پاکستان
وینٹیلیٹر کی آس میں موت
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
حسبِ معمول میں صبح بستر سے اٹھتا ہوں۔ نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد ناشتے کی میز پر اخبار کا مطالعہ شروع کرتا ہوں کہ اچانک ایک دل خراش خبر پر نظر ٹھہر جاتی ہے:
“ن لیگ کا ایک مخلص اور نڈر کارکن، جو ساری زندگی پارٹی کے لیے جان کی بازی لگاتا رہا، آج راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں بارہ گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد، وینٹیلیٹر کی عدم دستیابی کے باعث زندگی کی بازی ہار گیا۔”

یہ خبر پڑھتے ہی میرا دل دہل جاتا ہے۔ اس سرفروش کارکن کا نام سامنے آتے ہی اس کا سراپا آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے — انجم اقبال مغل —
اس نے نوخیز جوانی سے لے کر ڈھلتی عمر کی آخری سانسوں تک ہر لمحہ، ہر پل، ہر دن پارٹی کے لیے وقف کیے رکھا۔
اس کے ہاتھوں میں پارٹی کا ہر منشور، ہر منصوبہ اور ہر مشن پروان چڑھا۔
ہر جلسے میں سب سے آگے،
ہر محاذ پر سب سے بڑھ کر پُرعزم —
وہ ہمیشہ ڈٹا رہا۔
لیکن آج —
وہ اپنے ہی شہر کی بے حسی کے سامنے تنہا کھڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سچ دب گیا، نعرہ جیت گیا، اداس نسلوں کی کہانی
میں اسے ہولی فیملی اسپتال کے ایک وارڈ میں تصور کرتا ہوں۔ سفید دیواریں خاموش گواہ بنی کھڑی ہیں۔ مشینوں کی مدھم آوازیں فضا میں گونج رہی ہیں اور نرسوں کے قدموں کی ہلکی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے۔ انجم کی سانسیں شدت سے موت کے فرشتے سے نبرد آزما ہیں، ہر لمحہ امید اور مایوسی کے درمیان معلق۔
اس کی آنکھوں میں وہی روشنی ہے جو برسوں پارٹی کے لیے جلتی رہی، مگر آج وہ روشنی مدھم پڑتی جا رہی ہے۔
وہ اپنے جوانی کے دن یاد کرتا ہے —
جب ہر جلسے میں سب سے آگے کھڑا ہوتا،
ہر منصوبے میں پیش پیش رہتا،
ہر وعدے کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کرتا۔
آج وہ خود ایک نقشہ بن چکا ہے —
ایسا نقشہ جس کی کوئی قدر نہیں، جو محض اخبار کے ایک صفحے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
بارہ گھنٹوں کی خاموشی، بارہ گھنٹوں کی بے بسی، —
ہر لمحہ اس کے دل پر ایک اور وار کرتی ہے۔
وہ سوچتا ہے: اگر یہ سب میرے ساتھ ہو رہا ہے، تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟
ہر پل،
ہر سانس،
ہر امید اور ہر خوف کے درمیان
وہ خود سے سوال کرتا ہے:
“کیا یہ دنیا صرف طاقت اور دکھاوے کے لیے ہے؟ انسانیت کا حساب کون دے گا؟”
ڈاکٹر آتا ہے، چند رسمی سوال کرتا ہے۔ نرس خاموشی سے پاس سے گزر جاتی ہے۔ پھر فیصلہ ہوتا ہے کہ اسے بے نظیر بھٹو ہسپتال منتقل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:چرواہے سے ایس ایس پی تک، ایک ماں کی نصیحت کی لازوال کہانی
ایمبولینس دوڑ پڑتی ہے۔
سڑکوں پر ٹریفک کا ہجوم ہے۔
ڈرائیور بار بار سائرن بجاتا ہے، راستہ مانگتا ہے —
مگر بے ہنگم ٹریفک رواں دواں ہے۔
کسی کو احساس نہیں کہ اس ایمبولینس میں ایک انسان موت سے جنگ لڑ رہا ہے۔
سڑکوں کی روشنیاں،
گاڑیوں کی گڑگڑاہٹ —
اور اس کا وجود دھیرے دھیرے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
جسم شکستہ ہو رہا ہے، مگر ذہن ابھی بیدار ہے۔
وہ سوچتا ہے:
“میں سب کے لیے لڑا، سب کے لیے قربانیاں دیں، مگر میری اپنی زندگی کی قیمت کسی نے نہ سمجھی۔”
وینٹیلیٹر کی آس لیے ایمبولینس بے نظیر بھٹو ہسپتال کی جانب بڑھتی ہے —
مگر شاید تقدیر کو کچھ اور منظور ہے۔
ہسپتال سے کچھ ہی فاصلے پر
انجم خاموشی سے زندگی کی بازی ہار دیتا ہے۔
نہ کوئی ہنگامہ،
نہ کوئی شور —
بس ایک سانس کا ٹوٹ جانا۔
یہ بھی پڑھیں: ماں، دارالامان اور انتظار کی آخری رات
ہسپتال کی چمکتی دیواریں، روشن راہداری —
سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے۔
دنیا کا پہیہ نہیں رکتا۔
میں اخبار بند کر دیتا ہوں،
مگر انجم کی یاد دل میں گونجتی رہتی ہے۔
یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں،
یہ اس شہر اقتدار کے جڑواں شہر راولپنڈی کی بے حسی کی کہانی ہے،
اس سیاست کا بھیانک چہرہ ہے،
اور عام شہری کی بے بسی کی تصویر ہے۔
انجم کی موت اس نظامِ سیاست کے منہ پر طمانچہ ہے —
اس سیاست پر، جو اپنے کارکنوں کی قربانیوں کے سہارے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتی ہے،
مگر انہی کارکنوں کے لیے ایک وینٹیلیٹر کا انتظام بھی نہیں کر پاتی۔
طاقت اور دکھاوے کی اس دنیا میں
ایک سفید پوش انسان کی جان کی کوئی وقعت نہیں۔
یہ صرف ایک شخص کی موت نہیں —
یہ ضمیر کی موت ہے،
یہ وعدوں کی موت ہے،
یہ اس سیاست کی موت ہے
جو نعروں میں کارکن کو اپنا بازو کہتی ہے،
مگر آزمائش کے وقت اسے بوجھ سمجھ کر چھوڑ دیتی ہے۔
جو اپنے جان نثار کارکن کے لیے ایک وینٹیلیٹر مہیا نہیں کر سکتے،
وہ قوم کے کروڑوں شہریوں کے لیے کیا آسانیاں پیدا کریں گے؟
شاید ان کے نزدیک عام انسان صرف گنتی کے ہندسے ہیں،
ووٹ کی پرچیاں ہیں —
یا محض کیڑے مکوڑے،
جن کی زندگی اور موت سے اقتدار کے ایوانوں کی روشنی مدھم نہیں ہوتی۔
مگر یاد رکھیے —
ہر ناانصافی ایک دن چیخ بن کر ابھرتی ہے،
ہر بے بسی ایک دن سوال بن کر کھڑی ہوتی ہے،
اور انجم کی خاموش موت بھی ایک دن دروازوں پر دستک دے گی۔
اس دن
نہ کوئی سائرن ہوگا،
نہ کوئی پروٹوکول —
صرف ضمیر کی عدالت ہوگی۔
اور وہاں
کوئی وینٹیلیٹر دستیاب نہیں ہوگا۔
-
پاکستان2 ہفتے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 مہینہ agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان4 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان4 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز

