Connect with us

اوورسیز پاکستانیز

اقبال کا شاہین ہجرت پر مجبور کیوں؟

Dr Yasir Iqbal Mughal

تحریر: یاسر اقبال مغل (لوٹن یوکے)

پاکستان کے حالات نے آج ایک عجیب منظر پیش کر دیا ہے۔ وہ نوجوان جسے علامہ اقبال نے شاہین کا استعارہ دیا تھا، جو بلند پروازی، خوداری اور وطن کی تعمیر کا خواب دیکھتا تھا، وہی شاہین آج سرحدوں کے اُس پار اپنے لیے آسمان تلاش کرنے پر مجبور ہے۔ یہ محض بیرونِ ملک جانے کی خواہش نہیں، بلکہ ایک ایسی ہجرت ہے جو معاشی، سماجی اور نفسیاتی دباؤ کے بطن سے جنم لے رہی ہے۔

پاکستان میں بے یقینی کی فضا نے نوجوانوں کے دلوں میں خوف، اضطراب اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔ معاشی حالات کی ابتری، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور سفارشی کلچر نے تعلیم یافتہ طبقے کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ نوجوان جب برسوں کی محنت، والدین کی جمع پونجی اور خوابوں کی قیمت ادا کر کے ڈگری حاصل کرتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے اس کی قابلیت کے مطابق مقام اور عزت ملے۔ لیکن جب اسے میرٹ کے بجائے سفارش، سیاسی وابستگی یا ذاتی تعلقات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کے حوصلے پست ہونے لگتے ہیں۔

آج پاکستان میں متوسط طبقہ سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ ایک طرف تعلیمی اخراجات آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، دوسری طرف روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔ نجی اداروں میں عدم تحفظ اور سرکاری اداروں میں محدود آسامیوں نے نوجوانوں کو ایک انجانے مستقبل کے حوالے کر دیا ہے۔ نتیجتاً بیرونِ ملک جانے کا رجحان ایک خواب سے بڑھ کر ایک منصوبہ بن چکا ہے۔ IELTS کی تیاری، ویزا کنسلٹنٹس کے دفاتر، اور بیرونِ ملک ملازمتوں کے اشتہارات اب نوجوانوں کی روزمرہ گفتگو کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بریڈفورڈ کی خاموش گلی اور سفید پاؤڈر کا دھندہ

اگر صرف برطانیہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کی بات کی جائے تو تصویر اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ ایک ڈاکٹر بننے کے لیے والدین اپنی زندگی کی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔ آج کل پاکستان میں ایم بی بی ایس کی تعلیم لاکھوں روپے میں مکمل ہوتی ہے۔ ایک متوسط طبقے کے خاندان کے لیے یہ بوجھ معمولی نہیں۔ والدین یہ سرمایہ اس امید پر لگاتے ہیں کہ ان کا بیٹا یا بیٹی ملک و قوم کی خدمت کرے گا اور باعزت روزگار پائے گا۔ مگر جب ایک سرکاری ڈاکٹر کی تنخواہ اس کے معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ناکافی ہو، جب وہ طویل ڈیوٹی اوقات، محدود سہولیات اور عدم تحفظ کا سامنا کرے، تو اس کے دل میں سوال ضرور جنم لیتا ہے: کیا اسے اپنے بہتر مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں؟

ایک ڈاکٹر نے کہا کہ پاکستان کا سرکاری نظام اُس کا لیونگ اسٹینڈرڈ افورڈ نہیں کر سکتا۔ یہ جملہ محض شکایت نہیں، بلکہ ایک کڑوی حقیقت کی عکاسی ہے۔ بیرونِ ملک وہی ڈاکٹر نہ صرف بہتر تنخواہ حاصل کرتا ہے بلکہ اسے پیشہ ورانہ احترام، تحقیق کے مواقع اور کام کے محفوظ ماحول بھی میسر آتے ہیں۔ وہاں ڈاکٹر کی عزت صرف الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ عملی طور پر نظر آتی ہے۔ اسی طرح نرسیں، فارماسسٹ اور دیگر طبی عملہ بھی بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔

یہی صورتحال اساتذہ کے ساتھ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ ایک اسکول ٹیچر نے بتایا کہ پاکستان میں لاکھوں روپے خرچ کر کے ڈگری حاصل کرنے کے باوجود ملازمت کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت، غیر یقینی پالیسیوں اور کم تنخواہوں نے اس پیشے کی کشش کم کر دی ہے۔ حالانکہ یہی اساتذہ قوم کے معمار کہلاتے ہیں۔ جب معمار ہی غیر محفوظ ہو تو عمارت کی مضبوطی کیسے ممکن ہے؟ بیرونِ ملک یہی استاد بہتر تنخواہ، باوقار ماحول اور واضح کیریئر پاتھ پاتے ہیں۔

صرف ڈاکٹر اور اساتذہ ہی نہیں، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اکاؤنٹنٹس اور ہنر مند کاریگر بھی بیرونِ ملک مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر آئی ٹی کے شعبے میں نوجوان عالمی مارکیٹ کا حصہ بن چکے ہیں۔ کئی لوگ آن لائن فری لانسنگ کے ذریعے ڈالر کما رہے ہیں اور پھر مستقل ہجرت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا ایک گلوبل ولیج ہے، جہاں سرحدیں کمزور اور مواقع وسیع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شمع سے شمع جلے،پاکستانیت کی روشنی دنیا بھر میں

پردیس جانا آسان فیصلہ نہیں ہوتا۔ سنہرے خواب لے کر عرب ممالک، یورپ یا برطانیہ پہنچنے والا ہر شخص کامیابی کی کہانی نہیں لکھتا۔ زبان کی رکاوٹ، ثقافتی فرق، تنہائی، قانونی پیچیدگیاں اور امیگریشن کے مسائل ایک الگ آزمائش ہیں۔ بہت سے لوگ کم درجے کی ملازمتوں سے آغاز کرتے ہیں، اپنی اصل قابلیت سے کم کام کرتے ہیں اور برسوں تک اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں۔ عید، شادی بیاہ اور والدین کی بیماری جیسے مواقع پر دوری کا دکھ انہیں اندر سے توڑ دیتا ہے۔ ان کی جدوجہد کو یا تو وہ خود جانتے ہیں یا خدا۔ مگر اس سب کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قربانی ان کے اور ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بیرونِ ملک زندگی ہر لحاظ سے آسان نہیں ہوتی۔ امتیازی سلوک، شناخت کا بحران، اور نئی ثقافت میں خود کو ڈھالنے کی مشکلات بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ کئی نوجوان شدید ذہنی دباؤ اور تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مگر جب وہ اپنے بچوں کو بہتر اسکولوں میں پڑھتے اور محفوظ ماحول میں بڑھتے دیکھتے ہیں تو انہیں اپنی قربانی رائیگاں نہیں لگتی۔

سوال یہ نہیں کہ نوجوان بیرونِ ملک کیوں جا رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ واپس کیوں نہیں آنا چاہتے؟ اگر ملک میں ایسا نظام قائم ہو جہاں میرٹ کی بالادستی ہو، پیشہ ور افراد کو عزت اور مناسب معاوضہ ملے، تحقیق اور جدت کے مواقع فراہم کیے جائیں، اور پالیسیوں میں تسلسل ہو تو شاید یہی شاہین وطن کی فضاؤں میں اڑنا پسند کرے۔ نوجوان کو صرف تنخواہ نہیں، اعتماد اور استحکام بھی چاہیے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 اور برطانیہ میں 6.6 ملین پاؤنڈز کا اسکینڈل

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ہجرت نقصان نہیں ہوتی۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کئی افراد تجربہ اور سرمایہ لے کر واپس آتے ہیں اور کاروبار شروع کرتے ہیں۔ مگر مسلسل برین ڈرین کسی بھی ملک کے لیے خطرے کی علامت ہوتا ہے، خاص طور پر جب ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ اور ہنر مند افراد بڑی تعداد میں ملک چھوڑ دیں۔ ایک قوم کی اصل دولت اس کا انسانی سرمایہ ہوتا ہے، اور اگر یہی سرمایہ باہر منتقل ہو جائے تو ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نوجوانوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ان کے مسائل کو سمجھیں۔ انہیں محبِ وطن ثابت کرنے کے لیے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ وہ ملک چھوڑ کر بھی اپنے خاندانوں اور وطن کی مدد کرتے ہیں۔ اصل ذمہ داری ریاست اور معاشرے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسا ماحول فراہم کریں جہاں تعلیم یافتہ نوجوان کو اپنے خواب پورے کرنے کے لیے سرحد پار نہ جانا پڑے۔

ہمیں ایک ایسا پاکستان تشکیل دینا ہوگا جہاں ڈاکٹر کو باعزت تنخواہ، استاد کو احترام، انجینئر کو مواقع اور طالب علم کو امید ملے۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہو، میرٹ مضبوط ہو اور سیاسی استحکام قائم ہو۔ اگر ہم واقعی اقبال کے شاہین کو وطن کی فضا میں بلند دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے مضبوط پر دینے ہوں گے—میرٹ، انصاف، استحکام اور عزت کے پر۔ ورنہ ہجرت کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا، اور ہم ہر سال اپنے ہی مستقبل کو رخصت کرتے رہیں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Talal-Ch Talal-Ch
پاکستان5 گھنٹے ago

طلال چوہدری نے آزاد کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور پی ٹی آئی کو دشمن کی پراکسیز قرار دیدیا

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے آزاد کشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور تحریک...

mohsin-naqvi mohsin-naqvi
پاکستان5 گھنٹے ago

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، محسن نقوی

لاہور (صداۓ سچ نیوز) وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے اپوزیشن کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں تقریباٍ تمام...

iran-foreign-ministry iran-foreign-ministry
تازہ ترین5 گھنٹے ago

ایرانی وزارت خارجہ نے نئی امریکی تجاویز موصول ہونے کی تصدیق کردی

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےنئی امریکی تجاویز موصول ہونے کی تصدیق کردی۔  ایرانی...

Abbas Araghchi Abbas Araghchi
تازہ ترین5 گھنٹے ago

امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران اپنے دفاع کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے، عباس عراقچی

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران...

Yemen Yemen
تازہ ترین5 گھنٹے ago

یمنی مسلح افواج کی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز، 700 حوثی جنگجو ہلاک

صنعا (صداۓ سچ نیوز) یمنی فوج نے دعوی کیا ہے کہ حوثی جنگجوؤں کے خلاف مختلف محاذوں پر 257 کارروائیوں...

CM-Sohail CM-Sohail
پاکستان5 گھنٹے ago

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو بھیجا گیا مسودہ جاری کردیا

پشاور (صداۓ سچ نیوز) سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ڈرافٹ میں کوئی...

Trump Trump
تازہ ترین9 گھنٹے ago

ایران اب جوہری ہتھیاروں کے حصول کے تمام منصوبے ترک کر رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اب جوہری ہتھیاروں کے حصول کے تمام...

Fuel prices Fuel prices
پاکستان9 گھنٹے ago

ملک بھر میں جیٹ فیول 9 روپے 5 پیسے، مٹی کا تیل 7 روپے 68 پیسے فی لیٹر مہنگا

ملک میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ جیٹ فیول 9 روپے 5 پیسے، مٹی...

rana-sanaullah rana-sanaullah
پاکستان9 گھنٹے ago

لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں، انتشار قانون کی طاقت سے روکیں گے، رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائےسیاسی امور رانا ثناءاللہ نے کہا ہےکہ حکومت پرامن رہے گی،لانگ مارچ...

Security forces operation Security forces operation
پاکستان9 گھنٹے ago

ڈی آئی خان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 3 سرغنہ سمیت 8 دہشتگرد ہلاک

ڈیرہ اسماعیل خان (صداۓ سچ نیوز) ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی میں 8 دہشت گرد...

Trending