پاکستان
کووڈ 19 اور برطانیہ میں 6.6 ملین پاؤنڈز کا اسکینڈل
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
برطانیہ کی ایک عدالت میں اس وقت ایک مقدمہ زیرِ سماعت ہے جس میں کووڈ-19 وبا کے دوران ایک نجی ٹیسٹنگ کاروبار کو مبینہ طور پر “کیش کاؤ” (منافع بٹورنے کا ذریعہ) میں تبدیل کرنے کا الزام سامنے آ رہا ہے۔
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ اس مقدمے میں سابق پاکستانی نژاد برطانوی وزیر اور رکنِ پارلیمنٹ شاہد ملک سمیت پانچ افراد پر فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔ استغاثہ عدالت کو بتا رہا ہے کہ یہ کاروبار محض چند ہفتوں میں تقریباً چھ اعشاریہ چھ ملین پاؤنڈ کما رہا ہے۔ یہ رقم محض ایک مالی عدد نہیں رہتی بلکہ اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ وبا جیسے قومی بحران میں ریاستی نگرانی کہاں ہے اور طاقتور ناموں کے لیے راستے کس طرح ہموار ہو جاتے ہیں۔

عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ ایک نجی کووڈ ٹیسٹنگ کمپنی غیر معمولی تیزی سے سرکاری اور عوامی اعتماد حاصل کر لیتی ہے، خود کو مکمل طور پر منظور شدہ ظاہر کرتی ہے، ناقص سہولیات اور غیر تربیت یافتہ عملے کے باوجود ٹیسٹنگ کا عمل جاری رکھتی ہے اور اسی بنیاد پر چند ہفتوں میں مبینہ طور پر چھ اعشاریہ چھ ملین پاؤنڈ کماتی ہے۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہوتا ہے جب عام شہری لاک ڈاؤن، خوف اور شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بریڈفورڈ کی خاموش گلی اور سفید پاؤڈر کا دھندہ
شاہد ملک ان الزامات کی تردید کر رہے ہیں اور قانونی اصول کے مطابق وہ اس وقت تک بے قصور ہیں جب تک عدالت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتی۔
جیسے ہی یہ مقدمہ منظرِ عام پر آتا ہے، ایک اور بیانیہ بھی ساتھ چل پڑتا ہے۔ شاہد ملک کو بار بار پاکستانی نژاد کے طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے، جیسے یہ شناخت خود اس مبینہ اسکینڈل کی وضاحت ہو۔ یہاں پاکستانی ناظرین کے لیے رک کر یہ سوال کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آیا چھ اعشاریہ چھ ملین پاؤنڈ کا یہ مبینہ معاملہ محض ایک قانونی اور کاروباری کیس ہے یا پھر اسے ایک پوری کمیونٹی کی اجتماعی شبیہ متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عدالت کسی فرد کو قصوروار ٹھہراتی ہے تو سزا بھی فرد کو ملنی چاہیے، اس کی نسل، قوم یا وطن کو نہیں۔ کمیونٹی رہنماؤں کے مطابق ایسے مقدمات کو نسلی زاویے سے پیش کرنا اجتماعی بدنامی کا راستہ ہموار کرتا ہے اور اس سے ان لاکھوں پاکستانی نژاد شہریوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے جو قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی محنت سے معاشرے کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب محبت جرم بن جاتی ھے: ایک ھوشربا فسانہ و حقیقت
تحقیقی نگاہ یہ واضح کرتی ہے کہ اصل سوال فرد کی شناخت نہیں بلکہ ریاستی نگرانی کی ناکامی، ہنگامی حالات میں منافع کے مواقع پیدا کرنے والی پالیسیوں اور اس نظام کا ہے جہاں ملین پاؤنڈ کے کاروبار خاموشی سے کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر عوامی بحث کو بار بار شناخت کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔
عدالت طے کرے گی کہ چھ اعشاریہ چھ ملین پاؤنڈ کا یہ مبینہ کاروبار جرم کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، مگر پاکستانی ناظرین کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ ہم اس مقدمے کو فرد کے عمل تک محدود رکھتے ہیں یا ایک بار پھر ایک نام کے ساتھ پوری شناخت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔
یہ کیس بلاشبہ برطانیہ میں چل رہا ہے، مگر اس کی بازگشت پاکستان میں سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک فرد کا مبینہ انفرادی عمل ہے، لیکن انگلیاں پوری کمیونٹی کی طرف اٹھتی ہیں، کیونکہ بیرونِ ملک ہر شخص، چاہے وہ سیاست دان ہو یا عام شہری، بالآخر اپنے وطن کے ایک غیر اعلانیہ سفیر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان4 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

