Connect with us

تازہ ترین

آبنائے ہرمز

Syed Abbas Haider Shah Advocate

تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ

دنیا کے نقشے پر بعض مقامات صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، وہ تاریخ کے زندہ استعارے بن جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک مقام ہے ایک تنگ سمندری گزرگاہ، مگر ایسی کہ صدیوں سے سلطنتوں کی قسمت، عالمی تجارت کی سمت اور جنگ و امن کے فیصلے اسی کے کناروں پر لکھے جاتے رہے ہیں جیسا کہ آج ایران خطے میں ہرمز کے ذریعے ایک نئی تاریخ لکھ رہا ہے۔

یہ محض پانی کی ایک پٹی نہیں بلکہ تہذیبوں، تاجروں، فاتحوں، بادشاہوں اور عالمی طاقتوں کی مسلسل کشمکش کی علامت ہے۔ یہاں کبھی عرب ملاحوں کے بادبان لہراتے تھے، کبھی فارسی سلطنتوں کے جھنڈے، کبھی پرتگیزی توپیں گرجتی تھیں، اور آج یہاں امریکی جنگی بیڑے ایرانی میزائلوں سے بھاگ کر اپنی جان بچانے میں مصروف ہیں۔

جب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، جب بھی خلیج فارس میں جنگ کے سائے گہرے ہوتے ہیں، دنیا کے ہر خبرنامے میں ایک نام نمایاں ہو جاتا ہے: آبنائے ہرمز۔ جیسا کہ آج اس جنگ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر خبروں کا مرکز آبنائے ہرمز ہی بنا ہوا ہے،
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ نام کہاں سے آیا؟ اس خطے کی اصل تاریخ کیا ہے؟ کون سے بادشاہ اور سلطنتیں اس سے وابستہ رہیں؟ اور آخر کیوں دنیا آج بھی اس تنگ راستے کی اسیر ہے؟

یہ کالم انہی سوالات کا تاریخی، تہذیبی اور سیاسی جائزہ ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کے ایک جانب ایران کا جنوبی ساحل ہے اور دوسری طرف عمان کا مسندم جزیرہ نما۔

یہ گزرگاہ تقریباً ۱۶۷ کلومیٹر طویل اور تنگ ترین مقام پر صرف ۳۹ کلومیٹر چوڑی ہے۔ بظاہر یہ چند میل پانی کا راستہ ہے، مگر عملی طور پر یہ پوری دنیا کی معیشت کی شہ رگ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رائے عامہ

دنیا کی سمندری تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی بہت بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی توانائی برآمدات اسی آبنائے پر منحصر ہیں۔

اسی لیے جب کبھی ایران یہ عندیہ دیتا ہے کہ “آبنائے ہرمز بند کی جا سکتی ہے”، تو دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں ہل جاتی ہیں، تیل مہنگا ہو جاتا ہے، اور عالمی طاقتیں فوری طور پر متحرک ہو جاتی ہیں، لیکن اس دفعہ تو ایران نے عملاً ہرمز کو بند کردیا ہے امریکہ چین،جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور نیٹو سے مدد کی درخواستیں کرکے تھک گیا ہے مگر ہرمز تاحال بند ہے عالمی مارکیٹ میں مہنگائی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، عالمی طاقتیں اور باالخصوص پاکستان اس مسئلے کا کارآمد حل چاہتے ہیں تاحال کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔

امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا بحرین میں مستقل موجود تھا، جس کو ایرانی میزائلوں نے مار مار کے کچرا بنا دیا، وہ صرف اس لیے موجود تھا کہ اس راستے کو کھلا رکھا جا سکے ایران نے بھی راستہ بند کرنے سے پہلے ہی اس پانچویں بیڑے کو اندھا ، بہرا اور گونگا کردیا۔ اور آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپ کی صنعتیں بھی اسی راستے سے آنے والے تیل پر انحصار کرتی ہیں۔

قدیم عرب کہاوت ہے:

“اگر دنیا سونے کی انگوٹھی ہوتی تو ہرمز اس کا نگینہ ہوتا۔”

لفظ “ہرمز” کی اصل خود ایک تاریخی معمہ ہے، اور مؤرخین اس پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔

سب سے معروف نظریہ یہ ہے کہ یہ نام زرتشتی مذہب کے عظیم ترین الٰہ “اہورا مزدا” سے نکلا۔ درمیانی فارسی میں اسے “ہرمزد” یا “اورمزد” کہا جاتا تھا۔ ساسانی بادشاہ اپنے بیٹوں کے نام “ہرمزد” رکھتے تھے تاکہ انہیں الٰہی طاقت اور شاہی تقدس سے جوڑا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: نامنصفانہ جنگ (صیہونی استکبار اور تنہا ایرانی استقامت)

دوسرا نظریہ مقامی فارسی الفاظ “ہور موغ” سے جڑا ہے، جس کا مطلب “کھجوروں کی سرزمین” بتایا جاتا ہے۔ چونکہ یہ علاقہ تاریخی طور پر کھجوروں اور ساحلی تجارت کے لیے معروف تھا، اس لیے بعض محققین اس نظریے کو زیادہ زمینی اور قابلِ فہم سمجھتے ہیں۔

کچھ مؤرخین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ نام ساسانی بادشاہ شاپور دوم کی والدہ “افرا ہرمزد” سے منسوب ہے۔ شاپور دوم وہ حکمران تھا جس کے بارے میں روایت ہے کہ اس کی تاجپوشی پیدائش سے پہلے ہی ماں کے بطن میں کر دی گئی تھی جو ساسانی تاریخ کی سب سے حیرت انگیز داستانوں میں سے ایک ہے۔

یونانی مؤرخین نے بھی اس خطے کا ذکر کیا۔ سکندر اعظم کی افواج ۳۲۴ قبل مسیح میں یہاں تک پہنچیں اور یونانی جغرافیہ دانوں نے “ہورموس” (Hormos) یعنی “لنگرگاہ” یا “کھاڑی” کا لفظ استعمال کیا، جسے بعض لوگ “ہرمز” کی ایک اور جڑ قرار دیتے ہیں۔

یوں “ہرمز” ایک ایسا نام بن گیا جس میں مذہب، زبان، جغرافیہ اور سلطنتیں سب شامل ہو گئیں۔

کچھ تاریخ نویس کہتے ہیں کہ
آبنائے ہرمز نے اپنا نام دراصل ایک قدیم شہر سے حاصل کیا۔

یہ شہر ایران کے جنوبی ساحل پر واقع تھا اور قرونِ وسطیٰ میں بحر ہند کی تجارت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ ہندوستان سے مسالے، چین سے ریشم، افریقہ سے ہاتھی دانت، عرب سے موتی، اور ایران سے قالین و دھاتیں یہاں آ کر جمع ہوتیں۔

تیرہویں صدی میں مشہور سیاح مارکو پولو نے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:

“دنیا کے تمام بڑے تاجر یہاں آتے ہیں اور مشرق و مغرب کی تجارت یہیں ملتی ہے۔”

بعد ازاں منگول حملوں اور علاقائی بدامنی نے ساحلی شہر کو غیر محفوظ بنا دیا۔ حکمرانوں نے پورا شہر قریبی جزیرے “جرون” منتقل کر دیا۔ یہی جزیرہ بعد میں “جزیرہ ہرمز” کہلایا۔

یہ جگہ سخت گرم، خشک اور بنجر تھی نہ درخت، نہ میٹھا پانی لیکن اس کی جغرافیائی حیثیت ایسی تھی کہ جو اسے کنٹرول کرتا، وہ پوری آبنائے کا مالک بن جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق کا افق اور ظہورِ سحر

آج بھی جزیرہ ہرمز اپنی سرخ مٹی، معدنی رنگوں اور تاریخی کھنڈرات کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں اور مؤرخین کے لیے دلچسپی کا مرکز ہے۔

ساسانی سلطنت (۲۲۴ تا ۶۵۱ عیسوی) ایران کی آخری عظیم قبل از اسلام سلطنت تھی۔ اس دور میں “ہرمزد” نام شاہی عظمت اور مذہبی تقدس کی علامت بن چکا تھا۔

ہرمز اول

شاپور اعظم کا بیٹا تھا۔ اس کی حکومت مختصر رہی مگر وہ زرتشتی مذہب کی سرپرستی کے باعث یاد رکھا جاتا ہے۔

ہرمز دوم

اس کے دور میں داخلی استحکام نسبتاً بہتر رہا۔ یہی وہ خاندان تھا جس سے شاپور دوم پیدا ہوا۔

ہرمز سوم

بھائیوں کی خانہ جنگی کا شکار ہوا اور اقتدار کی جنگ میں مارا گیا۔

ہرمز چہارم

یہ سب سے نمایاں شخصیت تھی۔ اس نے اشرافیہ اور مذہبی پیشواؤں کی طاقت محدود کرنے کی کوشش کی، عوام اور اقلیتوں کو تحفظ دیا، اور مسیحیوں کے خلاف ظلم سے انکار کیا۔

اس کا مشہور جملہ تاریخ میں محفوظ ہے:

“جس طرح تخت صرف دو اگلی ٹانگوں پر قائم نہیں رہ سکتا، اسی طرح سلطنت صرف ایک طبقے کے سہارے نہیں چل سکتی۔”

مگر یہی رواداری اس کی دشمن بن گئی۔ اشرافیہ نے اسے معزول کیا، اندھا کیا اور قتل کر دیا۔

گیارہویں صدی میں “مملکتِ ہرمز” وجود میں آئی، جو چند صدیوں میں خلیج فارس کی سب سے امیر تجارتی ریاست بن گئی۔

یہ سلطنت عرب، ایرانی، ہندوستانی اور افریقی تہذیبوں کا سنگم تھی۔ یہاں عربی، فارسی، ہندی، سواحلی اور بعد میں پرتگالی زبانیں سنائی دیتی تھیں۔

ہرمز کے حکمرانوں نے ایک غیر معمولی معاشی حکمت عملی اپنائی:
ہر تجارتی جہاز سے محصول وصول کیا جائے۔

یہ دنیا کے قدیم ترین بحری “ٹول ٹیکس” نظاموں میں سے ایک تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حالیہ جنگ کے بعد ایران کا ٹول ٹیکس لگانے کا عمل نیا نہیں اور نہ ہی خلاف روایت ہے بلکہ تاریخ میں اس کا پریسیڈنٹ موجود ہے۔۔

چینی سیاح اور ایڈمرل ژینگ ہی نے پندرہویں صدی میں ہرمز کا دورہ کیا اور اسے “دولت، خوبصورتی اور تجارت کا شہر” قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں ایک امریکہ مخالف جوان ہوں

اسی زمانے میں ہرمز کو “بحر ہند کا جواہر” کہا جانے لگا۔

۱۵۰۷ میں پرتگالی سپہ سالار الفونسو دی البوکرکی اپنے جنگی بیڑے کے ساتھ ہرمز پہنچا۔ اس کا مقصد صرف تجارت نہیں بلکہ بحر ہند پر پرتگالی اجارہ داری قائم کرنا تھا۔

۱۵۱۵ میں پرتگال نے مکمل قبضہ کر لیا اور جزیرے پر عظیم قلعہ تعمیر کیا۔ آج بھی “فورٹ آف ہرمز” اس دور کی یادگار ہے۔

پرتگیزیوں نے “کارتاز” نامی اجازت نامہ جاری کیا۔ کوئی جہاز ان کی اجازت کے بغیر تجارت نہیں کر سکتا تھا۔ یہ دوسری پریسیڈنٹ ہے کہ پرتگال نے بھی ہرمز پر اجازت نامہ جاری کیا لہذا ایران کا اقدام جائز اور روایتی ہے۔

یہ پہلی بار تھا کہ ایک یورپی طاقت نے بحر ہند کی تجارت پر عسکری کنٹرول قائم کیا۔

ہرمز کی دولت اتنی مشہور ہوئی کہ یورپی ادب میں یہ عیش و ثروت کی علامت بن گیا۔ انگریز شاعر جان ملٹن نے “پیراڈائز لاسٹ” میں ہرمز کی دولت کا ذکر کیا، جبکہ یورپی سیاح اسے “مشرق کا خزانہ” کہتے تھے۔

۱۶۲۲ میں تاریخ نے عجیب منظر دیکھا۔
صفوی ایران کے شاہ عباس اول نے انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ اتحاد کیا اور پرتگیزیوں کو ہرمز سے نکال باہر کیا۔

یہ صرف ایک فوجی فتح نہیں تھی بلکہ بحر ہند کی طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی تھی۔

شاہ عباس نے بعد میں ساحل پر “بندر عباس” آباد کیا، جو آج ایران کی اہم ترین بندرگاہ ہے۔

ہرمز کی ہزار سالہ تجارتی سلطنت ختم ہو گئی، مگر اس کا نام ہمیشہ کے لیے تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔

بیسویں صدی میں جب خلیج فارس میں تیل دریافت ہوا تو آبنائے ہرمز کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی۔

ایران۔عراق جنگ کے دوران “ٹینکر وار” میں درجنوں تیل بردار جہاز نشانہ بنے۔ ۱۹۸۸ میں امریکی بحریہ اور ایران براہِ راست آمنے سامنے آئے۔

۲۰۱۹ میں ایران نے برطانوی جہاز “اسٹینا ایمپیرو” کو قبضے میں لیا۔
۲۰۲۴ میں “ایم ایس سی ایریز” کو ضبط کیا گیا۔

آج بھی دنیا کے طاقتور ترین جنگی جہاز، ڈرون، میزائل سسٹمز اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس اسی خطے میں موجود ہیں بلکہ حالیہ چالیس روزہ جنگ میں خطے کا مکمل توازن ہی بدل گیا اور اس وقت آبنائے ہرمز مکمل طور پر پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے قبضے میں ہے گو کہ امریکہ نے بھی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے مگر اس سب کے باوجود آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے بند ہے اور ایران اپنے مطالبات کے بعد ہی کھولنے کا ارادہ کر سکتا ہے ورنہ ٹرمپ اور اس کے اتحادی معاشی نقصان تو اٹھا ہی رہے ہیں مگر ہرمز کھولنے میں ناکام ہی رہینگے۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے متبادل پائپ لائنیں ضرور بنائی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا ابھی تک آبنائے ہرمز کا مکمل متبادل تلاش نہیں کر سکی۔

آبنائے ہرمز صرف جغرافیہ نہیں، انسانی تاریخ کا ایک استعارہ ہے۔

یہاں مذہب نے سیاست کو جنم دیا، تجارت نے سلطنتیں بنائیں، اور سمندر نے طاقت کی نئی تعریف لکھی۔

یہاں زرتشتی بادشاہ گزرے، عرب تاجر رکے، پرتگیزی توپیں بولیں، برطانوی جہاز آئے، امریکی بیڑے کھڑے ہوئے، اور آج یہ جمہوری اسلامی ایران کے با ایمان سپاہ کے دست اختیار میں ہے آج بھی دنیا کی معیشت کی نبض یہیں دھڑکتی ہے۔

سلطنتیں بدلتی رہیں، پرچم تبدیل ہوتے رہے، مگر ہرمز اپنی جگہ قائم رہا، خاموش، مگر دنیا کی سیاست پر اثر انداز رہا جس طرح آج ہرمز کے بند ہونے سے صیہونی سرمایہ دار حیران و پریشان ہیں۔

شاید اسی لیے تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:

“دنیا کی سب سے طاقتور جگہیں ہمیشہ سب سے وسیع نہیں ہوتیں، بعض اوقات وہ صرف ایک تنگ گزرگاہ ہوتی ہیں۔”

حاصل کلام یہ کہ آبنائے ہرمز کوئی نیا نام نہیں بلکہ تاریخ میں دور دراز تک اس کی مضبوط جڑیں موجود ہیں، مملکت ہرمز اور پرتگالی اس سے ٹول ٹیکس وصول کرتے رہے ہیں، لہذا ایران نے کوئی نیا قانون متعارف نہیں کروایا بلکہ ایران ہرمز پر موجود پرانی روایت کو دوبارہ بحال کر رہا ہے، اگر اسلامی جمہوریہ ایران عملی طور پر ٹیکس کا قانون قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو معاشی طور پر ایران کو بہت بڑا فائدہ ہوگا اور دنیا میں ایران ایک نئی معاشی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔۔۔۔۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Shehbaz Sharif Shehbaz Sharif
پاکستان1 دن ago

دہشتگردوں کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے: وزیراعظم

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسزکو خراج تحسین پیش کرتے...

Strait of Hormuz Strait of Hormuz
تازہ ترین1 دن ago

ایران کی پاسداران انقلاب فورس کا امریکی جاسوس آبدوز پکڑنے کا دعویٰ

تہران (صدائے سچ نیوز) ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے امریکی جاسوس آبدوز پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ خبر ایجنسی...

Announcement regarding the assumption of responsibilities by members of the Civic and Character Building Society at Islamabad Model College for Girls, F-6/2. Announcement regarding the assumption of responsibilities by members of the Civic and Character Building Society at Islamabad Model College for Girls, F-6/2.
پاکستان1 دن ago

اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو میں سِوک اینڈ کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی کے ارکان کا ذمہ داریاں سنبھالنے کا اعلان

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو میں ایوننگ شفٹ کی کلاس نمائندگان...

Syed Shajjar Abbas Advocate Syed Shajjar Abbas Advocate
پاکستان1 دن ago

یونین کونسل کے ہیڈکوارٹر کے معاملہ پر اہلیان علاقہ کی رائے کو ہر صورت مقدم جانا جائیگا، سید شبر عباس ایڈووکیٹ

گوجر خان (صدائے سچ نیوز) ہرنال اڈہ پر سید شبر عباس ایڈووکیٹ کی صدارت اور اہلیان ہرنال کی میزبانی میں...

ambulance ambulance
پاکستان2 دن ago

ڈیرہ اسماعیل خان، دھماکےکے زخمیوں کو لیجانے والی ایمبولینس پر فتنہ الخوارج کی فائرنگ، 2 ریسکیو اہلکار شہید

ڈیرہ اسماعیل خان (صداۓ سچ نیوز) ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ  خودکش دھماکےکے زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر...

High Blood Pressure Patients High Blood Pressure Patients
تازہ ترین2 دن ago

ہائی بلڈ پریشر کے بیشتر مریض ہارٹ اٹیک، قبل ازوقت موت کے خطرے سے لاعلم رہتے ہیں، تحقیق

آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے آدھے سے زائد مریض...

Atta Tarar Atta Tarar
پاکستان2 دن ago

پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا’ ثابت ہوا، عطا تارڑ

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے...

mohsin-naqvi mohsin-naqvi
پاکستان2 دن ago

محسن نقوی کی کے پی اسمبلی ارکان کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر سے اجازت کے مراسلے پر تنقید

اسلام اباد (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کے پی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ارکان اسمبلی کی گرفتاری...

inflation inflation
تازہ ترین2 دن ago

ایران میں 15 ماہ بعد مہنگائی میں معمولی کمی ریکارڈ

تہران (صداۓ سچ نیوز) جنگ کے دوران معاشی دباؤ میں گھرے ایران میں 15 ماہ بعد مہنگائی میں معمولی کمی...

masoud-pezeshkian masoud-pezeshkian
تازہ ترین2 دن ago

ایران کی سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کے حل کیلئے مدد کی پیشکش

نیو یارک (صداۓ سچ نیوز) قطری نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےکہا کہ سعودی عرب اور...

Trending