پاکستان
امن کے چراغ بجھنے سے پہلے
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز, برطانیہ
کبھی کبھی قومیں جنگ کے میدان میں نہیں ہارتیں،
وہ اپنے ہی لفظوں میں ہارنا شروع ہوجاتی ہیں۔
پہلے لہجے بدلتے ہیں، پھر چہرے بدلتے ہیں، پھر ایک دوسرے کو سننے کی صلاحیت ختم ہوتی ہے۔ اختلاف، دشمنی میں بدلتا ہے؛ دشمنی، نفرت میں؛ نفرت، تصادم میں—اور پھر ایک دن انسان حیران کھڑا ہوتا ہے کہ یہ سب کب ہوا؟
شاید اسی لیے امن کی سب سے بڑی دشمن صرف بندوق نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی بے لگام نفرت بھی بندوق سے پہلے اپنا کام شروع کردیتی ہے۔
پاکستان آج ایک ایسے ہی نازک سیاسی اور سماجی دور سے گزر رہا ہے جہاں اختلافِ رائے کی شدت نے معاشرے میں بے اعتمادی اور کشیدگی کو بڑھایا ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، احتجاج شہری حق ہے، سوال کرنا آزادی ہے اور حکومت پر تنقید جمہوری نظام کا لازمی حصہ۔
مگر سوال یہ ہے کہ-
جب اختلاف، تصادم بن جائے تو پھر جیتتا کون ہے؟*
حکومت؟
اپوزیشن؟
کوئی سیاسی جماعت؟
کوئی ادارہ؟
نہیں۔
آخر میں ہارتا ہے تو صرف پاکستان۔
اور اس شکست کی قیمت وہ شخص ادا کرتا ہے جس کا نہ کوئی جلسہ ہے، نہ کوئی اقتدار، نہ کوئی سیاسی عہدہ۔
وہ مزدور جو روزگار کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔
وہ دکاندار جو شام کو دکان بند کرکے گھر پہنچنا چاہتا ہے۔
وہ طالب علم جو کتاب ہاتھ میں لے کر مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔
وہ ماں جو اپنے بیٹے کے گھر لوٹنے کی دعا کرتی ہے۔
وہ باپ جو چاہتا ہے کہ اس کے بچوں کو ایک ایسا ملک ملے جہاں اختلاف کا مطلب خوف نہ ہو۔
ہم شاید ان لوگوں کو بھول جاتے ہیں۔
ہم سیاسی بحثوں میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ پاکستان پیچھے رہ جاتا ہے۔
امن وہ نعمت جس کا احساس دیر سے ہوتا ہے۔
ہم امن کو اس وقت تک معمول سمجھتے ہیں جب تک وہ موجود رہتا ہے۔
صبح بازار کھلتا ہے۔
اسکول کی گھنٹی بجتی ہے۔
موٹروے پر گاڑیاں دوڑتی ہیں۔
ہوائی جہاز فضا میں پرواز کرتے ہیں۔
مسافر رات گئے اپنے گھروں کو واپس آتے ہیں۔
بچے گلی میں کھیلتے ہیں۔
ماں دروازے پر کھڑی اپنے بیٹے کا انتظار کرتی ہے۔
ہم ان مناظر سے گزرتے ہوئے شاید ہی کبھی سوچتے ہیں کہ یہ سب دراصل ریاست کے قائم رہنے کی نشانیاں ہیں۔
لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستی اختیار کمزور پڑتا ہے تو یہی معمول سب سے پہلے ٹوٹتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے اس تلخ حقیقت کا سامنا کیا ہے۔
یمن میں ریاستی اختیار کی تقسیم نے طویل تنازع کو جنم دیا۔
عراق میں ریاستی اداروں کی کمزوری، سیاسی و معاشرتی تقسیم اور مسلح گروہوں کے عروج نے ایک پورے معاشرے کو شدید عدم تحفظ سے دوچار کیا۔
افغانستان میں ریاستی و سکیورٹی ڈھانچے کا تیزی سے انہدام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ریاست صرف اسلحے سے نہیں چلتی؛ اداروں، سیاسی اعتماد، انتظامی صلاحیت اور عوامی وابستگی کے بغیر طاقت کا ظاہری ڈھانچہ بھی اندر سے کھوکھلا ہوسکتا ہے۔
ان مثالوں کا مقصد پاکستان کو کسی دوسرے ملک سے تشبیہ دینا نہیں۔
پاکستان پاکستان ہے۔
اس کی اپنی تاریخ ہے، اپنی جغرافیائی اہمیت ہے، اپنی سیاسی حرکیات ہیں اور اپنے مضبوط و کمزور پہلو ہیں۔
لیکن تاریخ کا ایک اصول عالمگیر ہے:
ریاستی اختیار کا خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔
اگر ریاست پیچھے ہٹے گی تو کوئی نہ کوئی طاقت آگے بڑھے گی۔
اور جب قانون کمزور ہوتا ہے تو طاقتور کا قانون مضبوط ہوجاتا ہے۔
طاقت صرف بندوق کا نام نہیں
یہ بھی ایک غلط فہمی ہے کہ ریاستی طاقت صرف فوج، پولیس، اسلحے یا سکیورٹی اداروں کا نام ہے۔
ریاست کی اصل طاقت شہری کا اعتماد ہے۔
وہ اعتماد کہ اگر میرے ساتھ زیادتی ہوگی تو مجھے انصاف ملے گا۔
یہ یقین کہ قانون میرے اور طاقتور شخص کے درمیان فرق نہیں کرے گا۔
یہ اطمینان کہ میری جان، میرا گھر، میرا کاروبار اور میرے بچوں کا مستقبل محفوظ ہے۔
یہ احساس کہ حکومت بدلے گی تو نظام نہیں ٹوٹے گا۔
یہ یقین کہ سیاسی اختلاف ہوگا تو ریاست برقرار رہے گی۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں ایک نہایت اہم حقیقت سمجھنی ہوگی:
مضبوط ریاست اور مضبوط ادارے ایک دوسرے کے مخالف نہیں؛ لیکن مضبوط ادارے بھی آئین، قانون اور احتساب کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔*
کسی بھی ادارے کو سوال سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
کسی حکومت کو تنقید سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
کسی سیاسی جماعت کو قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
اور کسی شہری کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی مقصد کے لیے دوسرے شہری کے جان و مال کو خطرے میں ڈال دے۔
یہی توازن جمہوریت کو انتشار سے بچاتا ہے۔
سیاست یا میدانِ جنگ؟
سیاست کا اصل حسن یہ ہے کہ مخالف آپ کا دشمن نہیں ہوتا۔
وہ صرف آپ سے مختلف سوچتا ہے۔
لیکن جب سیاسی زبان میں نفرت بڑھ جائے تو مخالف انسان نہیں رہتا، ایک "فریق” بن جاتا ہے۔
پھر فریق، دشمن بنتا ہے۔
اور دشمن کے خلاف ہر حربہ جائز سمجھا جانے لگتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اپنا اخلاقی جواز کھونا شروع کردیتی ہے۔
ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا:
کیا سیاست کا مقصد اقتدار حاصل کرنا ہے یا معاشرہ سنوارنا؟
کیا حکومت کا مقصد صرف اقتدار برقرار رکھنا ہے یا شہری کا اعتماد حاصل کرنا بھی؟
کیا اپوزیشن کا مقصد صرف حکومت گرانا ہے یا متبادل سیاسی راستہ دکھانا بھی؟
اور کیا ریاستی اداروں کا مقصد صرف نظم قائم رکھنا ہے یا قانون اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن قائم کرنا بھی؟
ان سوالوں کے جواب آسان نہیں۔
مگر ان سے فرار بھی ممکن نہیں۔
اختلاف رہے، مگر پاکستان نہ ٹوٹے
ہمیں اختلاف کرنا ہے۔
ضرور کریں۔
سوال اٹھائیں۔
ضرور اٹھائیں۔
احتجاج کریں۔
ضرور کریں۔
حکومت سے جواب مانگیں۔
اداروں سے جواب طلب کریں۔
سیاسی قیادت کا احتساب کریں۔
لیکن ایک لکیر ایسی بھی ہے جس کے پار جانے کے بعد نقصان کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کا نہیں رہتا۔
وہ نقصان ریاست کا نقصان بن جاتا ہے۔
اور ریاست کا نقصان بالآخر عوام کا نقصان ہوتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج کا حق اور تشدد کا حق ایک چیز نہیں۔
آزادیٔ اظہار اور نفرت پھیلانے میں فرق ہے۔
تنقید اور تضحیک میں فرق ہے۔
سیاسی مزاحمت اور ریاستی انتشار میں فرق ہے۔
احتساب اور ادارہ شکنی میں فرق ہے۔
یہ فرق اگر مٹ گیا تو پھر ہر فریق اپنے عمل کو حق اور دوسرے کے عمل کو جرم قرار دے گا۔
اور یہی وہ راستہ ہے جہاں معاشرے ٹوٹتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں سے کیا کہنا ہے؟
ایک لمحے کے لیے سیاست کو ایک طرف رکھ کر اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھیں۔
ہم انہیں کیا پاکستان دینا چاہتے ہیں؟
ایسا پاکستان جہاں وہ اختلاف کرسکیں مگر خوفزدہ نہ ہوں؟
ایسا پاکستان جہاں عدالت انصاف کی آخری امید ہو؟
ایسا پاکستان جہاں سیاسی جماعتیں انتخابات میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں مگر ایک دوسرے کو دشمن نہ سمجھیں؟
ایسا پاکستان جہاں ریاست مضبوط ہو مگر شہری کی آزادی بھی محفوظ ہو؟
یا ایسا پاکستان جہاں ہر انتخاب، ہر احتجاج اور ہر سیاسی اختلاف ایک نئے تصادم کا خوف پیدا کرے؟
فیصلہ صرف سیاست دانوں نے نہیں کرنا۔
یہ فیصلہ ہم سب نے کرنا ہے۔
کیونکہ قومیں صرف ایوانوں میں نہیں بنتیں۔
قومیں گھروں میں بنتی ہیں۔
اسکولوں میں بنتی ہیں۔
بازاروں میں بنتی ہیں۔
عدالتوں میں بنتی ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، ہمارے رویوں سے بنتی ہیں۔
ابھی چراغ جل رہا ہے
ابھی بہت کچھ بچایا جاسکتا ہے۔
ابھی مکالمے کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
ابھی آئین موجود ہے۔
ابھی عدالتیں موجود ہیں۔
ابھی پارلیمان موجود ہے۔
ابھی سیاسی جماعتیں موجود ہیں۔
ابھی عوام کے پاس اپنی رائے ہے۔
اور سب سے بڑھ کر—ابھی ہمارے پاس ایک دوسرے کو سننے کا موقع موجود ہے۔
ہمیں اپنے اداروں کی اصلاح کرنی ہے، انہیں مضبوط کرنا ہے، ان کا احتساب بھی کرنا ہے۔
ہمیں سیاسی نظام کو زیادہ شفاف، زیادہ جواب دہ اور زیادہ قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
ہمیں معیشت کو استحکام دینا ہے۔
ہمیں نوجوانوں کو امید دینی ہے۔
اور ہمیں اپنی سیاست سے وہ زہر نکالنا ہے جو ایک پاکستانی کو دوسرے پاکستانی سے خوفزدہ کرتا ہے۔
ملک صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں رہتے، ملک دلوں میں محفوظ رہتے ہیں-
سرحد پر کھڑا سپاہی ملک کی حفاظت کرتا ہے، مگر ملک کے اندر قانون، انصاف، برداشت اور باہمی احترام اس حفاظت کو معنی دیتے ہیں۔
ہم اپنے سیاسی اختلافات میں اتنے آگے نہ نکل جائیں کہ واپسی کا راستہ ہی بھول جائیں۔
ہم ایک دوسرے کو شکست دینے کی خواہش میں کہیں پاکستان کو شکست نہ دے بیٹھیں۔
کیونکہ اقتدار آتے جاتے رہتے ہیں۔
حکومتیں بنتی اور بدلتی رہتی ہیں۔
سیاسی نعرے بلند ہوتے اور خاموش ہوجاتے ہیں۔
جلسے ختم ہوجاتے ہیں۔
بینر اتر جاتے ہیں۔
لیکن وطن باقی رہتا ہے۔
اور اس وطن کو باقی رہنا چاہیے۔
**آخر میں سوال یہ نہیں ہوگا کہ کس نے کس کو شکست دی۔
سوال یہ ہوگا کہ اس کشمکش کے بعد پاکستان کتنا محفوظ، کتنا متحد اور کتنا پُرامن رہ گیا؟
ہمیں یہ سوال آج پوچھنا ہے۔
کل شاید بہت دیر ہوجائے۔
کیونکہ امن کا چراغ اچانک نہیں بجھتا۔
پہلے اس کی لو کمزور ہوتی ہے۔
پھر ہوا تیز ہوتی ہے۔
پھر روشنی لرزتی ہے۔
اور پھر ایک دن اندھیرا ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
تب ہمیں یاد آتا ہے کہ چراغ تو ہمارے ہاتھ میں تھا۔
ہم نے اس کی حفاظت کیوں نہ کی؟
اس لیے آئیے، اس چراغ کے بجھنے کا انتظار نہ کریں۔
اختلاف کریں، مگر دشمنی نہ کریں۔
احتجاج کریں، مگر تشدد نہ کریں۔
تنقید کریں، مگر نفرت نہ پھیلائیں۔
احتساب کریں، مگر ریاست کو کمزور نہ کریں۔
اور اپنے سیاسی اختلافات کے بیچ اتنی جگہ ضرور باقی رکھیں جہاں پاکستان کھڑا رہ سکے۔
کیونکہ حکومتیں بدل سکتی ہیں، قیادتیں بدل سکتی ہیں، سیاسی نقشے بدل سکتے ہیں—مگر وطن اگر کمزور ہوگیا تو اسے دوبارہ مستحکم کرنے میں نسلیں لگ سکتی ہیں۔
-
برطانیہ اور یورپ7 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان7 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو12 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان8 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

