے اور نہ محبت کی۔ تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کی مخالفت میں کچھ مسلمان ہی یہاں تک نعرے لگاتے تھے کہ َ
1۔”مسلم لیگ

مارو جوتیاں کرولو ٹھیک”
2۔”ہندو،مسلم ،سکھ ،عیسائی
آپس میں ہیں بھائی بھائی”

ہماری تربیت اتنی غلط ہوگئی ہے کہ ہر ایشوچاہے وہ سائنسی، طبی یا سماجی ہو، اسے فرقہ وارانہ نگاہ سے دیکھنا ہے۔ اپنی نظر میں بہت سمجھ دار ہیں لیکن درحقیقت سمجھ سے بہت دور ہوگئے ہیں اور اتنادور کہ کرونا وائرس پر جو مجموعی سوچ سامنے آئی ، اس پر رونا آتا ہے کہ وائرس کو وائرس سمجھ کر اس کاتوڑ کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں۔

بلاول کی آواز بند نہیں بلند ہورہی ہے ،کیوں؟

جہالت کا وائرس کرونا وائرس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔کرونا وائرس تو زیادہ سے زیادہ جان لیوا ہوسکتا ہے لیکن جہالت کا وائرس کم ازکم ایمان لیوا، سوچ لیوا ہے۔اس لیے آج کل کمزور جان کی جان اور کمزور ایمان کاایمان شدید خطرے میں ہے۔جہالت کے وائرس نے عقل پراتنے پردے ڈال دیے ہیں کہ حالت بالکل اس شخص کی جیسی ہو گئی ہے ۔جس کے دماغ پر پاگل کتے کاٹنے کے ریبیز نے غلبہ کرلیا ہو تو اسے صرف کتے دکھائی دیتے ہیں۔اس کیفیت کے بعدجلد موت واقع ہوجاتی ہے۔

فرقہ وارانہ وائرس زدگی کا اندازہ اس سے لگاسکتے ہیں کہ ایسے لوگ تیزی سے کم ہوتے جارہے ہیں جو اسلام کی ایسی تشریح پیش کریں جس سے سارے پاکستانی مسلمان ثابت ہوسکیں۔ اب توایسی تشریحات چل رہی ہیں کہ اگر انکے مطابق فیصلہ کیاجائے تو آدھی سے زائد آبادی پکی کافر ثابت ہوجائے ۔اب تو فرقوں کے اندر اتنے فرقے بنتے جارہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ روس میں عرصہ دراز سے پاکستانی کمیونٹی کے صدر نور حبیب شاہ کہتے ہیں کہ ہمارا یہ حال ایسے ہی نہیں ہوا ۔

اس میں نام نہاد ملاں کا بہت کردار ہے۔ ان کے قوم کے ساتھ لطیفوں کااگر جائزہ لیا جائے تو انسان پریشان ہوجاتا ہے کہ ماضی میں ہمارے ساتھ کیا کیا ہوتارہا ہے۔

پہلے کہتے تھے انگریزی پڑھناحرام ہے، اب سب بچے انگلینڈمیںپڑھانے کے متمنی ہیں۔
پہلے بجلی کا استعمال حرام کہتے تھے، اب بجلی کے بغیر زندہ بھی نہیں رہتے۔

پہلے گیس کو مردوں کی گیس کہتے تھے اب اس کے بغیر کھانا حرام سمجھتے ہیں۔
پہلے تصویر بنانا حرام قرار دیتے تھے، اب ہروقت اپنی تصویریں سوشل میڈیا پر چڑھاتے نظرآتے ہیں۔

پہلے سپیکر کوشیطان کا چرخہ کہتے تھے، اب سپیکرسے دوررہنے کو موت سمجھتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ ان کا تعلق دیوبندی گھرانے سے ہے ، لیکن شیعہ ، بریلوی سب مسلمانوںسے سگے بھائیوں کی طرح محبت کرتے ہیں۔

جنرل نیازی کے بعد اِک اور نیازی بہت دیر یاد رہے گا

مزید کہتے ہیں کہ دنیا ہمیں شیعہ سنی، وہابی نہیں ، صرف مسلمان دیکھتی ہے لیکن ہم صرف مسلمان نہیں بننا پسند نہیں کرتے حالانکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سب صرف مسلمان تھے، کوئی فرقہ نہ تھا،نان ایشوز میں پھنس کراتنے گمراہ ہوگئے ہیں کہ منزل کے الٹ سمت چلنا شروع ہوگئے ہیں، سائنس ہمارا ورثہ تھا، جابربن حیان، ابن سینا ، ابوریحان البیرونی سمیت درجنوں نامورسائنسدان اسلامی درسگاہوں کی ہی پیداوار تھے، جابر بن حیان امام جعفرصادق علیہ السلام کے شاگردتھے۔

واصف علی واصف کہتے تھے کہ” منافق وہ جو اسلام سے محبت کر ے لیکن مسلمانوں سے نفرت ” ۔ اگرہمیں خالق سے محبت ہے تواس کی مخلوق سے نفرت کیسے کرسکتے ہیں؟

مولاعلی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ” مخلوق ،خدا کا کنبہ ہے”۔
بزرگ کہتے تھے کہ خدا اپنے بندے سے 70مائوں سے زیادہ پیارکرتا ہے۔ایک ماں کا پیار ناپنے کے لیے ابھی دنیا میں کوئی آلہ ایجاد نہیں ہوا تو 70مائوں کے پیار کوماپناانسانی تصور سے باہر ہے۔
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندہ بنوں گا، جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔