تازہ ترین
ارارت کی مسجد ،ایک خواب اور اعتماد کی بڑی عمارت
تحریر: نثار حسین
بڑے خوابوں کے لیے بڑے شہر ضروری نہیں ہوتے۔ بعض اوقات تاریخ کے خوبصورت ترین باب ان چھوٹے قصبوں کی خاموش گلیوں میں لکھے جاتے ہیں، جہاں آبادی کم ہوتی ہے، وسائل محدود اور امکانات بظاہر بہت مختصر۔ مگر خواب دیکھنے والوں کے حوصلے اگر بڑے ہوں تو چھوٹی تعداد بھی بڑے کام کا آغاز بن سکتی ہے۔
آسٹریلیا کے نسبتاً چھوٹے علاقائی شہر Ararat کی مسجد بھی ایسی ہی داستان ہے؛ چند مسلم گھرانوں کا خواب، جس نے رفتہ رفتہ مسجد کی صورت اختیار کی اور پھر عبادت گاہ سے آگے بڑھ کر پورے شہر کے باہمی اعتماد، مذہبی ہم آہنگی اور انسانی تعلق کی علامت بن گیا۔
میلبورن سے تقریباً دو سو کلومیٹر مغرب میں واقع Ararat ایک علاقائی شہر ہے۔ 2021 کی مردم شماری کے مطابق اس کے شہری علاقے کی آبادی تقریباً 7,015 تھی، جبکہ وسیع تر Ararat Statistical Area میں یہ تعداد تقریباً 8,500 بنتی ہے۔ اس نسبتاً مختصر آبادی میں مسلمانوں کے صرف 18 گھرانے ہیں۔ بظاہر یہ تعداد اتنی کم ہے کہ کسی بڑی مسجد، کمیونٹی سینٹر یا مستقل اسلامی مرکز کا تصور بھی مشکل خواب دکھائی دے؛ لیکن ان چند گھرانوں نے ثابت کیا کہ کسی منصوبے کی اہمیت اس کے پیچھے کھڑے لوگوں کی تعداد سے نہیں، ان کے عزم، اخلاص اور تعلقات کی گہرائی سے متعین ہوتی ہے۔
ارارت کی مسجد دراصل اینٹ، سیمنٹ او تعمیراتی نقشے کی کہانی نہیں، یقین کی داستان ہے۔ اس خواب کی ابتدا کسی بڑے منصوبہ ساز ادارے یا مالی وسائل کی فراوانی سے نہیں ہوئی۔ تنظیم کے ایک ساتھی صدر کو خواب آیا کہ یہاں اللہ کا گھر تعمیر ہونا چاہیے۔ وہ اس خواب کا ذکر کرنے میں بھی ہچکچاتے رہے، شاید اس لیے کہ حقیقت اور خواب کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ لیکن بعض خیالات ایسے ہوتے ہیں جو دل میں جگہ بنا لیں تو پھر صرف الفاظ نہیں رہتے؛ وہ اجتماعی ارادے میں ڈھل جاتے ہیں، اور اجتماعی ارادے راستے تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
2013 میں مسجد کے لیے زمین خریدنے کا فیصلہ ہوا۔ زمین کی مقررہ قیمت 75 ہزار ڈالر تھی، لیکن تنظیم نے حکومت کو 32 ہزار ڈالر کی پیشکش کی، جو قبول کرلی گئی۔ یوں اس سفر کا پہلا بڑا مرحلہ طے ہوا۔ مگر اگلا مسئلہ زمین کی حالت تھی۔ جگہ نشیبی تھی اور تعمیر سے پہلے خاصی مقدار میں مٹی بھرنے کی ضرورت تھی۔ تنظیم نے وہاں ایک سادہ سا بورڈ لگا دیا کہ لوگ اپنی اضافی صاف مٹی یہاں ڈال سکتے ہیں۔
پھر ڈیڑھ سال تک لوگ اپنی ضرورت سے بچ جانے والی مٹی وہاں ڈالتے رہے اور رضاکار ٹریکٹر کے ذریعے اسے برابر کرتے رہے۔ جس کام پر بھاری رقم خرچ ہونا تھی، وہ مقامی لوگوں کے تعاون سے تقریباً مفت مکمل ہوگیا۔ بالآخر وہ وقت بھی آیا جب ایک اور بورڈ لگانا پڑا کہ اب مزید مٹی کی ضرورت نہیں۔
مسجد کے پلاننگ پرمٹ کے لیے 2015 میں درخواست دی گئی، 2016 میں منظوری ملی اور تقریباً 2018 میں عملی تعمیر شروع ہوئی۔ یہ سفر کسی سیدھی لکیر کی طرح آسان نہیں تھا۔ بلڈرز، انجینئرز، سٹی کونسل، کونسل انسپکٹرز، کنسلٹنٹس، مقامی آبادی اور کمیونٹی کے ساتھ مسلسل رابطہ درکار تھا۔




اس سارے عمل میں Ararat Islamic Welfare Association Inc. (AIWA) کے رضاکار پیش پیش رہے۔ تنظیم 2004 سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہے، اس کے تقریباً 60 ارکان ہیں، اپنا آئین رکھتی ہے اور اسی آئینی طریقۂ کار کے تحت ہر سال AGM جبکہ ہر دو سال بعد انتخابات کے ذریعے انتظامی کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ موجودہ انتظامی ٹیم میں صدر الطاف حسین، نائب صدر محمد حنیف، سیکریٹری منظور احمد میاں جے پی اور خزانچی فہیم فاروق شامل ہیں، جبکہ ایگزیکٹو باڈی میں محمد آصف، محمد طارق، ڈاکٹر فراز احمد اور محترمہ رانی طاہرہ شامل ہیں۔
لیکن اس پوری داستان کا سب سے خوبصورت باب مسجد کی دیواروں کے اندر نہیں، ان کے باہر اسوقت لکھا گیا۔جب مقامی کیتھولک پادری فادر اینڈریو ہائے کو مسجد کے منصوبے کا علم ہوا تو انہوں نے اسے صرف مسلمانوں کا معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے تعاون کیا اور جب بعض عناصر کی طرف سے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش ہوئی تو کھل کر مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔
انہوں نے مقامی لوگوں کا اجتماع بلایا، اخبار میں اشتہار دیا، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کیں اور مسجد کے لیے تعاون کی اپیل کی۔ اس اجتماع کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہیں تقریباً ساڑھے سات ہزار ڈالر جمع ہوگئے۔ذرا اس منظر کو دیکھیے: ایک چرچ کا پادری لوگوں کو مسجد کے لیے جمع کر رہا ہے۔ یہ صرف مذہبی رواداری کا واقعہ نہیں؛ یہ اس اعتماد کی تصویر ہے جو معاشرے میں تعلق، مکالمے اور ایک دوسرے کے احترام سے پیدا ہوتا ہے۔
حکومت نے بھی مالی تعاون کیا، مقامی کونسل اور شہریوں نے ساتھ دیا، حتیٰ کہ قانونی مراحل میں بعض اخراجات اور فیسوں سے بھی رعایت ملی۔ یوں ایک چھوٹی سی مسلم کمیونٹی کا منصوبہ رفتہ رفتہ پورے شہر کا مشترکہ منصوبہ بنتا چلا گیا۔ مسجد کی تعمیر مسلمانوں نے ضرور کی، مگر اس کے سفر میں بہت سے غیر مسلم ہاتھ بھی شامل رہے۔
منصوبے کے طویل سفر میں منظور احمد میاں جے پی کا کردار بھی غیر معمولی رہا، جو طویل عرصے تک تنظیم کے سیکریٹری کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کے پروجیکٹ مینیجر کی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔ ان کے مطابق ابتدا میں ارادہ نسبتاً چھوٹی مسجد تعمیر کرنے کا تھا، لیکن ایک محسن کی مالی مدد اور مسلسل حوصلہ افزائی نے منصوبے کو وسعت دی اور مسجد کے ساتھ کمیونٹی سینٹر بھی وجود میں آگیا۔ وہ 2018 سے 3 اکتوبر 2026 تک اس منصوبے کے روزمرہ انتظام، بلڈرز، انجینئرز، کونسل، انسپکٹرز، کنسلٹنٹس، عوام اور کمیونٹی سے رابطے اور فنڈ ریزنگ سمیت مختلف امور کی نگرانی کرتے رہے۔
آج یہ مرکز صرف Ararat کے مسلمانوں کیلئے لیے نہیں۔ Melbourne، Horsham، Adelaide اور Grampians کی سمت سفر کرنے والے افراد، علاقے میں کام کرنے والے ہنرمند اور مغربی ہائی وے سے گزرنے والے مسافر بھی اس مرکز سے استفادہ کرتے ہیں۔ جمعہ کی نماز میں آنے والوں کی تعداد بھی اس شہر میں مقیم مسلم گھرانوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک چھوٹی کمیونٹی کی ضرورت، وسیع تر معاشرتی سہولت میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔
مرکز کی کامیابی کا اندازہ صرف نمازیوں کی تعداد سے بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ مقامی لوگ یہاں ہونے والی تقریبات میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ کمیونٹی کے مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد مل جل کر رہتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر وسائل کی کمی کے باعث جب تنظیم افطار ڈنر کا اہتمام نہ کرسکی تو مقامی غیر مسلم دوستوں نے پوچھا: رمضان کا افطار ڈنر کہاں ہے؟ ہم تو اس کا انتظار کر رہے تھے۔
بظاہر یہ معمولی سا جملہ ہے، مگر کسی بھی عمارت کے افتتاح سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ کیونکہ عمارتیں تعمیر کرنے کے لیے اینٹیں درکار ہوتی ہیں، مگر تعلق تعمیر کرنے کے لیے اعتماد چاہیے
شاید یہی وجہ ہے کہ Ararat میں اب کچھ لوگ اس علاقے میں آباد ہونے کے امکانات کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں صرف مسجد دکھائی نہیں دیتی؛ انہیں ایسا ماحول نظر آتا ہے جہاں مذہبی ہم آہنگی تقریروں کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہے،قومی یکجہتی کسی نعرے کی محتاج نہیں اور جہاں مختلف عقائد رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وجود کو معاشرے کی خوبصورتی سمجھتے ہیں۔
ارارت کی مسجد ہمیں ایک اہم حقیقت یاد دلاتی ہے: کسی معاشرے کی اصل طاقت اس کی اکثریت کی تعداد میں نہیں، مختلف لوگوں کے درمیان قائم اعتماد میں ہوتی ہے۔ یہاں مسلمانوں کے گھرانے چند ہیں، مگر ان کے گرد اعتماد کا دائرہ وسیع ہے۔ چرچ نے ہاتھ بڑھایا، حکومت اور کونسل نے تعاون کیا، مقامی شہری شریک ہوئے اور مسلمانوں نے اس اعتماد کو ایسی جگہ میں ڈھال دیا جہاں عبادت کے ساتھ انسانوں کی خدمت، ملاقات اور تعلق کا دروازہ بھی کھلا ہے۔
ارارت کی یہ مسجد صرف مسجد نہیں۔ یہ ایک چھوٹے شہر میں جنم لینے والے بڑے خواب کی تعبیر ہے اور اس سوال کا عملی جواب ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک ہی معاشرے میں کس طرح ساتھ رہ سکتے ہیں۔ اس کا جواب کسی فلسفیانہ بحث، کسی طویل تقریر یا کسی رسمی اعلامیے میں نہیں، Ararat کی ان گلیوں میں ملتا ہے جہاں ایک چرچ کا پادری مسجد کے لیے لوگوں کو جمع کرتا ہے، غیر مسلم دوست مسلمانوں کے افطار کا انتظار کرتے ہیں اور چند مسلم گھرانے پورے شہر کے اعتماد کو سنبھال کر کھڑے ہیں۔
مسجد تو اینٹوں سے بنی ہے، مگر اس کی اصل بنیاد وہ اعتماد ہے جو انسانوں نے ایک دوسرے پر رکھا۔ اور کسی بھی معاشرے میں اس سے زیادہ مضبوط بنیاد شاید کوئی اور نہیں۔
-
برطانیہ اور یورپ7 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان7 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو12 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان8 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

