تازہ ترین
ایک عہد جو تمام ہوا، مرحوم ماسٹر عابد قریشی کی حیات و خدمات پر ایک خراجِ عقیدت
تحریر : یاسر اقبال لوٹن یوکے
زندگی کے کچھ چراغ ایسے ہوتے ہیں جو بجھ کر بھی روشنی دیتے رہتے ہیں۔ مرحوم ماسٹر عابد قریشی بھی انہی درخشاں چراغوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کے فروغ، اخلاق کی آبیاری اور نسلِ نو کی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

آج وہ ہم میں موجود نہیں، مگر ان کی یادیں، ان کی تعلیمات اور ان کے شاگرد ان کی حیاتِ جاوداں کا ثبوت ہیں۔
بطورِ معلم انہوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ درس و تدریس میں گزارا۔ ان کے لیے معلمی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک پیغمبری مشن تھا۔ وہ علم کو صدقۂ جاریہ سمجھتے تھے اور طلبہ کی کامیابی کو اپنی زندگی کی اصل کمائی قرار دیتے تھے۔
زمانۂ ضعیفی میں بھی ان کی چال میں وقار اور لہجے میں شفقت باقی تھی۔ گھیت گھلیانوں میں اپنے شیر خوار نواسوں اور نواسیوں کو کھیلتے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں چمک آ جاتی، مگر زبان پر ہمیشہ علم و اخلاق کی بات ہوتی۔
درویش صفت شخصیت کے مالک ماسٹر جی جہاں بھی دکھائی دیتے، ہاتھ میں تسبیح، سر پر ٹوپی، چہرے پر سنتِ رسول ﷺ کے مطابق داڑھی اور ہلکی سی مسکراہٹ ان کی پہچان تھی۔ اذان کی آواز سنتے ہی مسجد کا رخ کر لینا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ عبادت، سادگی اور تقویٰ ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اقبال کا شاہین ہجرت پر مجبور کیوں؟
وہ نہ صرف علم کے معمار تھے بلکہ عمل کے بھی پیکر تھے۔
عمر کے آخری حصے میں جب کبھی کوئی پرانا شاگرد ان سے ملتا تو وہ شفقت سے اس کا نام اور اس کے باپ دادا کا نام پوچھ کر اسے پہچاننے کی کوشش کرتے۔ ان کے دل میں اپنے ہر شاگرد کے لیے وہی محبت تھی جو ایک باپ کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے۔ وہ لوگوں کے بچوں کے مستقبل کے لیے ہمیشہ فکرمند رہتے اور نصیحت کرتے کہ تعلیم ہی وہ دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔
انہوں نے اپنی اولاد کو بھی اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا۔ ان کے بڑے صاحبزادے سر ضمیر عابد صاحب آج ایک نجی تعلیمی ادارہ کامیابی سے چلا رہے ہیں اور علاقے کے بے شمار طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ یہ دراصل ماسٹر عابد قریشی کی تربیت کا تسلسل ہے کہ ان کے شاگرد اور اولاد دونوں معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد، خصوصاً سر اکرام رشید قریشی، جو ایک پختہ شاعر اور کتاب کے مصنف ہیں، بھی اسی علمی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ سب اسی شجرِ سایہ دار کی شاخیں ہیں جس کی آبیاری ماسٹر جی نے کی تھی۔
انہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار خوشیاں دیکھیں، شاگردوں کو کامیاب ہوتے دیکھا، اپنی محنت کا پھل پاتے دیکھا۔ مگر قدرت کا قانون اٹل ہے کہ جو اس فانی دنیا میں آیا ہے اسے ایک دن لوٹ کر جانا ہے۔ آج وہ داغِ مفارقت دے گئے ہیں، مگر ان کے لگائے ہوئے علم کے پودے تناور درخت بن چکے ہیں اور ہمیشہ سایہ فراہم کرتے رہیں گے۔
ان کی دی ہوئی تعلیم کی خوشبو آج بھی علاقے کے چار سو پھیلی ہوئی ہے۔ ہر وہ شخص جو ان کے زیرِ سایہ تعلیم حاصل کر چکا ہے، دراصل ان کے مشن کا امین ہے۔ ان کے فرزند اور شاگرد اس علمی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اور یقیناً یہ قافلہ رکے گا نہیں۔
ماسٹر عابد قریشی جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ جسمانی طور پر رخصت ضرور ہو جاتے ہیں، مگر اپنے کردار، علم اور اخلاق کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اصل کامیابی دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ انسانوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
-
پاکستان6 دن agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 مہینہ agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان4 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز

