Connect with us

تازہ ترین

سچ دب گیا، نعرہ جیت گیا، اداس نسلوں کی کہانی

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، یوکے

شام گاؤں پر یوں اتر رہی ہے جیسے وقت نے تھک کر سانس لینا شروع کر دیا ہو۔ کچی گلی کی مٹی اب بھی وہی ہے، مگر قدموں کی چاپ بدل چکی ہے۔ نیم کا درخت بوڑھا ہو گیا ہے۔ اس کے پتے اب بھی سرگوشیاں کرتے ہیں، مگر سننے والے کم رہ گئے ہیں۔

نیم کے درخت کے نیچے لکڑی کی بنچ پر بابا غلام رسول بیٹھا ہے۔ ہاتھ میں مٹی کا پیالہ، آنکھوں میں وہ تاریخ جو کتابوں میں نہیں ملتی۔ سامنے چولہے پر دال ہلکی آنچ پر پک رہی ہے اور مٹی کی ہنڈیا سے زیرے کی خوشبو پھیل رہی ہے—
مگر
اب یہ خوشبو تسلی نہیں دیتی، صرف یاد دلاتی ہے۔
بابا غلام رسول دھیرے سے بولتا ہے، جیسے اپنے ہی آپ سے بات کر رہا ہو:
“بیٹا… زخم خواہ کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو اس کا علاج نکل آتا ہے۔”

وہ ایک لمحے کے توقف کے بعد پھر کہتا ہے۔
“کتا کاٹ لے، سانپ کاٹ لے… انسان پھر بھی بچ جاتا ہے۔”
وہ پیالہ ہونٹوں سے ہٹا لیتا ہے۔
“مگر جب زہر کان میں بھر دیا جائے نا…”
آواز میں ہلکی سی لرزش آ جاتی ہے۔
“تو نسلیں بیمار ہو جاتی ہیں۔”

نعیم سامنے بیٹھا ہے۔ وہ شہر سے آیا ہے۔ کئی برسوں سے شہر میں رہ رہا ہے، مگر اس کے اندر اب بھی گاؤں کا وہ سادہ نوجوان زندہ ہے جو معرفت کی باتوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔
“بابا، کان میں زہر؟”

وہ پوچھتا ہے۔
“یہ کیسا زہر ہوتا ہے، بابا؟”
بابا غلام رسول آسمان کی طرف دیکھتا ہے، جہاں ایک ستارہ جلدی میں جل کر بجھ جاتا ہے۔
“یہ وہ باتیں ہوتی ہیں، بیٹا…”

“جو آدھا سچ ہوتی ہیں، مگر پورے یقین کے ساتھ کہی جاتی ہیں۔”
اسی وقت موبائل کی اسکرین روشن ہوتی ہے۔ گلی کے موڑ سے سلیم آتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں موبائل ہے—
اور موبائل میں خبر ہے،
پہلے کی طرح صرف زبان نہیں۔
“بابا!”

وہ کہتا ہے۔
“بابا، کیا آپ نے سنا ہے؟ ۔۔۔۔ ایک لیڈر نے کہا ہے کہ سب چور ہیں۔ ملک لوٹ لیا گیا ہے!”
بابا غلام رسول دال میں چمچ ہلاتا رہتا ہے۔

“اس نے کہا ہے…”
وہ آہستگی سے کہتا ہے،
“یا وہ چاہتا ہے کہ تم سب کہو؟”

سلیم مضطرب ہو جاتا ہے۔
“بابا! ہر چینل پر یہی چل رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہی ہے۔ سب کہہ رہے ہیں!”
بابا غلام رسول نعیم کی طرف دیکھتا ہے۔
“دیکھا، بیٹا؟
پہلے زہر ایک کان میں ڈالا جاتا تھا، اب سوشل میڈیا کے ذریعے پوری نسل کے کان بھرے جاتے ہیں۔”
نیم کے پتے ہلتے ہیں۔

اور وہ بات، جو گاؤں میں کہی گئی تھی، وہیں نہیں رکتی۔
ہوا اسے ساتھ لے جاتی ہے—
پہلے تحصیل تک،
پھر ضلع،
پھر شہر،
پھر صوبائی دارالحکومت،
اور آخرکار دارالحکومت کی روشن مگر بے چین عمارتوں تک۔

یہ بات ایک بیانیہ بن جاتی ہے،
اور پھر یہ بیانیہ بین الاقوامی سرحدوں کو چیرتا ہوا دنیا کے کونے کونے تک جا پہنچتا ہے۔
وہی ایک جملہ،
جو نیم کے نیچے کہا گیا تھا،
اب نعرہ بن چکا ہے۔

گاؤں میں سلیم نے سنا،
شہر میں ایک اینکر نے دہرایا،
اور ٹی وی اسکرین پر الفاظ چیخنے لگے:
“ملک لوٹ لیا گیا ہے!”
“سب چور ہیں!”
“ایک نہیں، پورا نظام!”

چائے خانوں میں اب موسم پر بات نہیں ہوتی۔
کھیتوں میں فصل کم اور غصہ زیادہ اگنے لگا ہے۔
شہر کی سڑکیں روشن ہیں، مگر ذہن اندھیرے میں ڈوب رہے ہیں۔
یونیورسٹی کے لان میں نوجوان بیٹھے ہیں۔

ہاتھوں میں کتابیں کم،
موبائل زیادہ۔
سچ اب دلیل سے نہیں،
ری ٹویٹ سے ثابت ہوتا ہے۔

ایک طالبہ کلاس میں استاد سے سوال کرتی ہے:
“سر، اگر سب چور ہیں تو ایماندار کون ہے؟”
کلاس میں خاموشی چھا جاتی ہے۔
خاموشی بھی اب ایک موقف ہے،
اور موقف لینا خطرے سے خالی نہیں۔
استاد گلا صاف کرتا ہے۔
“بیٹا جی، یہ سوال امتحان میں نہیں آئے گا۔”

دن بدلتے ہیں۔
چبوترہ اب ٹویٹر اسپیس بن چکا ہے۔
ہجوم اب ہجوم نہیں، فالوورز ہیں۔
اور جبران اب کوئی عام سا راہنما نہیں رہا—
وہ ایک رہبر بن چکا ہے۔
نوجوان اسے مسیحا سمجھتے ہیں۔

اس کے ہر لفظ، ہر جملے کو من و عن تسلیم کرتے ہیں۔
ہر کوئی اسی کا راگ الاپتا ہے۔
وہ کسی کو چور کہتا ہے تو سب “چور، چور” کے نعرے لگاتے ہیں۔
کوئی دلیل یا ثبوت نہیں مانگتا۔

نعیم سوال کرتا ہے:
“ثبوت؟”
مگر سوال اب غداری بن چکا ہے۔
نیوز روم میں ہیڈ لائن لکھی جاتی ہے:
“عوام غصے میں ہیں!”
حالانکہ عوام نہیں،
صرف بیانیہ غصے میں ہے۔

ہر رات وہی چہرے،
وہی جملے،
وہی یقین۔

سچ آہستہ آہستہ ایک پرانی فائل میں دب کر رہ جاتا ہے

جسے کوئی کھولنا نہیں چاہتا۔

کیونکہ اسے کھولنے میں محنت درکار ہے،
اور یقین بانٹنے سے تالیاں بچتی ہیں۔
گاؤں میں بابا غلام رسول اب کم بولتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں:
“بابا بوڑھا ہو گیا ہے،
وقت کو نہیں سمجھتا۔”
نعیم شہر آ چکا ہے۔
وہ دیکھ رہا ہے کہ
وہی زہر،
جو نیم کے نیچے دھیرے دھیرے ڈالا گیا تھا،

اب نصاب، تقریر اور ترانے میں شامل ہو چکا ہے۔
ایک روز وہ جلسہ دیکھتا ہے۔
لاکھوں لوگ۔
ایک آواز۔
ایک جملہ۔
لوگ کان بند کیے،
دل کھولے،
اور دماغ کہیں اور رکھ آئے ہیں۔

نعیم خود سے پوچھتا ہے:
“یہ سب کب ہوا؟”
جواب کہیں نہیں۔
کیونکہ یہ ایک دن میں نہیں ہوا۔
یہ روز ہوا—
ہر اسکرین،
ہر اسٹیٹس،
ہر غیر تصدیق شدہ یقین کے ساتھ۔

شام پھر اترتی ہے۔
نیم کے نیچے وہی بنچ ہے،
مگر بابا غلام رسول بہت تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
نعیم پوچھتا ہے:
“بابا، کیا یہ زہر نکلے گا؟”

بابا غلام رسول دیر تک خاموش رہتا ہے۔
پھر کہتا ہے:
“نکل جائے گا…”
“مگر نشان رہ جائیں گے۔”

وہ دال میں زیرہ ڈالتا ہے۔
خوشبو اٹھتی ہے،
مگر اس میں اب اداسی شامل ہے۔
“ہم نے ایک راہنما کی بات کو سچ مان کر،”

وہ دھیرے سے کہتا ہے،
“اپنے ہی بچوں کے کانوں میں ‘چور، چور’ بھر دیا ہے۔”
ہوا گاؤں کے اوپر سے گزرتی ہے،
پھر شہر،
پھر یونیورسٹی،
پھر موبائل اسکرینوں تک۔

اور یوں
ایک جملہ،
ایک بیان،
ایک جھوٹ—
اداس نسلوں کا قومی نصاب بن جاتا ہے۔
ہوا اب بھی چل رہی ہے۔
نیم کے پتے اب بھی سرگوشی کرتے ہیں۔

سوال صرف یہ ہے:
کیا کوئی اب بھی
کان صاف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے؟

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Israeli-airstrikes Israeli-airstrikes
تازہ ترین8 گھنٹے ago

اسرائیلی جنگی طیاروں کے شام میں فوجی ہوائی اڈے پر فضائی حملے

ادلب (صداۓ سچ نیوز) اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی شام کے صوبے ادلب کے مشرقی دیہی علاقے میں واقع ایک...

supreme-court, imran khan supreme-court, imran khan
پاکستان8 گھنٹے ago

سپریم کورٹ کا بانئ پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانئ پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ طلب کرتے...

Abbas Iraqchi Abbas Iraqchi
تازہ ترین8 گھنٹے ago

دشمن کی غیر مشروط ہتھیار ڈالوانے کی امید پوری نہ ہوسکی، ایران فاتح بن کر ابھرا ہے، عباس عراقچی

تہران (صداۓ سچ نیوز) تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے...

plane plane
تازہ ترین8 گھنٹے ago

امریکا میں بھارتی تارکینِ وطن کیخلاف کریک ڈاؤن، 4,800 سے زائد ڈی پورٹ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت تارکینِ وطن کے خلاف بڑے...

parliment parliment
پاکستان8 گھنٹے ago

اسلام آباد میں موسلادھار بارش، پارلیمنٹ ہاؤس کی چھتیں ٹپکنے لگیں

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کی مختلف چھتیں ٹپکنے لگیں، جس...

IRGC IRGC
تازہ ترین9 گھنٹے ago

امریکیوں سے بات چیت نہیں ہورہی، ان کے پاس شکست ماننے اور شرائط قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، پاسداران انقلاب

تہران (صداۓ سچ نیوز) ترجمان پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کا کہنا ہے کہ امریکیوں سےکسی قسم کی بات...

Trump Trump
تازہ ترین10 گھنٹے ago

ایران جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف مزید گرادیا

ایران جنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف مزید گرادیا۔ برطانوی خبرایجنسی رائٹرز اور اِپسوس کےسروے کےمطابق...

crude-oil crude-oil
تازہ ترین10 گھنٹے ago

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں توسیع کے حوالے سے غیریقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث...

former-congressman، trump former-congressman، trump
تازہ ترین10 گھنٹے ago

امریکی حکام ایران کیخلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان پر گفتگو کر رہے ہیں، سابق رکنِ کانگریس کا دعویٰ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکا کی سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن میں حکام...

aircraft-destroyed aircraft-destroyed
تازہ ترین10 گھنٹے ago

امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 100 ایرانی طیارے تباہ ہوئے،کوشش ہے مواصلات کا تباہ انفرا اسٹرکچر جلد بحال کیا جائے، ایرانی وزیر

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایران کی وزیر برائے مواصلات فرازانے صادق نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں...

Trending