تازہ ترین
خواب ، حسرتیں اور آہیں
تحریر: تنویر حسین
خواب زندگی میں امید کی کرن ہوتے ہیں۔ اور امید انسان کو زندہ رکھتی ہے۔ یہی امید آگے چل کر جد و جہد اور محنت کا جذبہ پیدا کرتی ہے جو انسانی حسرتوں اور خواہشات کی تکمیل کا سبب بنتے ہیں۔
گذشتہ شب میرے ایک دوست راجہ ہارون الرشید عباسی نے مجھے فون پر بتایا کہ سید ذوالفقار حسین شاہ کاظمی کے دو جوان سال بیٹے ترلائی اسلام آباد میں مسجد بم دھماکے میں شہید ہو گئے ۔ دل پہلے بہت افسردہ تھا۔ اس خبر نے اور رنجیدہ کر دیا ۔
آج صبح ہم دوست سید ذوالفقار حسین شاہ کاظمی صاحب کے گھر شیر پور بمقام لورہ ایبٹ آباد تعزیت کے لئے گئے۔ شاہ صاحب کو دیکھا اور گلے لگایا تو آنسو رک نہیں رہے تھے ۔ جب میں نے انہیں حوصلہ دینے کی کوشش کی تو ذوالفقار کاظمی کے سینے سے اٹھنے والا بیٹوں کی جدائی کا درد ایک آہوں کے طوفان کی طرح ان کے بدن کے انگ انگ سے باہر آرہا تھا ۔ انکی آنکھوں سے نہ تھمنے والے آنسو پورے ماحول کو سوگوار کر رہے تھے۔ میری آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔
مجھے ان کے درد کی شدت کا اندازہ ہو رہا تھا، کیونکہ 1979 میرا جواں سال چھوٹا بھائی سفیر حسین مختصر علالت کے بعد موت کی آغوش میں چلا گیا تو میری ماں28 برس تک نیند کی دوا کھاتی رہی۔ اور اکثر بیٹھے بیٹھے بیٹے کی یاد آتی تو رونا شروع کر دیتی۔ یہ بڑی سخت آزمائش کا مرحلہ ہے۔ اور صبر کربلا سے ہی ملے گا۔
سیدالشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کو جب اپنے جواں سال بیٹے شہزادہ علی اکبر ع نے کربلا کے میدان میں گھوڑے سے گرنے پر آواز دی تو تاریخ بتاتی ہے کہ مولا حسین علیہ السلام کے سر کے بال بیٹے کے پاس پہنچتے پہنچتے سفید ہو گئے، آنکھوں کی بینائی کم ہو گئی تھی۔ یہ اولاد کا غم بڑا امتحان ہے۔ ماں باپ یہ غم عمر بھر نہیں بھول سکتے ۔
ذوالفقار کاظمی نے بتایا کہ شہادت سے ایک دن پہلے گل شیر کاظمی نے بتایا کہ اس نے رات کو خواب دیکھا کہ وہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے روضے پر پہنچتا ہے تو دروازہ کھل جاتا ہے اور وہ زیارت کرتا ہے۔ اسی طرح مولا علی علیہ السلام ، مولا عباس علمدار ، امام موسیٰ کاظم علیہ کے مزارات پر بھی جب پہچتا دروازے کھل جاتے ۔ تو اس نے کہا کہ بابا بیرون ملک پڑھائی کے لیے جانے سے پہلے کربلا جاؤں گا ۔ ذوالفقار کاظمی نے کہا بیٹا ضرور جاو ۔ تیاری کرو۔ ذوالفقار کاظمی نے کہا میرے بیٹے کو مولا نے اپنے پاس بلانے کی خبر دے دی تھی ۔ روتے ہوئے شاہ صاحب مجھ سے پوچھنے لگے میرے بیٹے شہید ہیں ناں۔ وہ باوضو تھے ۔ حالت سجدہ میں تھے ۔ اللّہ کے پاس چلے گئے۔ وہ روتا رہا ۔ میری بھی آنکھوں سے آنسوں جاری رہے۔

باپ کی شخصیت بھی کیا ہوتی ہے۔ جو اپنےخواب بیچتا ہے اور بچوں کے خواب خریدتا ہے ۔ یہ اولاد کے خواب خریدتے خریدتے تھکتا نہیں۔ اسے خوابوں کی خریداری بوڑھا نہیں ہونے دیتی۔ وہ ہر صبح ان خوابوں کی خریداری کے لئے محنت مزدوری کرتا ہے۔ کیوں کہ بچوں کے ہر خواب کی خریداری اسے جوان کرتی رہتی۔ اس لئے کہ بچوں کے خواب پورے ہونے سے جب ان کے چہروں پر خوشی اور مسرت بکھرتی ہے تو یہ خوشی باپ کی روح اور جسم دونوں کی تقویت اور راحت کا سبب بنتی ہے۔ یہی اس کی جوانی کا ٹانک ہے۔
ذوالفقار کاظمی صاحب بتا رہے تھے کہ وہ اپنے بڑے بیٹے سید گل شیر کاظمی جس کی عمر 22 سال تھی ،کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے بھجوانے کی تیاری کر رہے تھے۔ ابتدائی مراحل طے بھی ہو گئے تھے ۔دونوں بھائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ چھوٹے بھائی سید علی شیر کاظمی کی عمر 19 سال تھی۔ لیکن تقدیر نے کیا رنگ دکھا دیا۔ کہ دونوں کی شہادت حالت نماز میں ہوئی اور دونوں کی موت کا وقت ، مقام اور دن ایک تھا ۔ دونوں کے جنازے نے ایک ہی وقت گھر پہنچنے ، ایک وقت میں نکلے اور سپرد خاک ہوئے ۔ دونوں شہزادے ایک دوسرے کے پہلو میں قیامت تک سوگئے۔ لیکن ماں باپ کی نیندیں اور سکون بھی لے گئے۔ان کی قبروں پر پھول بکھرے تھے، جنہیں خوابوں کی تکمیل پر خوشیوں کے اظہار کے لئے گلے کا ہار ہونا تھا۔ یقیناً ذوالفقار کاظمی اور ان کی اہلیہ ہماری بہن کا یہ خواب تھا کہ انکے بیٹے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے۔ مگر۔۔۔۔
ابھی جام عمر بھرا نہ تھا ، کف دست ساقی چھلک پڑا
رہی دل میں دل ہی کی حسرتیں ، کہ نشاں قضا نے مٹا دیا
تعزیت کے بعد ہم دوست راجہ ہارون الرشید اور شیخ افتخار احمد دونوں شہزادوں کی قبر پر گئے ۔ فاتحہ خوانی کی اور مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔ دونوں کی قبریں ان کے جد امجد سید گل شیر کاظمی کے مزار کے احاطے میں کی گئیں۔ ہم نے مزار پر بھی حاضری دی ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور…ان کی اہلبیت کے ماننے والے ہمیشہ شہادت کے خواہشمند رہتے ہیں۔ اور محبت اہلبیت میں مرنا ہی شہادت ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس ملک کے مقتدر حلقے اس دہشت گردی کا سدباب کرنے میں ناکام ہیں۔ یہ دہشت گردی ایک ناسور ہے۔ تحقیقی انداز میں اس کا حل تلاش کیا جانا چاہیے ۔
ریاست کی یہ ذمہ داری نہیں کہ صرف اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کی سیکیورٹی پر عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کردہ پیسہ پولیس اور پروٹوکول کی صورت میں خرچ کیا جائے بلکہ عوام کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔ لیکن اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنی ناکامی چھپانے کے لئے دہشتگردی کو ہندوستان یا افغانستان کے کھاتے میں ڈال کر جان چھڑا لی جاتی ہے یا فرقہ واریت کے کھو کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن ہر شہید کے مقتل سے ایک صدا بلند ہوتی جس کا حکمرانوں کو جواب دینا ہوگا ۔
مقتل سے آ رہی ہے صدا ، اے امیر شہر
اظہار غم نہ کر ، میرا قاتل تلاش کر
-
پاکستان2 ہفتے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 مہینہ agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان4 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان4 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز

