برطانیہ اور یورپ
طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز ، برطانیہ
۳ جنوری ۲۰۲۶ کی سرد، تاریک اور خاموش رات تھی۔ وقت تقریباً دو بجے کا تھا۔ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس کے باسی نیند کی آغوش میں تھے کہ اچانک شہر امریکی فضائی حملوں کی گھن گرج سے لرز اٹھا۔ صدارتی محل کے گرد دھوئیں اور دھماکوں نے فضا میں خوف و ہراس کی لہریں دوڑا دیں۔
ذرائع کے مطابق یہ حملے ایک خفیہ امریکی آپریشن “ایبسولوٹ ریزالو” کے تحت کیے گئے، جن کے دوران صدر نیکولس مادورو اور خاتونِ اول کو حراست میں لے لیا گیا۔ چند ہی لمحوں میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں بھگدڑ مچ گئی، افواہوں کا بازار گرم ہو گیا اور پورے شہر پر سراسیمگی طاری ہو گئی۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح دنیا بھر میں پھیل گئی، اور ایک بار پھر عالمی سیاست کی تلخ حقیقت پوری شدت سے نمایاں ہو گئی۔
یہ منظر چاہے مبالغہ آمیز لگے یا پروپیگنڈا سمجھا جائے، مگر اس کے پیچھے کارفرما اصول ناقابلِ تردید ہے: عالمی سیاست میں اخلاقی دعووں سے زیادہ طاقت کی زبان بولتی ہے۔ کمزور ریاستیں ہمیشہ تجربہ گاہ بنتی ہیں، اور وینزویلا کا بحران اسی حقیقت کی تازہ مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف کا حالیہ بیان اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں وہی ریاستیں محفوظ رہتی ہیں جو طاقتور ہوں، اور طاقت کی سب سے مؤثر ضمانت جوہری صلاحیت ہے۔ کمزور ممالک کے لیے نہ اقوامِ متحدہ کافی ثابت ہوتی ہے، نہ قراردادیں، نہ انسانی حقوق کی اپیلیں۔ ان کے حصے میں اکثر پابندیاں، بمباری اور داخلی عدم استحکام ہی آتا ہے۔
تاریخ کا یہ تلخ سبق ہمارے سامنے ہے۔ عراق، لیبیا اور افغانستان نے عالمی وعدوں پر بھروسا کیا، مگر طاقت کے توازن میں کمزوری نے انہیں تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا۔ اس کے برعکس پاکستان ایک تلخ مگر سچی مثال ہے: اس کی دفاعی صلاحیت اور ایٹمی پروگرام نے اسے خطے کی سنگین سیاسی و عسکری ہنگامی صورتحال میں بچائے رکھا۔
المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر بعض حلقوں میں ایک ایسا بیانیہ فروغ پا رہا ہے جو اپنی فوج، دفاعی اداروں اور ایٹمی پروگرام کو متنازع بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے، مگر دفاعِ ریاست کو کمزور کرنا دانش مندی نہیں بلکہ خود فریبی ہے۔ سب سے خطرناک سوچ وہ ہے جو پاکستان کو ڈی نیوکلیرائز کرنے کی بات کرتی ہے۔
وہ کام جو دشمن کھلی جنگ کے ذریعے نہ کر سکا، اسے چند ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا پر زہریلی مہمات، نعرہ بازی اور جذباتی بیانیے کے ذریعے ممکن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ عام لوگوں کی ذہن سازی کی جا سکے۔
آج روس برملا کہہ رہا ہے کہ جوہری صلاحیت ہی اصل تحفظ ہے۔ چین خاموشی سے اسی اصول پر کاربند ہے۔ شمالی کوریا اسی بنیاد پر ناقابلِ نظرانداز ہے، اور ایران اسی راستے پر گامزن ہے۔ یہ سب ممالک کسی رومانی نعروں کے سہارے نہیں، بلکہ سخت حقیقت پسندی کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ایک عجیب دہرا معیار رائج ہے۔ یہی بات اگر کوئی محبِ وطن پاکستانی کہہ دے تو اسے “اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ” قرار دے دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہی نکتہ عالمی طاقتوں کے نمائندے دہرا دیں تو اسے “عالمی اسٹریٹجک بصیرت” کہا جاتا ہے۔ مسئلہ خیال کا نہیں، شناخت کا بنا دیا گیا ہے۔
ریاستوں کی بقا کا راستہ سادہ مگر کڑا ہے: مضبوط فوج، ناقابلِ تسخیر دفاع، اور ایٹمی پروگرام پر غیر متزلزل قومی اتفاقِ رائے۔ باقی سب دلکش نعرے اور خوش نما وعدے ہیں، جن کی تاریخ میں کوئی ضمانت نہیں۔
آج وینزویلا میں جو کچھ دکھائی دے رہا ہے، وہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ دنیا بھر کی کمزور ریاستوں کے لیے ایک کھلا انتباہ ہے کہ طاقت کے بغیر بقا ممکن نہیں۔
بقول شاعر؎
نہ سمجھے تو مٹ جاؤ گے اے اہلِ وطن یکسر
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

