تازہ ترین
چھوٹے لفظ، بڑا اثر: ٹکراؤ سے تہذیب تک کا سفر
تحریر : نثار حسین
ہر معاشرے کی بنیاد کچھ اصولوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ کہیں قانون سخت اور لہجے کھردرے ہوتے ہیں، تو کہیں رویّوں کی نرمی پورے نظام کو سہارا دیتی ہے۔ آسٹریلیا انہی معاشروں میں سے ہے جہاں اگر زندگی کو تین سادہ مگر اثر آفرین لفظوں میں سمیٹ دیا جائے تو شاید وہ “سوری، پلیز اور تھینکس” ہوں۔ مگر یہ الفاظ ہر جگہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کہیں یہ الفاظ اخلاق، تہذیب اور شائستگی کی خوشبو پھیلاتے ہیں، اور کہیں کسی واقعے کی لاش پر رکھے گئے مصنوعی پھول بن جاتے ہیں؛ خوشنما ضرور، مگر بے روح، بےخوشبو
آسٹریلیا میں رہنے والا شخص اگر ان تین لفظوں کے گرد گھومتی ہوئی پوری تہذیب محسوس نہ کرے تو شاید وہ اس ملک کو دیکھا ہی نہیں۔ یہاں شہری زندگی ایسے چلتی ہے جیسے زمین سورج کے گرد منظم، پُرسکون، اور بغیر کسی دھچکے کے۔
آسٹریلیا: جہاں ”سوری“ راستے بناتا ہے
یہ بھی پڑھیں:شمع سے شمع جلے،پاکستانیت کی روشنی دنیا بھر میں
شاپنگ مال میں آپ ذرا سا مڑ جائیں، اور پیچھے آنے والا خریدار اپنا قدم روک کر فوراً۔ ” سوری!“ کہہ دے۔ اور آپ بھی جواباً ایک ” سوری“ پھینک دیں۔ یوں لگتا ہے جیسے دو نرمیوں کا تبادلہ ہوا ہو، اور ماحول میں شائستگی کی ہلکی سی خوشبو پھیل گئی ہو۔
ٹریفک میں کوئی آپ کے لئے آدھا انچ گاڑی سائیڈ کر دے تو آپ کے لبوں پر بے ساختہ،،تھینکس میٹ!“ آ جاتا ہے۔ آپ سوچتے ہیں: میں نے تو کوئی نیکی نہیں کی، صرف رُکا ہوں۔ مگر یہ وہی نیکی ہے جو اس معاشرتی مشین کے کسی پُرزے کو جام نہیں ہونے دیتی۔ یہاں تنازعہ کا پودا کبھی تناور درخت نہیں بن پاتا، کیونکہ ”سوری“ کی کچی کلی اسے ابتدا ہی میں توڑ دیتی ہے۔
پالتو جانور اگر ذرا سی بے احتیاطی کر بیٹھے تو اس کا مالک آگے بڑھ کر کہتا ہے:
“Sorry! He doesn’t usually do that.”
یوں لگتا ہے کتے کی غلطی پر بھی انسان خود کو جواب دہ سمجھتا ہے۔
اور اگر بارش کی وجہ سے کونسل گھاس کاٹنے میں تاخیر کر دے تو تختی لگا دیتی ہے:،،سوری فار دی ڈیلے،،
یوں جیسے گھاس بھی شرمندہ ہو، اور افسر بھی معذرت خواہ۔
”تھینکس“: جہاں ہر چھوٹی نیکی بڑی محسوس ہوتی ہے
آسٹریلیا میں ”تھینکس“ کسی عظیم احسان کا صلہ نہیں، یہ تو اخلاق کی روزمرہ کرنسی ہے۔
آپ نے دروازہ تھام لیا؟ تھینکس,,
آپ قطار میں اپنی باری پر کھڑے رہے؟،،تھینکس،،
آپ نے کسی کو پہلے گزرنے دیا؟
تھینکس،،
چائے کا ایک کپ دیں، تو وہ بدلے میں کوئی چھوٹی سی ریفریشمنٹ رکھ دینے کی کوشش کرے گا۔ عربی مثل یاد آتی ہے:
“مہمان نوازی میں ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تگ و دو میں لگ جاتا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: بلی کے گلے میں گھنٹی ،اعتماد کی تلاش میں ایک رات
یہ صرف رویہ نہیں، تہذیبی یقین ہے کہ شکرگزاری انسان کو چھوٹا نہیں کرتی بڑا بناتی ہے۔
”سوری“: غلطی کا اعتراف، نہ کہ ریہرسل
یہاں ”سوری“ اسی وقت کہا جاتا ہے جب واقعی کوئی معمولی سی بے احتیاطی ہو۔ بڑے جرم، سنگین زیادتی یا اخلاقی حادثے کے بعد ”سوری“ کہنا یہاں معذرت نہیں، بلکہ ڈرامہ سمجھا جاتا ہے۔ اصل کے بغیر سوری بھی مصنوعی پھول کی طرح بے خوشبو ہوتی ہے۔
پاکستان میں: جہاں ”سوری“ کبھی ڈھال بن جاتا ہے
مجھے وہ منظر آج بھی یاد ہے جب ایک موٹر سائیکل سوار نے ایک غریب کی کار میں پوری شدت سے ٹکر ماری۔ نقصان واضح، مجمع جمع اور آوازیں شروع:
“چھوڑو یار، غریب آدمی ہے…”
اور موٹر سائیکل والا فوراً:
“سوری جی… سوری…”
وہ سوری جس سے نقصان پورا نہیں ہوتا۔
وہ سوری جو غلطی کا اعتراف نہیں، فیصلے پر پردہ ہے۔
وہ سوری جو ظالم کو سماجی دباؤ میں مظلوم بنا دے۔
اور ہمارے ہاں ”تھینکس“ بھی کبھی کسی بے اصول کام کے بعد ادا ہونے والی میٹھی معذرت بن جاتا ہے۔
پلیز نرمی کی درخواست
”پلیز“ یہ لفظ بظاہر نرم ہے مگر اس میں تہذیب کی پوری گہرائی ہے۔
استدعا بھی، احترام بھی، اور حدود کی پہچان بھی۔
آسٹریلیا میں پلیز ایک دروازے کی چابی کی طرح استعمال ہوتا ہے جو ہر گفتگو کو کھول دیتا ہے، کبھی بند نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: میلبورن میں نبض شناسوں کیساتھ شام
نیوز روم کا واقعہ: نرمی کا وہ انداز جس میں شفقت بھی تھی اور تہذیب بھی
مجھے ایک بڑے نیوز روم کا زمانہ یاد آتا ہے۔ اس وقت کے چیف نیوز ایڈیٹر نامور کالم نگار بھی تھے۔ ٹیم کے سب لوگ ان کا احترام کرتے۔ دفتر میں ایک نیا ٹرینی آیا جو ان کے رعب سے اتنا متاثر تھا کہ جب بھی نیوز ایڈیٹر کے سامنے سے گزرتا، سلام ضرور کرتا۔ دن میں دس بار بھی۔
ایک روز نیوز ایڈیٹر نے اسے روک کر ہنستے ہوئے کہا:
“بھئی، یہ کیا طریقہ ہے؟ اتنے سلام؟ دیکھو، اب ہر سلام کے دس روپے لیا کروں گا!”
یہ جملہ ڈانٹ نہیں تھا محبت کا ایک لطیف انداز تھا۔
یوں جیسے نرمی سکھانے کے لئے ایک مزاحیہ فریم بنا دیا ہو۔
یہی رویہ آسٹریلیا میں ”پلیز“ کی صورت ملتا ہے نرمی، احترام، مگر ساتھ میں ہلکی سی مسکراہٹ جو ماحول کو بوجھل نہیں ہونے دیتی۔
تارکینِ وطن: کیا وہ بھی ان لفظوں کو اپنا لیتے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا آنے والا ہر تارکِ وطن رفتہ رفتہ اس تہذیب کو اپنے اندر بسالیتا ہے۔ ابتدا میں شاید یہ الفاظ صرف لبوں پر ہوتے ہیں، مگر کچھ عرصے بعد یہ دل کی عادت بن جاتے ہیں۔
کیونکہ جب آپ روز اپنے اطراف دیکھیں:
لوگ قطار میں کھڑے، کوئی کسی کو کراس نہیں کرتا، ہر ایک اپنی باری کا احترام کرتا ہے
تو انسان خود بھی نرم ہونے لگتا ہے۔
”سوری“، ”پلیز“ اور ”تھینکس“ صرف الفاظ نہیں رہتے طرزِ زندگی بن جاتے ہیں۔
آخر میں…
قومیں بڑے ہتھیاروں سے نہیں، چھوٹے رویّوں سے مہذب بنتی ہیں۔
یہ تین لفظ سوری، پلیز، تھینکس دروازے بھی کھولتے ہیں، دل بھی، اور راستے بھی۔
اگر ہم بھی ان لفظوں کو دل کی نرمی، نیت کی سچائی اور کردار کی ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے لگیں تو شاید ہمارے ہاں بھی ٹکراؤ کم ہوں، دل آزاد ہوں اور رویّے نرم۔
شاعر نے سچ کہا ہے:
؎ نرم گوئی سے سنور جاتے ہیں حالات کے رخ
ورنہ طوفاں کبھی کشتیوں کے پیچھے نہیں ہوتے.
-
پاکستان7 دن agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 مہینہ agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان4 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز

