پاکستان
پاکستان میں ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا: ایک تجزیاتی مطالعہ
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز ، برطانیہ
حالیہ برسوں میں پاکستان کے عوامی بیانیے میں “ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا” کی اصطلاح عام ہوئی ہے، جو ایسے منظم گروہوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن میں بااثر ڈیولپرز، سرکاری افسران اور بعض اوقات سیاسی شخصیات شامل ہوتی ہیں۔ یہ عناصر زمین کے قوانین اور ریگولیٹری نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر غیر قانونی طریقوں سے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں بھاری منافع کماتے ہیں۔ یہ محض انفرادی بدعنوانی کے واقعات نہیں بلکہ ملک میں طرزِ حکمرانی، زمین کے انتظام اور شہری منصوبہ بندی میں موجود گہرے ساختی نقائص کی عکاسی کرتے ہیں۔
“ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا” کیا ہے؟
اس اصطلاح سے مراد ایسے مضبوط اور منظم نیٹ ورکس ہیں جن میں بااثر ڈیولپرز، زمین پر قبضہ کرنے والے عناصر، درمیانی کردار ادا کرنے والے ایجنٹس اور بدعنوان سرکاری افسران شامل ہوتے ہیں۔ یہ گروہ زمین کے حصول، لائسنسنگ اور ریگولیٹری نظام میں موجود خلا اور قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر ہاؤسنگ اسکیمیں قائم کرتے اور فروخت کرتے ہیں۔
یہ عناصر سیاسی اثر و رسوخ، قانونی پیچیدگیوں، عدالتی تاخیر اور کمزور نفاذی نظام پر انحصار کرتے ہوئے ہزاروں ایکڑ زمین پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں، جس کا خمیازہ اکثر اصل زمین مالکان اور عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ اصطلاح صرف غیر قانونی قبضے تک محدود نہیں بلکہ اس میں جعلی کوآپریٹو سوسائٹیز، زمین کے ریکارڈ میں رد و بدل، گمراہ کن مارکیٹنگ، اور سرکاری اہلکاروں سے ملی بھگت بھی شامل ہے، جو عوامی مفاد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلیو بیج اسکیم: فلاحی حق یا قانونی استحصال؟
“ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا” کیا ہے؟
(الف) زمین پر قبضہ اور غیر قانونی حصول
ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا کا ایک نمایاں طریقہ زمین کا زبردستی یا دھوکہ دہی کے ذریعے حصول ہے۔ اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں متعدد ایسی سوسائٹیز کی نشاندہی ہوئی ہے جنہوں نے زرعی یا متنازع زمین پر بغیر مکمل قانونی تقاضے پورے کیے ہاؤسنگ اسکیمیں قائم کیں۔
خصوصاً مارگلہ کے دامن اور دیہی علاقوں میں یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ بعض نجی ڈیولپرز نے متنازع زمین پر کنٹرول قائم رکھنے کے لیے نجی مسلح گارڈز یا مقامی غنڈہ عناصر کا سہارا لیا، جس کے باعث چھوٹے زمیندار مزاحمت سے قاصر رہے۔
(ب) دھوکہ دہی پر مبنی فروخت اور گمراہ کن طریقے
بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیز ایسے پلاٹس یا “فائلز” فروخت کرتی ہیں جن کا قانونی وجود، واضح ملکیت یا متعلقہ اتھارٹی کی منظوری موجود نہیں ہوتی۔ خریداروں کو اکثر درج ذیل امور کے بارے میں گمراہ کیا جاتا ہے:
- زمین کی قانونی حیثیت
- لیز ہولڈ اور ملکیتی حقوق کا فرق
- متعلقہ ترقیاتی ادارے کی منظوری (NOC)
اکثر خریداروں کو حقیقت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ قبضہ، رجسٹری یا تعمیر کی اجازت کے لیے درخواست دیتے ہیں، اور اس وقت تک قانونی چارہ جوئی مہنگی اور طویل ہو چکی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب محبت جرم بن جاتی ھے: ایک ھوشربا فسانہ و حقیقت
(ج) سرکاری اہلکاروں سے ملی بھگت اور ریگولیٹری ناکامیاں
ہاؤسنگ مافیا کے تسلسل کی ایک بڑی وجہ ادارہ جاتی بدعنوانی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ترقیاتی اداروں اور ریونیو محکموں کے اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے جعلی یا مشکوک منظوریوں اور زمین کے ریکارڈ میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔
مزید برآں، مختلف سرکاری اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور عدم رابطہ کاری ایسے خلا پیدا کرتی ہے جن سے غیر قانونی سوسائٹیز فائدہ اٹھاتی ہیں اور قانونی اعتراضات کے باوجود فروخت جاری رکھتی ہیں۔
اسلام آباد کا ہاؤسنگ منظرنامہ: اہم سوسائٹیز اور تنازعات
اسلام آباد، اپنی منصوبہ بندی شدہ حیثیت اور بلند پراپرٹی ویلیو کی وجہ سے، قانونی اور متنازع دونوں قسم کی ہاؤسنگ سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق
(الف) گلبرگ اسلام آباد
گلبرگ اسلام آباد دارالحکومت کے بڑے اور نمایاں نجی ہاؤسنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے ایک جدید اور ماسٹر پلان پر مبنی سوسائٹی کے طور پر پیش کیا گیا، جس میں اندرون و بیرونِ ملک پاکستانیوں نے بڑی سرمایہ کاری کی۔
تاہم، دیگر بڑے منصوبوں کی طرح، گلبرگ اسلام آباد کو بھی مختلف مراحل پر ریگولیٹری جانچ اور عوامی تنازعات کا سامنا رہا، جن میں شامل ہیں:
- منظوریوں اور NOC میں تاخیر
- زمین کے حصول اور حدود سے متعلق تنازعات
- ترقیاتی اداروں اور زمین مالکان کے درمیان قانونی مقدمات
اگرچہ منصوبے کے بعض حصوں میں ترقی ہوئی، لیکن طویل قانونی اور انتظامی تنازعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بڑے ڈیولپرز اکثر قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر ہی مارکیٹنگ اور ترقی شروع کر دیتے ہیں، جس سے خریدار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتے ہیں۔
(ب) بحریہ ٹاؤن اسلام آباد
بحریہ ٹاؤن اسلام آباد بھی اس بحث میں کثرت سے زیرِ بحث آتا ہے۔ وسیع انفراسٹرکچر کے باوجود، اس منصوبے کو زمین کے حصول، ماحولیاتی قوانین اور احتساب سے متعلق قانونی چیلنجز کا سامنا رہا، جو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ وسائل سے مالا مال ڈیولپرز بھی کمزور نفاذی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(ج) کوآپریٹو اور چھوٹی نجی سوسائٹیز
اسلام آباد کے گرد و نواح میں درجنوں چھوٹی کوآپریٹو اور نجی سوسائٹیز موجود ہیں، جن میں سے کئی مکمل طور پر رجسٹرڈ یا منظور شدہ نہیں ہوتیں۔ یہ سوسائٹیز کم قیمت کے ذریعے متوسط طبقے کو راغب کرتی ہیں، مگر فراڈ کے سب سے زیادہ خطرات بھی یہی پیدا کرتی ہیں، کیونکہ بعض اوقات یہ سوسائٹیز صرف کاغذوں میں موجود ہوتی ہیں یا متنازع زمین پر قائم ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
انسانی اور سماجی اثرات
ان قانونی اور انتظامی بحثوں کے پیچھے ایک سنگین انسانی المیہ موجود ہے:
- مالی نقصان: متوسط طبقے کے افراد اپنی جمع پونجی، پنشن یا قرض لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں جو بعد ازاں غیر قانونی یا ناکام منصوبوں میں پھنس جاتی ہے۔
- اعتماد کا فقدان: مسلسل اسکینڈلز پراپرٹی مارکیٹ پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔
- سماجی بے دخلی: زمین پر قبضہ دیہی آبادی کو بے دخل کرتا اور زرعی زمین کو ختم کرتا ہے۔
- شہری بدانتظامی: غیر منصوبہ بند ترقی ماحولیاتی نقصان، انفراسٹرکچر پر دباؤ اور اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی خلاف ورزیوں کا سبب بنتی ہے۔
حکمرانی اور ریگولیٹری چیلنجز
ہاؤسنگ مافیا کے پھیلاؤ کے پس منظر میں چند بنیادی مسائل کارفرما ہیں:
- قوانین کا کمزور نفاذ
- ترقیاتی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم
- سیاسی سرپرستی اور کرپشن
- عدالتی نظام میں تاخیر
کریک ڈاؤن اور اصلاحات کی کوششیں
حکومتی اداروں نے مختلف اوقات میں غیر قانونی سوسائٹیز کے خلاف کارروائیاں کیں، انہیں سیل کیا، اور مقدمات تفتیشی اداروں کو بھجوائے۔ عوامی شکایات کے لیے کھلی کچہریوں کا انعقاد بھی کیا گیا، تاہم یہ اقدامات اکثر غیر مستقل اور دباؤ کے تحت کمزور پڑ جاتے ہیں۔
نتیجہ: ایک منصفانہ ہاؤسنگ نظام کی جانب
پاکستان میں، بالخصوص اسلام آباد جیسے مہنگے اور حساس شہروں میں، ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا کا مسئلہ محض چند بدعنوان ڈیولپرز کا نہیں بلکہ ایک ناکام حکمرانی کے نظام کی علامت ہے۔
پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ:
- زمین کے واضح اور ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کیے جائیں
- مارکیٹنگ سے قبل سخت قانونی منظوری کو لازم قرار دیا جائے
- ریگولیٹری نظام میں شفافیت لائی جائے
- اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ قائم ہو
- عوام، خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں، میں قانونی شعور اجاگر کیا جائے
جب تک کمزور اداروں، بدعنوانی اور انتظامی انتشار کی بنیادی وجوہات کا حل نہیں نکالا جاتا، پاکستان کے ہاؤسنگ شعبے میں استحصال، مقدمات اور عوامی مایوسی کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

