تازہ ترین
سفرِ کربلا کی روداد
قسط اول: شب جمعہ
تحریر: نثار حسین

غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی کربلا کی فضا میں ایک غیرمرئی مگر محسوس ہونے والی تبدیلی نے جنم لیا۔ یوں لگا جیسے دن کی روشنی نے رخصت ہوتے ہوئے رات کے دامن میں کوئی راز رکھ دیا ہو۔ جیسے ہی سورج افق کے پیچھے چھپا، دل میں بے نام سی بے چینی جاگ اٹھی وہی کیفیت جو کربلا میں ہر شبِ جمعہ میرے وجود کا حصہ بن جاتی ۔ یہ اضطراب نہیں تھا، بلکہ ایک لطیف ندا تھی، جو بینُ الحرمین کی سمت بلا رہی تھی۔
کربلا کی شبِ جمعہ عام رات نہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب زمین، آسمان کی طرف کھلنے والے دروازوں کو محسوس کرتی ہے اور آسمان، زمین کے دل کی دھڑکن سننے لگتا ہے۔ یہاں وقت جیسے رفتار بدل لیتا ہے۔ گھڑیاں چلتی رہتی ہیں، مگر لمحے ٹھہر جاتے ہیں۔
میں آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہا تھا۔ محسوس ہوتا تھا کہ فضا میں کوئی ایسا نور بہہ رہا ہے جو دیکھا جا سکتا ہے، نہ چھوا جا سکتا ہے، مگر دل کو پوری طرح بھگو دیتا ہے۔ خاموش، اشکبار، دعا میں گم زائرین ہر طرف سے آ رہے تھے مگر سب کے چہروں پر سنجیدگی، شوق اور عاجزی کا امتزاج تھا، جیسے ہر آنیوالا جانتا ہو کہ وہ” مرکز عشق” کسی عام مقام کی طرف نہیں جا رہا۔

جیسے ہی میں نے بینُ الحرمین کی حدود میں قدم رکھا، دنیا سے رشتہ لمحہ بھر کو منقطع ہو گیا۔ یہ روشنی عام روشنی نہ تھی؛ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے فرشتوں نے اپنے پروں سے فضا کو روشن کر رکھا ہو۔ روضۂ امام حسینؑ اور روضۂ حضرت عباسؑ علمدار سامنے آئے تو یوں لگا جیسے کائنات سمٹ کر یہیں آ گئی ہو۔ یہاں زمین اور آسمان کی حدیں مٹ جاتی ہیں، اور صرف دعا کرتے، روتے، سمجھنے کی کوشش کرتے دل باقی رہ جاتے ہیں ۔تب احساس ہوا کہ بعض جگہیں رہنے کے لیے نہیں ہوتیں، انہیں محسوس کرنے کے لیے روح درکار ہوتی ہے۔
ایسا لگا جیسے وجود پر لدا بوجھ اترنے لگا ہو۔ ہر قدم کے ساتھ ہلکا پن بڑھتا جا رہا تھا۔ زائرین کے چہرے اس کیفیت کے گواہ تھے۔ سجدے ، خاموشی اور اشک، فضا خوشبوؤں سے معمور تھی مگر یہ خوشبو کسی خاص سمت کی طرف کھینچتی تھی وہیں، جہاں دلوں کے زخم بھرتے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص شبِ جمعہ امام حسینؑ کی زیارت کرے، خداوندِ متعال اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جنت میں اپنے امامؑ کے ساتھ قرار دیتا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ زائر کے ہر قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے،

شبِ جمعہ صرف رات نہیں بلکہ برکتوں کا دروازہ ہے۔ اس رات کے لیے متعدد عبادات اور اعمال کی سفارش کی گئی ہے، جن میں زیارتِ امام حسینؑ کو خاص مقام حاصل ہے۔ روایات کے مطابق اس رات انبیائے کرام، اولیائے الٰہی اور فرشتے امام حسینؑ کی قبر کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ اگرچہ زیارت ہر وقت عظیم اجر رکھتی ہے، مگر شبِ جمعہ اس اجر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
کربلا میں آ کر شبِ جمعہ کی اہمیت سنی ہوئی بات نہیں رہتی، بلکہ محسوس کی جانے والی حقیقت بن جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ وہ رات ہے جب اعمال پیش کیے جاتے ہیں، مومنین کی ارواح اپنے گھروں کا رخ کرتی ہیں، قبولیت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اور فرشتوں کا نزول بڑھ جاتا ہے۔ مگر یہاں ان تمام عقائد کی اصل روح فضا کے ہر ذرے میں بولتی محسوس ہوتی ہے، جیسے کوئی خاموشی سے کہہ رہا ہو:
“یہ وہ وقت ہے جب آسمان تم سے زیادہ قریب ہے۔”
اسی روحانی ماحول میں کربلا کی تاریخ کا ایک ایسا باب بھی ہے جو زیارت کے مفہوم کو مزید گہرا کر دیتا ہے سید محمد ابراہیم مجاب علیہ السلام کا واقعہ۔ پہلی بار جب میں ان کے مزار کے قریب سے گزرا تو ایک قبر نظر آئی، مگر بعد میں جب اس ہستی کے بارے میں پڑھا تو احساس ہوا کہ بعض انسان تاریخ میں صرف نام نہیں چھوڑتے، ایک کیفیت چھوڑ جاتے ہیں۔
سید ابراہیم مجاب، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے پڑپوتے تھے۔ 861ء میں پیدا ہوئے اور عباسی خلافت کے اس دور کو دیکھا جب متوکل عباسی جیسے حکمران نے روضۂ امام حسینؑ کو مسمار کرانے اور زیارت پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔ متوکل کی موت کے بعد اس کے بیٹے مستنصر نے پابندیاں اٹھائیں اور روضے کی تعمیر کی اجازت دی۔ انہی ایام میں سید ابراہیم کربلا تشریف لائے۔ کربلا میں آباد ہونیوالا پہلا سید ہیں۔

وہ ہر شبِ جمعہ اپنے والدین میں سے کسی ایک کو کندھوں پر اٹھا کر زیارت کے لیے روضہ امام حسین علیہ السلام پرلاتے تھے، کیونکہ دونوں ضعف اور بڑھاپے کے باعث چلنے سے قاصر تھے۔ ایک شبِ جمعہ، دن بھر کی مشقت کے بعد جب وہ گھر لوٹے تو والدگرامی کو کندھوں پر بٹھا کر زیارت امام حسین علیہ السلام سے واپس گھر پہنچے تووالدہ نے حسرت بھری آواز میں کہا:
“بیٹا، آج مجھے زیارت کروا دو، شاید اگلی شب نصیب نہ ہو۔”
تھکن کے باوجود وہ اٹھے، والدہ کو کندھوں پر بٹھایا اور روضۂ حسینیؑ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب دروازے پر پہنچ کر مؤدبانہ سلام عرض کیا، تو رات کی خاموشی میں ایک واضح، روشن اور غیر معمولی آواز گونجی:
“وَعَلَيْكَ السَّلَام، سَيِّدُ مُحَمَّدِ اِبْرَاهِيم!”
یہ آواز صرف ایک فرد نے نہیں، متعدد زائرین نے سنی۔ خبر قبائل میں پھیل گئی، اور لوگ شبِ جمعہ جمع ہونے لگے کہ شاید وہ بھی امامؑ کے جواب کا مشاہدہ کر سکیں۔ اسی نسبت سے انہیں “مجاب” کہا گیا یعنی وہ جنہیں جواب ملا۔
یہ واقعہ کربلا کی تاریخ میں زیارت کی روح کو نئی گہرائی عطا کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ان کا مزار روضۂ امام حسینؑ کے قریب تر آتا گیا، یہاں تک کہ 1804ء کی توسیع کے دوران وہ حرم کے اندر شامل ہو گیا۔ آج بھی ان کے مزار پر حاضری دیتے ہوئے یہ احساس شدت اختیار کر جاتا ہے کہ عشق، اگر خالص ہو، تو رحمت خود راستہ بنا لیتی ہے۔
اس شب میں جب روضۂ امام حسین علیہ السّلام کے قریب کھڑا تھا، سجدوں میں گرے زائرین، اشکبار آنکھیں اور لرزتے لب دیکھ کر اچانک یہ احساس جاگا کہ یہ مقام معرفت کا ہے۔ حاجتیں تو ہر دل میں ہوتی ہیں، مگر اصل حاجت یہ سمجھنے کی ہے کہ حسینؑ کون اور عشقِ حسینؑ کا راز کیا ہے۔
میں نے دل ہی دل میں عرض کیا:
یا اباعبداللہؑ، یا شہیدِ کربلا، یا وارثِ امرِ نبوت یہ عاجز شبِ جمعہ تیری بارگاہ میں حاضر ہے۔ تمنّا ہے کہ اپنے کرم سے وہ فیض عطا فرما کہ روزِ محشر تیرے سائے میں امن نصیب ہو۔
رات دھیرے دھیرے گزرنے لگی۔ دل کا بوجھ ہلکا ہوتا گیا۔ فجر سے پہلے کی ٹھنڈی ہوا میں یوں محسوس ہوا جیسے آسمان نے زمین کی خاموشیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہو۔ یہاں عبادت عبادت نہیں رہتی، عشق بن جاتی ہے۔ انسان دعا نہیں کرتا، خود دعا بن جاتا ہے۔ گریہ آنکھوں سے نہیں، روح سے بہتا ہے، اور سکون کوئی کیفیت نہیں بلکہ وجود کا حصہ بن جاتا ہے۔
جب حرم سے رخصت ہونے کا وقت آیا تو دل میں ایک گہرا یقین اتر چکا تھا:
کربلا کی شبِ جمعہ وہ تجربہ ہے جسے جو ایک بار جیتا ہے، وہ عمر بھر اسے نہیں بھلا سکتا۔ رات نہیں، یہ روح کی وہ منازل ہیں جنہیں طے کر کے انسان خود کو پہچان لیتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں حسینؑ کے سامنے سب کچھ کہہ دینا آسان ہے، مگر حسینؑ کو سمجھ لینا سب سے مشکل۔اور یہی کربلا کی سب سے بڑی عطا ہے۔ا
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

