بنیادی صفحہ » پاکستان » بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ بائیوسائنسز میں بدترین کرپشن اور بے ضا بطگیوں کا انکشاف

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ بائیوسائنسز میں بدترین کرپشن اور بے ضا بطگیوں کا انکشاف

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ بائیوسائنسز میں بدترین کرپشن اور بے ضا بطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد(صدائے سچ نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی سب سے بڑی سائنس فیکلٹی کے شعبہ بائیوسائنسز میں بدترین کرپشن اور بے ضا بطگیوں کا انکشاف

کامسیٹس سے ٹرمینیٹڈ, ڈنمارک نیشنل ڈاکٹر جابر زمان خٹک کو پہلے خلاف ضابطہ ٹی ٹی ایس پر اسسٹنٹ پروفیسر تعینات کرنے کے بعد ایچ ای سی اوراسلامی یونیورسٹی کے ٹی ٹی ایس کے تمام قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، اور ڈیپارٹمنٹل ٹینیور ریویو کمیٹی (ڈی ٹی آر سی) کی پروموٹ نہ کرنے کی سفارشات کے برعکس ٹینیورڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر تعینات کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف بیسک اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے شعبہ بائیولوجیکل سائنسز میں سب سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے ایسوسی ایٹ پروفیسر (ٹی ٹی ایس) ڈاکٹر جابر زمان خان خٹک ہیں جو کامسیٹس اسلام آباد سے اپنی خراب اور غیرمعیاری تعلیمی و تحقیقی کارکردگی اور ڈینیش نیشنل ہونے کی بنیاد پر ٹی ٹی ایس ملازمت سے برخواست کیے گئے تھے، جس کے فورا بعد لسانی و سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے وہ ستمبر 2010 میں اسلامی یونیورسٹی میں ٹی ٹی ایس پر اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہوگئے ،اس دوران وہ چیئرمین شعبہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل بھی بنائے گئے لیکن اپنے منفی رویے ، عدم کارکردگی اور نا اہلی کی بنیاد پر ان عہدوں سے چند ہی ماہ میں سبکدوش کردیئے گئے، علاوہ ازیں ڈاکٹر جابر نے یونیورسٹی کے خلاف ایچ ای سی میں براہ راست جھوٹی درخواستیں دیں جن کی تحقیق کے بعد جھوٹا ثابت ہونے پر ایچ ای سی نے بھی ان کو چیئرمین شپ اور ڈپٹی ڈائریکٹرشپ سے برطرف کرنے کی سفارش کی.

حکام بالا کے منظور نظر ڈاکٹر خٹک جونیئر اسسٹنٹ پروفیسر ہوتے ہوئے چیئرمین شعبہ بھی رہے لیکن ان کے جاری کردہ عام نوعیت کے نوٹیفیکیشن اپنی انگریزی کی فاش غلطیوں کی وجہ سے سوشل میڈیا میں اسلامی یونیورسٹی کی جگ ہنسائی کا باعث بنے.

دریں اثنا ڈاکٹر خٹک اور موجودہ چیئرمین ڈاکٹر ارشد ملک نے شعبہ کے انتہائی سینیئر پروفیسر ڈاکٹر زیڈ ایم خالد کی نیم پلیٹ کو انکے طلباء کے سامنے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کی تضحیک کی, دراصل ڈاکٹر زیڈ ایم خالد نے انکی ڈی ٹی آر سی میں قواعد و ضوابط کے خلاف انکو ایسوسی ایٹ پروفیسر پروموٹ کرنے کے لیے اندرونی و بیرونی سفارشات و دباو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے،کمیٹی کے دیگر ممبرز بشمول ڈاکٹر اشرف سابق چیئرمین پاکستان سائنس فاو نڈیشن اور ڈاکٹر عبد الحمید (مرحوم) سابق ڈین قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی متفقہ رائے کے مطابق میرٹ پر انکو پروموٹ نہ کرنے کی سفارشات پیش کی تھیں،یہ الگ بات کہ ڈنمارک سے لائے گئے تحائف نے اپنا کام دکھایا اور ٹی ٹی ایس سروس کے ایچ ای سی و اسلامی یونیورسٹی کے تمام تر قواعد و ضوابط کے برعکس جابر خٹک کو مکمل طور پر غیر قانونی طریقے سے نہ صرف ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹینیورڈ تعینات کروا لیاگیا.

ڈاکٹر خٹک ڈنمارک کی قومیت رکھتے ہیں اور پاکستانی قومیت کو سرنڈر کرچکے ییں، اس وجہ سے انکے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بھی نہیں ہے۔موصوف ڈاکٹر آغاز سے ہی مختلف حیلے بہانے کرکے سمسٹر کا زیادہ تر حصہ ڈنمارک میں گزارتے تھے، بعد میں انکشاف ہوا کہ موصوف نے وہاں ایک ڈینش خاتون سے شادی کی ہوئی ہے اور اسکے علاوہ وہاں اپنا بزنس چلاتے ہیں، ڈاکٹر خٹک کی ایک کمال صفت ھے کہ اکثر یونیورسٹی کو چکما دے کر اور چھٹی منظور کرائے بغیر ڈنمارک کا سفر کرکے وہاں ہفتوں ہفتوں قیام پذیر رہتے رہے ہیں، ذرائع کے مطابق گزشتہ دور میں انہوِں نے ڈنمارک میں قیام کے دوران جب وہ یونیورسٹی سے باقاعدہ چھٹی پر نہیں تھے، موجودہ چیئرمین ارشد ملک کا کوپن ہیگن ایئر پورٹ پر استقبال کیا، اور ان کی میزبانی بھی کی

ڈاکٹر خٹک گزشتہ دس سال میں یونیورسٹی کو اپنی وصول کردہ تنخواہوں کی مد میں کروڑوں کا ٹیکہ لگا چکے ہیں جبکہ اس طویل عرصے میں نہ تو وہ کوئی ریسرچ لیب قائم کرسکے، نہ کوئی پراجیکٹ یا ریسرچ گرانٹ لاسکے اور نہ ہی کبھی کلاسز کی تعداد پوری کی. چونکہ سٹوڈنٹس کو ویسے ہی وہ 90 سے اوپر نمبر دے دیتے ہیں تو بچے ان سے بڑے خوش رہتے ہیں۔

موصوف چونکہ بین الاقوامی سطح پر بزنس کرتے ہیں تو دیگر اساتذہ اور تعلق داروں سے منت کرکے انکے ریسرچ پیپرز میں پبلشنگ کے پیسے دے دیتے ہیں وہ انکا نام بطور مصنف شامل کرلیتے ہیں اور اس طرح مقالہ جات کی مطلوبہ تعداد پوری ہوجاتی ہے۔

ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر جابر اب بھی تقریبا 5، 6 ماہ سے پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ ڈنمارک میں ہیں اور وہ بھی یونیورسٹی سے باقاعدہ چھٹی لیے بغیر ، لیکن ایچ آر کا سیکشن مکمل طور پر انکو تحفظ دے رہا ہے اور انکے خلاف کوئی بھی قانونی کاروائی سے گریزاں ہے، اس دوران ممکن ہے وہ چیئرمین شعبہ سے ملی بھگت کرکے پرانی تواریخ میں اپنے جھوٹے کاغذات بنوا کر جمع کروا دیں، اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ انکی اور اسطرح کی کرپشن کی جتنے بھی کیسز ہیں انکی بلاتاخیر مکمل صاف اور شفاف غیر جانبدار انکوائریز کی جائیں اور نتائج سے یونیورسٹی کے تمام ملازمین کو آگاہ کرکے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے

مزید برآں فیکلٹی اور شعبہ کے دیگر اساتذہ مسلسل سراپا احتجاج ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ موجوہ چیئرمین ارشد ملک اور جابر خٹک کی ملی بھگت کی ہائی پروفائل انکوائری کمیٹی بنا کر تحقیقات کروائی جائیں ، اور یا تو جابر خٹک کی طرح دیگر تمام ٹی ٹی ایس اساتذہ کو بغیر ڈی ٹی آر سی اور ٹی آر پی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر پروموٹ کیا جائے اور بیرون ملک جانے کیلئے لامتناعی چھٹی دی جائے یا جابر خٹک کی پروموشن بھی قانونی ضوابط میں لائی جائے۔

x

Check Also

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

شمالی وزیرستان: دہشت گردوں کا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے پاک فوج کی غریوم چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔