پاکستان
سانحۂ ترلائی: سجدوں میں بجھے چراغ اور سو گھروں کا اندھیرا
تحریر: نثار حسین
سجدوں میں بجھے چراغ, امیدیں ٹوٹ گئیں
یہ صرف دھماکہ نہ تھا ایک بستی کی نبض پر پڑنے والی ایسی ضرب تھی جس نے سو سے زیادہ گھروں میں اندھیرا اتار دیا۔ کہیں جواں بیٹا کفن اوڑھ گیا، کہیں کمسن کلی مسل دی گئی، کہیں مانگ کا سہاگ اجڑ گیا۔ سانحۂ ترلائی نے ہمیں پھر یاد دلایا کہ جب معصوم لہو زمین پر گرتا ہے تو صرف ایک جان نہیں پورا جہان ٹوٹ جاتا ہے۔
والدین جب بیٹے کو گود میں لیتے ہیں تو مستقبل کی روشنیاں دیکھتے ہیں؛ سہرا، تعلیم، کامیابی سب خواب آنکھوں میں بس جاتے ہیں۔ مگر جب امیدوں کی شاخ یکایک ٹوٹ جائے تو باپ کی کمر اور ماں کا دل ایک ساتھ چٹخ جاتے ہیں۔ یہ وہ زخم ہیں جو وقت کے مرہم سے نہیں بھرتے، یہ عمر بھر کے روگ ہوتے ہیں، اور لحد تک ساتھ چلتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواب ، حسرتیں اور آہیں
اس سانحے میں ایسے چہرے بھی تھے جن کی کہانیاں لفظوں میں سمٹتی نہیں۔ ایبٹ آباد کے لورہ سے تعلق رکھنے والے سید ذوالفقار علی کاظمی کے جوانسال بیٹے بائیس سالہ سید گل شیر کاظمی اور انیس سالہ سید علی شیر کاظمی سجدے کی حالت میں اپنے رب سے جا ملے۔ دو بھائی، دو دھڑکتے دل، ایک ہی صف میں اور پھر ایک ہی قبرستان میں پہلو بہ پہلو ابدی نیند۔ کون سا باپ ہوگا جو دو جوان بیٹوں کو کفن میں رخصت کر کے بھی قائم رہے؟ کون سی ماں ہوگی جس کے ہاتھوں کی مہندی ایک لمحے میں راکھ نہ بن جائے؟

مسجد خدیجہ الکبریٰ کے سب سے ننھے شہید، سید علی اصغر ایک ذہین، خوش گفتار، مصور جو ابھی کھلنا تھا مگر اجل نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ گلگت بلتستان پولیس کے افسر بہادر علی کی شہادت پر پورا شمالی علاقہ سوگوار ہوا،وہ ایک فرد نہیں، لوگوں کی امید تھے، سکردو اور گلگت کی گلیوں کا اعتماد تھے۔ ان کے ساتھ جو خواب گئے، وہ صرف ایک خاندان کے نہ تھےایک پورے خطے کے تھے۔

ہمارا ایمان ہے کہ شہید زندہ ہے اورشہادت ہماری میراث ، ہماری تاریخ کا درخشاں باب۔ حدیثِ مبارک ہے:
“مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ شَهِيدًا”
“جو شخص آلِ محمدؐ کی محبت پر مرا وہ شہید مرا۔”
مگر یہ بھی سچ ہے کہ بے گناہوں کی شہادت سانحہ ہوتی ہے ایسا سانحہ جسے ہونا نہیں چاہیے۔ ہم شہادتیں دیں گے تو اسی مشنِ حسینی پر، جس پر قائم رہ کر امام حسینؑ نے باطل کے سامنے سر نہ جھکایا اور اسلام کو نئی زندگی عطا کی ،نہ کہ اس اندھی دہشت کے ہاتھوں جو مسجد کے سجدوں تک کو نشانہ بنا لے۔
ریاست نے شہداء پیکج کا اعلان کیا یہ قدم قابلِ قدر سہی، مگر کیا کوئی پیکج کسی زندگی کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟ اصل فرض یہ ہے کہ بیواؤں اور یتیموں کی کفالت، تعلیم اور باوقار مستقبل کی ضمانت ریاست اپنے ذمہ لے جب تک بچے جوان نہ ہو جائیں۔ ہمارے معاشرے میں بیوہ کی تنہائی اور یتیمی کا احساس کس قدر کٹھن ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ بچے معاشرے کے مفید شہری بنیں تو انہیں صرف ہمدردی نہیں، مستقل سہارا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا سے سبق: قانون نہیں، رویہ بدلتا ہے معاشرہ
دہشت گردی کے خلاف بیانات اور وقتی گرفتاریوں سے آگ بجھتی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ناسور کہاں پلتے ہیں؟ کون انہیں پناہ دیتا ہے، کون سفر اور رہائش کا بندوبست کرتا ہے؟ جب تک ریاست سانپ کو پہچان کر اس کا سر نہیں کچلے گی، لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ انتہا پسندی کے خلاف غیر مبہم، غیر مصالحتی اور مسلسل حکمتِ عملی ناگزیر ہے انٹیلیجنس کا مضبوط جال، نفرت انگیز بیانیوں کی بیخ کنی، اور قانون کی یکساں عمل داری۔ کالعدم تنظیموں سے ہر سطح پر قطع تعلق اور سخت نگرانی یہ وہ راستہ ہے جو مزید سانحات کو روک سکتا ہے۔
یہ حادثہ صرف ترلائی کا نہیں، پورے وطن کا ہے۔ آج مائیں بچوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے ٹھٹھک جائیں گی، مسجد کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے دل کانپے گا۔ مگر ہمیں خوف کے اس سایے کو مستقل رات نہیں بننے دینا۔ شہداء کے لہو کی حرمت یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم نفرت کے اندھیروں کے مقابل امید کا چراغ جلائیں، انصاف کی راہ پر ثابت قدم رہیں، اور ریاست کو محبت کرنے والی ماں کا کردار ادا کرنے پر مجبور کریں جو اپنے بچوں کی حفاظت بھی کرے اور ان کے زخموں پر مرہم بھی رکھے۔
شہید زندہ ہیں اور ہمارے دلوں کی دھڑکن، صرف آنسو بہانا کافی نہیں؛ ان کے نام پر ایک محفوظ، منصف اور روشن معاشرہ بنانا ہی اصل خراجِ عقیدت ہے۔
کہیں سے پھر یہ صدا آتی ہے:
“لہو سے سینچی گئی مٹی کبھی بنجر نہیں ہوتی،
شہید زندہ رہتے ہیں قوموں کی رگوں میں روشنی ہو کر۔”
-
پاکستان2 دن agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان2 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان4 ہفتے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان3 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان3 دن agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
ایکسکلوسِو5 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان6 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو2 مہینے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع

