پاکستان
چرواہے سے ایس ایس پی تک، ایک ماں کی نصیحت کی لازوال کہانی
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
چکوال کے دورافتادہ، سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گاؤں ہے — کرولی۔
مٹی کے گھر،
کچی پکی ڈنڈیاں،
شام کو گھروں کو لوٹتے بکریوں کے ریوڑ،
بکریوں کے گلوں میں بجتی گھنٹیوں کی مدھم آوازیں،
اور ہوا میں رچی بسی مٹی کی وہ مہک جو انسان کی روح تک اتر جائے۔
یہی مہک اس گاؤں کی پہچان ہے۔
اسی مٹی میں ایک لڑکا پلتا بڑھتا ہے — شعیب خان۔
اعوان خاندان کا چشم و چراغ؛ وہ خاندان جس کی کئی پشتیں بکریاں چراتے، پہاڑ ناپتے اور رزقِ حلال کماتے گزر گئی ہیں۔

شعیب کے والد اور دیگر عزیز برسوں سے بیرونِ ملک محنت مزدوری کرتے رہے ہیں۔ روپے پیسے آئے، آسائشیں بھی آئیں، مگر کرولی نہ چھوٹا۔ نہ اس قبیلے کے کسی فرد نے اسے چھوڑنے کا ارادہ کیا۔
چاہتے تو وقت کے ساتھ خود بھی بدل جاتے، اسلام آباد یا لاہور کی پوش بستیوں میں بنگلے بنا لیتے، مگر انہوں نے ایسا سوچا تک نہیں۔
نہ کرولی چھوڑا،
نہ پہاڑی پگڈنڈیاں،
نہ بکریوں کے ریوڑ۔
یہ بھی پڑھیں: ماں، دارالامان اور انتظار کی آخری رات
شعیب خان بھی اسی مٹی کی خوشبو میں پلا بڑھاہے-
صبح بکریاں لے کر پہاڑی ڈھلوانوں کا رخ کرتا، اور شام کو چراغ کی مدھم روشنی میں کتابیں کھول کر اپنے خوابوں کو لفظ دیتا۔ بکریوں کی گھنٹیاں گویا اس کے لفظوں کی موسیقی بن جاتیں۔
وہ پڑھتا ہے۔
شب و روز محنت کرتا ہے۔
دن، ماہ و سال میں ڈھلتے ہیں
اور —
شعیب سی ایس ایس کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کر لیتا ہے۔ وہ اے ایس پی بن جاتا ہے۔
گاؤں کی فضا میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
ماں کی آنکھوں میں آنسو ہیں —
خوشی کے آنسو،
شکر کے آنسو۔
ماں —
گاؤں کی سادہ سی عورت،
مٹی کے چولہے کے پاس بیٹھی عورت۔
یہ بھی پڑھیں: فیصلوں کی بازگشت
مقامی زبان میں ماں کو “وڈکی” کہتے ہیں۔ شعیب بھی بچپن سے ماں کو “وڈکی” ہی کہہ کر پکارتا آیا ہے، اور اے ایس پی بننے کے بعد بھی وہ اسے “وڈکی” ہی کہتا ہے۔
سول سروس اکیڈمی میں تربیت کے دوران جب وہ چھٹیوں پر کرولی آتا ہے تو صبح کا پہلا پہر ہے۔ ہلکی خنک ہوا صحن میں گردش کر رہی ہے۔ مٹی کے چولہے پر آنچ دہک رہی ہے۔ وڈکی اپنے ہاتھوں سے پراٹھا سینک رہی ہے۔ تلے ہوئے انڈے کی خوشبو کچی دیواروں سے ٹکرا کر پورے صحن میں پھیل رہی ہے۔ اس کے ہاتھوں کی لکیروں میں برسوں کی محنت رقم ہے۔
شعیب زمین پر دو زانو ماں کے قریب بیٹھا ہے۔ چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اچانک اسے شرارت سوجھتی ہے۔ زیرِ لب مسکرا کر کہتا ہے:
“وڈکئیے… دیکھ تو سہی، تیرا پُتر کتنا بڑا افسر بن گیا ہے۔ پولیس کا افسر! کبھی سوچا ہے، میرے جیسے بڑے افسر کے لیے دلہن کہاں سے لائے گی؟ اس گاؤں میں تو کوئی میرے جوڑ کی نہیں۔”
وڈکی پراٹھا پلٹتے ہوئے ہلکا سا مسکراتی ہے۔ آنکھوں میں محبت کی چمک ہے۔
“پُتر… تُو بڑا افسر بن گیا، اللہ دا کرم اے۔”
وہ چولہے میں لکڑی آگے سرکاتی ہے۔
“پر ہَیں تاں تُوں بکریاں چران والا چرواہا ناں۔”
شعیب ہنستا ہے۔
“اوہ وڈکی، پرانیاں گلاں چھوڑ وی دے!”
ماں اب اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ آواز نرم ہے مگر لفظ پتھر پر لکیر:
“پُتر… بکریاں چران والیاں نوں بکریاں دیاں مینگنیاں وی سنبھالنی پیندیاں نیں۔”
الفاظ سادہ ہیں مگر معنی گہرے۔
شعیب کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے اس کے دل کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہو۔ وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ چولہے کی آنچ کی ٹک ٹک، بکریوں کی مدھم منمناتی آواز، اور ماں کے الفاظ — سب مل کر اس کے اندر ایک چراغ روشن کر دیتے ہیں۔
وردی کی چمک کے پیچھے اسے اپنا بچپن نظر آنے لگتا ہے… پہاڑی ڈھلوانیں… گرد آلود پاؤں… بکریوں کے پیچھے دوڑتا ہوا ایک لڑکا…
یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 اور برطانیہ میں 6.6 ملین پاؤنڈز کا اسکینڈل
وہ دھیرے سے کہتا ہے:
“وڈکی… تُو ٹھیک کہتی ہے۔”
ماں مسکرا دیتی ہے۔
“میں ماں آں پُتر… ماں کدی غلط نہیں ہوندی۔”
شعیب واپس تربیتی اکیڈمی چلا جاتا ہے۔ ایک دن کلاس کے دوران وہ یہ واقعہ فخر کے ساتھ اپنے ساتھیوں اور انسٹرکٹر کو سناتا ہے۔ ساتھی افسران مسکراتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے، “یار، تمہاری امی تو بڑی فلسفی نکلی ہیں، بڑی گہری بات کی ہے۔”
شعیب مسکرا کر جواب دیتا ہے:
“نہیں، وہ تو گاؤں کی سیدھی سادی اور سچی خاتون ہیں۔ انہیں فلسفے سے کیا لینا دینا۔ انہوں نے تو بس مجھے آئینہ دکھایا ہے — سچ کا آئینہ، حیثیت کا آئینہ۔”
وقت کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔
ماں کی آنکھوں کی روشنی مدھم پڑتی ہے۔
ایک دن چولہا ٹھنڈا رہ جاتا ہے۔
صحن خاموش ہو جاتا ہے۔
مگر وہ جملہ زندہ رہتا ہے۔
سال بیتتے ہیں۔
آج شعیب ایس ایس پی کے عہدے پر فائز ہے۔ سرکاری گاڑی دروازے پر کھڑی رہتی ہے۔ پروٹوکول اس کے ساتھ چلتا ہے۔ فیصلے اس کے دستخط کے منتظر ہوتے ہیں۔
مگر کبھی کبھی، کسی میٹنگ کے دوران، اسے کرولی کے مٹی کے چولہے کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے وڈکی کی آواز اس کے کان میں سرگوشی کر رہی ہو:
“مینگنیاں وی سنبھالنی پیندیاں نیں…”
ماں اب اس دنیا میں نہیں، مگر اس کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔ وہ آنکھیں موند لیتا ہے۔ اسے اپنی وڈکی دکھائی دیتی ہے — چولہے کے پاس بیٹھی، پراٹھا سینکتی ہوئی۔
شعیب جب بھی کرولی جاتا ہے، جوتے اتار کر ننگے پاؤں صحن میں چلتا ہے۔ بکریوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتا ہے۔ پہاڑوں کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہتا ہے:
“میں تُہاڈا ہی آں… میں بدلیا نہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: بریڈفورڈ کی خاموش گلی اور سفید پاؤڈر کا دھندہ
ایک نوجوان اس سے پوچھتا ہے:
“سر، اتنے بڑے عہدے پر ہو کر بھی آپ گاؤں کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟”
وہ مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔
“درخت جتنا بھی اونچا ہو جائے، اپنی جڑ زمین میں ہی رکھتا ہے۔”
پھر ذرا توقف کے بعد کہتا ہے:
“اصلی اور نسلی انسان کبھی اپنی اصل نہیں بھولتا۔”
اس کی آواز بھرا جاتی ہے۔
“اور جس کی ماں نے اسے مینگنیوں کی عزت سکھائی ہو… وہ وردی کی چمک میں کبھی اندھا نہیں ہوتا۔”
شام کرولی کے پہاڑوں پر اترتی ہے۔
اور کہیں ہوا میں آج بھی وڈکی کی دعا گونجتی ہے —
اپنے چرواہے بیٹے کے لیے،
جو ایس ایس پی بن کر بھی اپنی اصل سے جڑا ہوا ہے۔
-
پاکستان4 دن agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 مہینہ agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان4 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز

