پاکستان
ڈی جی خان سے حوا کی ایک بیٹی کی وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے فریاد
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز ، برطانیہ
ڈی جی خان کا شہر رات کے سناٹے میں ڈوبا ہوا ہے۔
گلیاں خاموش ہیں، دروازے بند ہیں، اور ہر چھت، ہر اینٹ، ہر درخت جیسے اپنی سانس روک کر بیٹھا ہے۔
مگر ایک گھر، ایک کمرہ—وہاں خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔
ایک سال آٹھ ماہ کے بچے کی ننھی انگلیاں ماں کے ہاتھ میں جکڑی ہوئی ہیں۔
ننھا سا وجود ماں کے ساتھ لپٹا ہوا، خوف سے کانپ رہا ہے۔
اس کی آنکھیں—جو ابھی لفظوں سے زیادہ احساس سمجھتی ہیں—ماں کے چہرے سے چمٹی ہوئی ہیں،
جیسے خاموشی سے سوال کر رہی ہوں:
“امی… ہم محفوظ ہیں نا؟”
یہ بھی پڑھیں: جب محبت جرم بن جاتی ھے: ایک ھوشربا فسانہ و حقیقت
خاتون کا سانس رکتا ہے۔
آنکھیں اشکوں سے بھری ہوئی ہیں، اور ہر لفظ جو اس کے لبوں سے نکلتا ہے، درد اور خوف میں ڈوبا ہوا ہے۔
“وہ وردی والا… اب محافظ نہیں رہا… وہ میرے لیے موت بن چکا ہے۔”
اس کا اشارہ ڈی جی خان کے بااثر پولیس افسر، ڈی پی او صادق حسین کی طرف ہے—
وہ شخص جو کبھی اس کا مبینہ شوہر تھا،
مگر آج اس کی دنیا کا سب سے بڑا خوف بن چکا ہے۔
رات کے اندھیرے میں خاتون کے دروازے ٹوٹتے ہیں،
گالیاں فضا میں بکھرتی ہیں،
تشدد جسم پر اترتا ہے،
مگر خاتون بچے کو اپنے سینے سے جکڑ لیتی ہے—
جیسے دنیا کی ساری سفاکی وہ خود سہہ لے،
مگر بچے پر آنچ نہ آنے دے۔
یہ بھی پڑھیں:طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق
“اس بچے کو ختم کر دو… یا کسی یتیم خانے میں پھینک آؤ!” مبینہ باپ تنبیہ کرتا ہے-
وہ چیختی ہے۔
“ایک ماں ایسا نہیں کر سکتی!”
آنکھوں میں خوف ہے، مگر دل میں عزم:
“اگر مجھے یا میرے بچے کو کچھ ہوا، تو یاد رکھنا—یہ حادثہ نہیں ہوگا۔”
خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس شواہد موجود ہیں،
اور وہ جانتی ہے کہ سچ دبایا نہیں جا سکتا:
“سچ بولتا ہے… آج نہیں تو کل، مگر بولتا ضرور ہے۔”
اسی اثنا میں سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کرنے لگتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ خاتون، ڈی پی او کی مبینہ طور پر غیر رسمی (غیر اعلانیہ) بیوی تھی۔
حادثاتی حمل اور بچے کی پیدائش نے ڈی پی او کو ناراض کر دیا،
کیونکہ وہ خاتون کو صرف اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا،
جبکہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ معمول کی زندگی گزار رہا تھا۔
یہ افواہیں خاتون کے خوف اور درد میں مزید کانٹے گھونپ دیتی ہیں۔
دوسری جانب، ڈی پی او صادق حسین اپنے دفتر میں کھڑے ہیں۔
کاغذوں کے ڈھیر کے درمیان، ان کی تیز آنکھیں ایک سوچ میں گم ہیں۔
“یہ الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور ذاتی اختلافات کا نتیجہ ہیں۔
میں قانون کا افسر ہوں اور قانون پر یقین رکھتا ہوں۔
نہ میں تشدد کرتا ہوں، نہ کسی بچے کو دھمکی دیتا ہوں۔”
ہر لفظ جو وہ بولتے ہیں، ماحول پر بھاری محسوس ہوتا ہے،
مگر ان کے لہجے کے پیچھے ایک سردی اور خاموشی چھپی ہے۔
“معاملہ گھریلو نوعیت کا ہے،
جسے ذاتی مفادات کے لیے بڑھایا جا رہا ہے۔
اگر کسی کے پاس شواہد ہیں تو وہ قانون کے سامنے آئیں۔
سچ تحقیقات سے سامنے آتا ہے، سوشل میڈیا ٹرائل سے نہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
خاتون، اپنی بے بسی کے باوجود،
سوشل میڈیا پر وڈیو پیغام کے ذریعے
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ کے سامنے اپنے درد کی فریاد رکھتی ہے:
“مجھے نہ عہدہ چاہیے،
نہ طاقت،
نہ انتقام…
بس میرے بچے کو زندہ رہنے کا حق دے دیں۔”
وہ ایک گہرا سانس لیتی ہے،
چہرے پر درد اور دل میں خوف لیے:
“جب زندہ رہنا عذاب لگنے لگے،
تو موت آسان دکھائی دیتی ہے۔”
وقت جیسے تھم جاتا ہے۔
رات کی ہوا پردوں کے بیچ سرکتی ہے۔
بچے کی ننھی انگلی ماں کی انگلی میں دبتی ہے،
اور خاتون اپنے دل کی دھڑکن سنتی ہے—
ہر دھڑکن کے ساتھ ایک سوال:
کیا کل وہ محفوظ ہوں گے؟
یہ معاملہ اب صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہا۔
یہ قانون، اختیار اور شہری تحفظ کا سوال بن چکا ہے۔
شہری پوچھتے ہیں:
اگر الزامات سچ ہیں تو ماں اور بچے کو کون بچائے گا؟
اور اگر الزامات غلط ہیں تو سچ تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: بلیو بیج اسکیم: فلاحی حق یا قانونی استحصال؟
یہ کہانی صرف ایک خاتون کی نہیں۔
یہ ہر اس ماں کی کہانی ہے جو رات کے وقت دروازے کی آہٹ پر چونک اٹھتی ہے،
ہر اس بچے کی کہانی ہے جو کھیلنے سے پہلے خوف سیکھ لیتا ہے،
اور ہر اس کمزور آواز کی کہانی ہے جو طاقت کے شور میں دب جاتی ہے۔
کہانی ختم نہیں ہوتی۔
یہ صرف ایک سوال چھوڑ جاتی ہے:
اگر قانون کا رکھوالا ہی الزام کے کٹہرے میں کھڑا ہو،
تو انصاف کا معیار کون طے کرے گا؟
ایک ماں،
اپنے ایک سال آٹھ ماہ کے بچے کو سینے سے لگائے،
سرگوشی کرتی ہے:
“اگر آج اسے انصاف نہ ملا،
تو اس جیسی ہر حوا کی بیٹی کا
انصاف سے ایمان اٹھ جائے گا۔”
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

