بنیادی صفحہ » ایکسکلوسوز » اخبارات ،ٹی وی چینلز،سوشل میڈیا کی نگرانی کیلئے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کافیصلہ

اخبارات ،ٹی وی چینلز،سوشل میڈیا کی نگرانی کیلئے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کافیصلہ

سوشل میڈیا (فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، لنکڈان)کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائیگی

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فوادچوہدری کی وزارت کے اعلی افسران کو PMRAقائم کرنیکی ہدایات ، ڈی جی منظور علی میمن کو لائحہ عمل تیار کرنیکی ذمہ داری سونپ دی گئی

 الیکٹرانک میڈیا کیلئے پیمر،اخبارات کیلئے پریس کونسل آف پاکستان جیسے اداروں کی موجودگی میں نیا ادارہ بنانے کی کوئی دلیل نہیں،صحافتی حلقوں،میڈیا تنظیموں نے مخالفت کرد

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ :سید تبسم عباس شاہ)وفاقی حکومت نے اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کی نگرانی اور ریگولیٹ کرنے کیلئے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے وزارت اطلاعات و نشریات نے باضابطہ طور پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے دوبارہ وزارت اطلاعات و نشریات کا چارج سنبھالنے کے بعد وزارت اطلاعات و نشریات کے اعلی افسران کے ساتھ ابتدائی میٹنگ کے دوران ہی ہدایات دی کہ پاکستان میں اخبارات کے حوالے سے شکایات کے ازالے کیلئے پریس کونسل آف پاکستان اور ٹی وی چینلز کو ریگولیٹ کرنے اور شکایات کے ازالہ کے لیے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)موجود ہے جبکہ سوشل میڈیا کی نگرانی اور اس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے اس لیے فوری طور پر پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے ادارہ قائم کیا جائے جو ہر طرح کے میڈیا(اخبارات، ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا)کے حوالے سے شکایات کا جائزہ لے اور ان کا ازالہ کر سکے۔

اس حوالے سے وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر جنرل منظور علی میمن کو ذمہ داری سونپی گئی ہے جو اسکے قواعد و ضوابط، لائحہ عمل اور طریقہ کار کے حوالے سے سفارشات تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پریس کونسل آف پاکستان اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو ضم کرکے ایک نیا ادارہ بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور اس میں سوشل میڈیا (فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، لنکڈان)کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی جو پیمرا اور اور پی سی پی کی طرز پر سوشل میڈیا کی نگرانی، قواعد و ضوابط اور شکایات کے ازالے کے لیے کام کرے گا،اس ادارے میں شکایات کی وصولی،جانچ پڑتال اور ان پر ایکشن لینے کیلئے لائحہ عمل بنایا جارہا ہے اس سلسلے میں ماہرین کی رائے بھی لی جائیگی۔

قبل ازیں 2018 میں وزارت اطلاعات و نشریات کا چارج لینے کے بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس پروجیکٹ پر کام شروع کروایا لیکن اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اس منصوبے کی اس بنا پر مخالفت کے اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر میڈیا کے خلاف استعمال کیا جائے گا اور بعد ازاں فواد چوہدری کی وزارت کی تبدیلی کے بعد اس پر مکمل طور پر کام ختم کر دیا گیا تھا۔

اس منصوبے کی کافی لوگ حمایت بھی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا قوانین نہ ہونے کی وجہ سے جس کا جیسے جی چاہتا ہے لوگوں کی پگڑیاں اچھال دیتا ہے ،حتک آمیز پوسٹیں چڑھائی جاتی ہیںلیکن ان شکایات کے ازالے کے لیے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی اور پریس کونسل آف پاکستان کی طرح کا کوئی فورم موجود نہیں ہے۔

دوسری جانب صحافتی حلقوں،میڈیا کی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے انکاموقف ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کیلئے پیمرا اور اخبارات کیلئے پریس کونسل آف پاکستان جیسے اداروں کی موجودگی میں نیا ادارہ بنانے کی کوئی دلیل نہیں ہے

x

Check Also

وزارت اطلاعات و اس کے 15 ذیلی اداروں ڈاون سائزنگ کا فیصلہ

وزارت اطلاعات و اس کے 15 ذیلی اداروں کی ڈاون سائزنگ کا فیصلہ

وزارت اطلاعات و نشریات اور اس کے 15 ذیلی اداروں میں میں نااہل، نکمے اور کرپٹ افسران اور ملازمین کی ڈاؤن سائزنگ کا فیصلہ کرلیا گیا ہے