بنیادی صفحہ » پاکستان » اب تو گناہوں سے توبہ کر لیں

اب تو گناہوں سے توبہ کر لیں

تحریر :ملک فداالرحمن

اب تو گناہوں سے توبہ کر لیں

ایسے لگتا ہے کہ لوگوں میں خوفِ خدا ختم ہوتا جا رہا ہے۔جس کا جو دل کرتا وہ وہیں اپنے ہاتھ رشوت کے خون میں رنگنے سے باز نہیں آتا۔کورونا ایسی وباء آئی ہے کہ کافروں نے بھی تلاوت پاک کرنی شروع کر دی۔اولیائے اللہ سے دعائیں منگوانا شروع کر دی گئی ہیں۔

گنہگاروں نے بھی مصلے بچھا لیئے ہیں ۔ لیکن یہ شاید وہ گنہگار ہیں جو لاک ڈاؤن اور ساتھ رمضان کے مہینے میں کسی قسم کی کوئی کرپشن کرنے کے قابل نہیں ۔لیکن اس کے برعکس جو لوگ کچھ بھی بے ایمانی ، کرپشن کر سکتے ہیں وہ کرپشن کو کرپشن سے ضرب دے کر مخلوقِ خدا کو ستا رہے ہیں ۔

مہنگائی کرنے والوں نے مہنگائی آسمانوں پر پہنچا دی ۔ جن لوگوں نے کورونا ٹیسٹ کرنے کے لائسنس حاصل کرلئے وہ ٹھیک ٹھاک لوگوں کو قرنطینہ کی نظر بند کئے ہوئے ہیں ان کو14دن کے ٹیسٹ کے لئے کہا گیا وہ اکیس اکیس دن سے لوگوں کو بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اور جو پیسے دیتا اس کو ساتویں دن صحت یاب ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کر کے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر محکمے ، ہر ادارے میں جو کچھ کوئی کر سکتا ہے وہ کر رہا ہے۔میرا بیٹا اور بہو ہانگ کانگ سے دو ہفتے کی رخصت پر آئے ہوئے تھے وہ دونوں ہانگ کانگ نیشنل ہیں اور وہاں جاب کرتے ہیں ۔

اعظم فردوس لڑائی،عمران حکومت کیلئے کتنی تباہ کن؟ اہم انکشافات

انہیں کورونا کی وجہ سے سات ہفتے رکنا پڑگیا۔انہوں نے پاکستان میں چائنا ایمبیسی کے علاوہ ہانگ کانگ گورنمنٹ کو ای میلز لکھیں کہ ہمارا واپس جانے کا کوئی انتظام کیا جائے ۔چند دن پہلے انہیں اطلاع ملی کہ پی آئی اے کی اسپیشل فلائٹ آ رہی ہے آپ آ جائیں ۔ان کے ساتھ تین ماہ کا بچہ بھی تھا ۔ جب وہ ٹکٹ لینے گئے تو پی آئی اے ٹکٹ کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے کہا کہ اس بچے کا بھی پورا ٹکٹ ہو گا۔

انہوں نے شور کیا کہ تین ماہ کا بچہ الگ سیٹ پر سفر نہیں کر سکتا لیکن اس کلرک بادشاہ نے سخت بحث و مباحثہ کے بعد انہیں رعائتی ٹکٹ دیا۔وہ بھی ان کا شور سن کر کوئی سینئر افسر اندر سے اٹھ کر آیا ۔اس نے جو الفاظ ادا کئے وہ آپ بھی سن لیں(چل یار چھوڑ ان بے چاروں کو رعائتی ٹکٹ ہی دے دیں )اس پر میرے بیٹے نے پھر احتجاج کیا کہ جب تک آپ یہ الفاظ واپس نہیں لیں گے ہم ٹکٹ نہیں لیں گے۔

ہم بے چارے نہیں ہیں ، اس لئے بے چارہ کا لفظ ختم کیا جائے۔ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں اور قیام ِ پاکستان سے ایسا ہی ہورہا ہے۔جب شفقت کی ضرورت تھی گود چھن گئی۔سہارا تلاش کیا تو بیساکھیاں ٹوٹ گئیں ۔اس ذاتِ کریم نے پاؤں میں سکت، ہاتھوں میں طاقت اور خون میںحرارت دے دی۔معاشرتی رشتوں کا سہارا ڈھونڈا تو منافقت اور خود غرضی سے واسطہ پڑا۔تو اس وقت ذاتِ اقدس نے جرأت نمو دے دی۔خودداری کا ذوق دے دیا۔

جدوجہد کی ٹھانی تو عزتِ نفس پر حملے ہوئے۔ٹانگیں کھچی تو خود اعتمادی نے اپنا رنگ دکھایا۔خون کی گرمی نے کروٹ لی تو تکبر کا منظر دیکھا۔فوراً احساس ندامت کے جذبے نے اپنی نفی کاجذبہ ابھارا۔جھوٹ، مکاری اور منافقت کے اس دور میں شرافت ، دیانت اور خلوص کے مذاق اڑاتے دیکھا۔انتقامی جذبے ابھرے۔اس انداز کو اپنانے کی ٹھانی تو شان کبریا کی جھلک نے شرارت اور شیطانی ارادے کافور کر دئیے۔انسانیت کے دشمن خودغرض و چالاک کھوٹے سکوں کی جھنکار دیکھی تو رزق حرام، بددیانتی اور مکاری کی بو آئی جس سے جذبہ نفرت ابھرا۔

سب کچھ کیوں ہوا۔اس خاک کے پتلے میں یہ اندھیرے ، یہ روشنیاں کہاں سے پھوٹیں ۔کون ہے جو انسان کو اس گندگی اور دلدل سے نکالتا ہے۔کس کے قبضہ ٔ قدرت میں عفوودرگزر کا میزان ہے۔وہ کس طرح انسان کے اندر انسان کو چوکس رکھتا ہے۔وہ کس طرح مشکلات اور آسانیوں میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔وہ کس طرح جذبات کی مضبوطی ، احساسات کی درستگی اور پختگی انسانی سوچ میں ابھارتا ہے۔ وہ کس طرح نیتوں کی درستگی میں اپنی رہنمائی فرماتا ہے۔

صبر کی توفیق دیتا ہے۔ عمل کی سوچ دیتا ہے۔یہ اس ذات قدوس کی خصوصی عنایت ہے کہ انسان اپنے ضمیر کی آواز سے واقف ہو اپنا احتساب خود کرے۔انسانی حقیقت کا احساس ہر وقت اس کی زندگی کا ساتھ دے۔ شیطانی عمل کو پہنچاننے کی کوشش کرے۔

اپنے اندر جھانکے۔گردونواح میں تاریکیوں اور ظلمتوں کے تلخ جھونکوں کو محسوس کرے۔استقامت کی راہ میں جدوجہد کو شعار بنائے۔مقابلے کے مثبت رویے اپنائے۔کانٹوں میں الجھ کر زندگی کی خو پیدا کرے۔

انسانوں میں اتفاق اور اتحاد کی روشنیاں جلائے۔نفرتوں کے جھنکوں سے کنارہ کشی اختیار کرے۔دست قدرت کو تھامے، اپنے آپ پر بھروسہ کرے۔کسی کے مٹانے سے انسان کبھی نہیںمٹتا۔ میں تحریر کے وقت اپنی آواز کی بے بسی سے غافل نہیں ، مجھے اس دہر میں انسانیت کی بے حسی کا بھی احساس ہے۔ مجھے معاشرتی ستم ظریفیوں کا بھی ادارک ہے۔مجھے سوچو فکر سے خالی مصنوعی اور نمائشی جادوگری کے پیچ و تاب بھی نظر آ رہے ہیں ۔مجھے مصنوعی ماحول میں آسروں کے دھوئیں بھی منڈلاتے نظر آ رہے ہیں ۔

مجھے اپنی سوچ اور فکر کے دائروں کی ہلچل کا انجام طوطی کی آواز نقار خانے میں گم ہوتی نظر آرہی ہے۔لیکن جو دھڑکن اس مادروطن کے زخم خوردہ لاشے پر آہ و فغاں میں سرگرداں آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرنے کی فکر میں بے چین ہے۔بے حسی کے عالم میں درد اور تڑپ میں پگھل رہی ہے۔

اسے روائتی سوچ کے حوالے کرنا اور ڈوبنے کے خدشے سے آنکھیں بند کرنا زندگی دینے والے کی مہربانی سے روگردانی ہے۔ارباب اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کے پیچیدہ راستے اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ۔میں خودداری کے آداب سے بھی ناواقف نہیں۔حاضریوں کے شوق سے اپنی فطرت ناآشنا، اخلاص کی بھٹی میں سلگتی ہوئی سوچ سب اسی راستے کی رکاوٹیں ہیں ۔ مگرروشنیوں کے وہ جذبات جو اس وطن کے دکھ درد میں اپنے ساتھ ہیں، کبھی کبھی خود بخود پھوٹنے پر مجبور کرتے ہیں اور کچھ کہنے اور لکھنے پر مجبور کرتے ہیں ۔

x

Check Also

وفاقی حکومت کا ٹیلی ہیلتھ پورٹل بنانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا ٹیلی ہیلتھ پورٹل بنانے کا فیصلہ

عالمی وبا کورونا وائرس کی ملک میں صورتحال کو مدد نظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیلی ہیلتھ پورٹل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔