تازہ ترین
فیصلوں کی بازگشت
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
سردیوں کی شام ہے۔ لاہور دھند میں لپٹا ہوا ہے، یوں جیسے شہر نے اپنے دکھ کو سفید چادر اوڑھائی ہوئی ہو۔ شہر کے ایک کشادہ گھر کے صحن میں نیم کا درخت ساکت ہے—شاخیں رکی ہوئی، فضا ٹھہری ہوئی، جیسے وقت سانس روکے کھڑا ہو۔
کمرے کے اندر کینسر کی مریضہ ایک ماں بستر پر پڑی ہے۔ دردوں سے کراہ رہی ہے، سانسوں کی ڈور باریک ہوتی جا رہی ہے۔
لیکن اس کی آنکھیں دروازے پر ٹھہری ہیں—یہ دروازہ اب لکڑی کا نہیں، امید کا آخری کنارہ ہے۔
باپ لرزتے ہاتھوں سے فون اٹھاتا ہے۔ انگلیاں نمبر تلاش کرتی ہیں، جیسے ماضی کی خوشبو کو چھونا چاہتی ہوں۔
“ہیلو… بیٹا؟”
دوسری طرف شور ہے—روشنیوں، نعروں اور اعلانوں کا شور۔
“جی ابا، میں میدان میں ہوں۔”
باپ کی آواز میں نمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 اور برطانیہ میں 6.6 ملین پاؤنڈز کا اسکینڈل
“تمہاری ماں کی طبیعت نازک ہے۔ وہ تیرا نام لے رہی ہے۔ کہتی ہے بس ایک نظر تمہیں دیکھ لوں…”
چند لمحے خاموشی میں معلق رہتے ہیں، پھر جواب آتا ہے:
“ابا، یہ فیصلہ کن میچ ہے۔ اگر ابھی چلا آوں تو سب کچھ داؤ پر لگ جائے گا۔ کاونٹی سے میرا معاہدہ ختم ہو جائے گا، اور پھر اس وقت ٹیم کو بھی میری اشد ضرورت ہے…”
باپ آنکھیں بند کرتا ہے۔ اس کے لہجے میں شکایت نہیں، ایک گہرا سچ ہے۔
“میدان کو تو تمہارے رنز اور وکٹیں مل جائیں گی،
مگر اس وقت ماں اک بار دیکھنا چاہتی ہے _ صرف اک بار _ اور شاید آخری بار __
بیٹا، کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو واپس نہیں آتے…”
یہ بھی پڑھیں: بریڈفورڈ کی خاموش گلی اور سفید پاؤڈر کا دھندہ
دوسری طرف سانس تیز ہو جاتی ہے۔
“ ابا میچ ختم ہوتے ہی آ جاتا ہوں۔ آپ امّی سے کہہ دیں میں کھیل رہا ہوں… ان کے لیے۔”
باپ کی آواز مدھم ہو جاتی ہے۔
“کچھ کھیل جیتنے کے لیے نہیں ہوتے… چھوڑنے کے لیے ہوتے ہیں…”
رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
کمرے میں خاموشی اترتی ہے۔ ماں کی نظریں اب بھی دروازے سے بندھی ہیں۔
“آ رہا ہے میرا بیٹا…؟”
باپ اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔
“ہاں… راستے میں ہے…”
دروازہ ساکت ہے۔
ہاتھ آہستہ آہستہ بے وزن ہو جاتا ہے۔
کچھ دن گزرتے ہیں۔ مٹی اپنا حق مانگتی ہے۔
باپ قبر کے پاس کھڑا ہے۔ آنکھیں خشک ہیں، مگر اندر ایک شور برپا ہے۔
“وہ جیت جاتا ہے…
مگر ہم ہار جاتے ہیں…”
یہ بھی پڑھیں: جب محبت جرم بن جاتی ھے: ایک ھوشربا فسانہ و حقیقت
وقت بہتا رہتا ہے۔
بیٹا کامیابی کی علامت بن جاتا ہے۔ اس کا نام گلی کوچوں، گاؤں اور شہروں میں گونجتا ہے۔ نوجوان اس کے انداز اپناتے ہیں۔ اعزاز اس کے گرد دائرہ بناتے ہیں۔ روشنی اس کا تعاقب کرتی ہے۔
مگر ہر شور کے پیچھے ایک خاموشی ساتھ چلتی ہے۔
کبھی ہجوم کے بیچ وہ ٹھہر جاتا ہے۔ روشنیوں کے دائرے سے باہر اسے ایک دروازہ دکھائی دیتا ہے—کھلا ہوا منتظر دروازہ۔
رات کے سناٹے میں جب تالیاں خواب بن جاتی ہیں تو ایک مدھم آواز ابھرتی ہے:
“آ رہا ہے میرا بیٹا…؟”
اور ساتھ وہ جملہ، جو وقت کے ساتھ اور گہرا ہوتا جاتا ہے:
“کچھ کھیل جیتنے کے لیے نہیں ہوتے… چھوڑنے کے لیے ہوتے ہیں…”
زندگی ترجیحات کا دوسرا نام ہے۔
ہم جو چنتے ہیں، وہی ہمیں تراشتا ہے۔
ہر فیصلہ ایک بیج ہے جو وقت کی مٹی میں خاموشی سے جڑ پکڑتا ہے۔
اسٹیڈیم کی گونج مدھم پڑتی ہے۔
اعزاز دیواروں پر سجے رہتے ہیں۔
مگر ایک دروازہ—
جو اُس شام نہیں کھلتا—
آج بھی اس کے اندر کھلا رہتا ہے۔
وہ بہت کچھ جیتتا ہے،
مگر ایک لمحہ ایسا ہے
جو اس سے ہمیشہ کے لیے روٹھا رہتا ہے۔
اور بعض اوقات
انسان پوری زندگی
اسی ایک بند دروازے کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 مہینہ agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان4 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز2 مہینے agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

