تازہ ترین
جب محبت جرم بن جاتی ھے: ایک ھوشربا فسانہ و حقیقت
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز ، برطانیہ
اس کہانی کا آغاز کسی چیخ، کسی الزام، یا کسی خون آلود لمحے سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک خاموش دوپہر میں جنم لیتی ہے، کالج کے لان میں پھیلی دھوپ کے اندر، جہاں شوخ وچنچل صبا ہنستی ہے اور بےفکری سے قہقہے لگاتی ھے اس کے بےساختہ قہقہوں سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے فضا میں جلترنگ بج اٹھے ہوں۔
اسے کیا معلوم کہ یہ ہنسی اور قہقہے کبھی کبھی گواہی بھی بن جاتے ہیں ۔ آصف ذرا فاصلے پر کھڑا کنکھیوں سے اس کے کتابی چہرے کو تکتا رہتا ہے، اور اسی لمحے اس کی معمول کی زندگی میں ایک ایسی خواہش جنم لیتی ہے جو دھیرے دھیرے اس کے دل کی گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہے۔ محبت یہاں برملا اظہار نہیں کرتی، شور نہیں مچاتی، بس دل کے کسی کونے میں براجمان ہو جاتی ہے اور ایک وہ لمحہ بھی آتا ہے کہ قلب و روح کو برقرار کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
صبا کے کھلکھلاتے قہقہوں میں زندگی کے شوخ رنگ ہیں- وقت کا بھروسہ ہے۔ آصف اس ہنسی کو زندگی کی واحد کامیابی سمجھ لیتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگتے ہیں، مگر اس چاہت میں ٹھہراؤ نہیں، انجام کی پہچان نہیں۔ یہ محبت ایک جذبہ ہے، ایک جنون ہے لیکن زندگی کی سنگلاخ چٹانوں کے گھاو اور نشیب و فراز سے نا آشنا۔
محبت چھپائے نہیں چھپتیی اور بالآخر گھر والے صبا کے جذبات کو بھانپ لیتے ہیں۔ فیصلے آتے ہیں—نرم لفظوں میں، مگر سخت لہجوں کے ساتھ۔
بالآخر صبا کی شادی خاندان میں طے ہو جاتی ہے۔ایک ایسا رشتہ، جس میں تحفظ تو ہے، مگر شمولیت نہیں۔ جذبات نہیں- شوہر ایک مہذب انسان ہے، مگر صبا کی بے اعتنائی اس کے لیے ایک بند دروازہ رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پی آئی اے کی نجکاری ناگزیر تھی؟
آصف بھی کسی اور کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جاتا ھے ۔ دونوں نئی زندگیوں کا آغاز کرتے ھیں، مگر پرانی محبت کی چنگاریاں جیسے اندر ہی اندر سلگتی رھتی ھیں—فون کے پیغامات، آدھے جملے، اور وہ سوال جو کبھی مکمل نہیں ہوتے۔
وقت گزرتا رھتا ہے، رشتے تو موجود ھیں لیکن احساسات و جذبات سے عاری- دونوں کو اپنے جیون ساتھی بوجھ لگتے ہیں۔ پرانی محبت اب صرف محبت نہیں رہتی، بلکہ محرومی بن جاتی ہے، ضد بن جاتی ہے اور ایک سوال بن جاتی ہے کہ آخر ہم ہی کیوں سماج کے فیصلوں کی صلیب پر مصلاب کئے گئے ؟؟؟؟
پھر ایک وہ دن بھی آتا ہے جب صبا، آصف سے مل کر منصوبہ بناتی ھے- اس منصوبہ کے مطابق صبا اپنے شوہر کے ھمراہ پکنک کے لئے ملکہ کہسار مری چاتی ہے- آصف بھی ان کے پیچھے پیچھے گھر والوں کو بتائے بغیر چپکے سے مری پہنچ جاتا ھے۔
مری کے پہاڑ اور وادیاں اس روز خلاف معمول کچھ زیادہ ہی خاموش اور اداس لگتے ہیں۔ دھند ہر شے کو اپنے دامن میں لپیٹے ہوتی ہے – صبا، اس کا شوہر، اور آصف — تین زندگیاں ایک لمحے میں آمنے سامنے آتی ہیں۔ کوئی واضح جھگڑا نہیں، کوئی چیخ نہیں۔ بس وہ سب کچھ جو برسوں سے اندر دبا ہوا تھا، اچانک فیصلہ مانگنے لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق
پہاڑ کچھ نہیں کہتا۔ کھائیاں کچھ نہیں کہتیں
وہ صرف گواہ بنتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر اگلے ہی لمحے صبا کا شوہر یکا یک دھند میں گم ہو جاتا ہے۔بعد ازاں اسے ایک ناگہانی حادثےکا نام جاتا ہے۔ کاغذات میں بھی یہی درج کیا جاتا ہے۔
اس المناک واقعہ کے بعد صبا کی زندگی یکسر بدل جاتی ہے۔
راتیں لمبی ہو جاتی ہیں۔
خاموشی بولنے لگتی ہے۔
وہ آئینے میں خود کو دیکھتی ہے تو ایک سوال اس کی آنکھوں میں تیرنے لگتا ہے:
"کیا میں نے یہ سب محبت کے لیے کیا؟”
پچھتاوا کسی چیخ کی صورت نہیں آتا۔
یہ آہستہ آہستہ اندر اترتا ہے۔
سانسوں میں، جاگتے میں، سوتے میں۔
وقوعہ کے بعدآصف غائب ہو جاتا ہے۔
پھر پولیس آتی ہے۔
خاموش قدموں کے ساتھ۔
تفتیش سوالوں سے زیادہ خاموشیوں پر چلتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فون ریکارڈ، پرانے پیغامات، مری کے سفر کی تفصیل—
ہر چیز ایک حقیقت بن کر سامنے آنے لگتی ہے۔ سچ خود تھک کر باہر آ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
آخرکار صبا اور آصف ایک ہی جگہ پہنچ جاتے ہیں۔
جیل۔
یہاں کوئی دھند نہیں،
کوئی پہاڑ نہیں،
صرف دیواریں ہیں،
جیل کی سلاخیں ہیں،
اور وقت، جو مسلسل یاد دلاتا ہے۔ ضمیر پر پشیمانی کے تیر چلاتا ہے- نہ دن کا چین، نہ رات کا سکون- ضمیر کی کسک سونے نہیں دیتی۔
پھر ایک روز صبا تھکی ہاری، نحیف اور سسکتی آواز میں زیر لب بڑبڑاتی ہے:
“میں نے جرم کیا ہے…
محبت کے نام پر۔
اگر وقت پر رُک جاتی،
اگر صبر سیکھ لیتی،
تو شاید کسی کی قبر نہ بنتی، اور میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ ہوتی”
یہ افسانہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ محبت اگر اخلاق، صبر اور ذمہ داری سے عاری ہو تو وہ عبادت نہیں رہتی، وہ جنون بن جاتی ہے۔ اور جو محبت کسی اور کی زندگی چھیننے پر مجبور کرے، وہ محبت نہیں ہوتی، وہ وحشی پن ہوتا ہے، وہ درندگی ہوتی ہے- وہ ایک گھناونا جرم ہوتی ہے۔ ناقابل معافی و ناقابل تلافی جرم جو تختہ دار تک لے جاتی ہے۔
یہ افسانہ ایک حقیقی واقعہ سے ماخوذ ہے۔ تاہم سماجی، اخلاقی اور قانونی مصلحت کے پیشِ نظر کرداروں کے نام، رشتے اور بعض حالات فرضی انداز میں پیش کیے گئے ہیں، تاکہ حقیقت بیان ہو سکے لیکن کسی فرد یا خاندان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

