Connect with us

تازہ ترین

کیا پی آئی اے کی نجکاری ناگزیر تھی؟

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز ، برطانیہ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کبھی محض ایک فضائی کمپنی نہیں تھی، بلکہ قومی شناخت، پیشہ ورانہ مہارت اور ریاستی وقار کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ ایک وقت تھا جب ایشیا اور افریقہ کی کئی ائیر لائنز نے پی آئی اے کے ماڈل سے سیکھا، مگر وقت کے ساتھ یہ ادارہ کامیابی کی بلندیوں سے اتر کر خساروں، بدانتظامی اور ساکھ کے بحران کی نذر ہو گیا۔

آج جب پی آئی اے کی نجکاری ایک حقیقت بن چکی ہے، تو یہ سوال پوری شدت سے سامنے آتا ہے: کیا اس قومی ادارے کو بیچنا واقعی ناگزیر تھا؟

پی آئی اے کا مالی بحران محض تاثر نہیں بلکہ اعداد و شمار میں واضح نظر آتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ادارہ مسلسل خسارے میں رہا۔ دستیاب معلومات کے مطابق 2015 سے 2023 تک پی آئی اے مجموعی طور پر تقریباً 500 ارب روپے سے زائد کا خسارہ برداشت کر چکی تھی۔ صرف 2023 میں اس کا سالانہ نقصان 70 سے 75 ارب روپے کے لگ بھگ رہا، جبکہ مجموعی قرضے اور واجبات 800 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔

اس کے مقابلے میں ادارے کے اثاثے کہیں کم تھے، جس کے باعث پی آئی اے کی نیگیٹو ایکویٹی سیکڑوں ارب روپے تک جا پہنچی۔ اس صورتحال میں ہر سال قومی خزانے سے بیل آؤٹ پیکجز دینا معمول بن چکا تھا، اور یوں ایک تجارتی ادارہ ریاست کے لیے مسلسل مالی بوجھ بن گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق

دلچسپ بات یہ ہے کہ سخت مالی کنٹرول اور آپریشنل اصلاحات کے بعد 2024–25 میں پی آئی اے نے دو دہائیوں بعد پہلی بار تقریباً 26 ارب روپے منافع بھی ظاہر کیا، مگر ماہرین کے مطابق یہ بہتری وقتی تھی اور قرضوں کے پہاڑ کے مقابلے میں ناکافی سمجھی گئی۔

اگر پی آئی اے کا مسئلہ صرف خسارہ ہوتا تو شاید اسے درست مالی پالیسیوں سے سنبھالا جا سکتا تھا، مگر اصل خرابی انتظامی ڈھانچے میں تھی۔ دہائیوں تک سیاسی مداخلت، میرٹ کے بجائے وابستگی کی بنیاد پر تقرریاں، اور ضرورت سے کہیں زیادہ عملہ ادارے کی کارکردگی کو دیمک کی طرح چاٹتا رہا۔
ایک اندازے کے مطابق پی آئی اے میں فی جہاز ملازمین کی تعداد عالمی معیار سے کہیں زیادہ رہی، جس سے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ احتساب کا کمزور نظام اور فیصلہ سازی میں تاخیر نے ادارے کو مسابقتی مارکیٹ میں مزید پیچھے دھکیل دیا۔

عالمی ایوی ایشن انڈسٹری میں مسابقت انتہائی سخت ہے۔ جدید فلیٹ، بروقت پروازیں، اور بہتر کسٹمر سروس کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔ پی آئی اے کو نہ صرف پرانے جہازوں اور تکنیکی مسائل کا سامنا رہا بلکہ پروازوں میں تاخیر اور سروس شکایات نے مسافروں کا اعتماد بھی مجروح کیا۔
نجکاری کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ نجی شعبہ سرمایہ کاری، جدید مینجمنٹ اور کارکردگی پر مبنی فیصلوں کے ذریعے پی آئی اے کو دوبارہ مارکیٹ میں مؤثر بنا سکتا ہے۔ تاہم ناقدین اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ منافع کی دوڑ میں وہ روٹس نظرانداز ہو سکتی ہیں جو تجارتی طور پر کمزور مگر قومی ضرورت کے لیے اہم ہیں۔

پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس گروپ نے پی آئی اے کے اکثریتی حصص (تقریباً 75 فیصد) کے لیے 130 سے 135 ارب روپے کی بولی دی، جسے حکومت نے قبول کیا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

عارف حبیب گروپ کا شمار پاکستان کے بڑے اور تجربہ کار کاروباری گروپس میں ہوتا ہے، جس کی موجودگی فنانس، سرمایہ کاری اور صنعتی شعبوں میں مستحکم سمجھی جاتی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہ گروپ پی آئی اے میں سرمایہ کاری، فلیٹ کی جدید کاری اور پیشہ ورانہ نظم و نسق متعارف کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم عوامی سطح پر یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ آیا ایک قومی اثاثہ اپنی اصل قدر پر فروخت ہوا یا نہیں۔

نجکاری کا سب سے نازک اور انسانی پہلو پی آئی اے کے ملازمین ہیں۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار اس ادارے سے وابستہ رہا ہے۔ ملازمتوں کے تحفظ، پنشن اور دیگر مراعات کے حوالے سے خدشات نے نجکاری کے عمل کو متنازع بنایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منتقلی شفاف اور مرحلہ وار نہ ہوئی تو سماجی بے چینی جنم لے سکتی ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا مکمل نجکاری کے علاوہ کوئی اور حل موجود نہیں تھا؟ کئی ماہرین کے نزدیک جزوی نجکاری، اسٹریٹجک پارٹنرشپ یا پبلک–پرائیویٹ پارٹنرشپ جیسے ماڈلز آزمائے جا سکتے تھے۔ اگر پی آئی اے کو وقت پر خودمختاری، مضبوط بورڈ اور سیاسی مداخلت سے آزادی دی جاتی تو شاید یہ نوبت نہ آتی۔

پی آئی اے کی نجکاری کو حالات کے تناظر میں ایک ممکنہ اور شاید آخری حل کہا جا سکتا ہے، مگر اسے مکمل طور پر ناگزیر قرار دینا اب بھی بحث طلب ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خسارے اور قرضوں نے ریاست کو دیوار سے لگا دیا تھا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بروقت اصلاحات اور مضبوط گورننس سے شاید اس قومی ادارے کو بچایا جا سکتا تھا۔

اصل سبق پی آئی اے کی نجکاری نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر قومی اداروں کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو ایک دن انہیں بیچنا ہی واحد راستہ بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سبق سے کچھ سیکھیں گے، یا تاریخ خود کو اسی طرح دہراتی رہے گی؟

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Muhammad Maqsood Khan Advocate Muhammad Maqsood Khan Advocate
پاکستان20 گھنٹے ago

کیا یہ ڈاکٹر دکھی انسانیت کے لیے مسیحا بن پائیں گے؟

غیر ملکی میڈیکل ڈگریاں یا موت کے پروانے۔نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے تحت نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن کے نتائج بعض...

Nisar Hussain Logo Nisar Hussain Logo
اوورسیز پاکستانیز21 گھنٹے ago

بلی کے گلے میں گھنٹی ،اعتماد کی تلاش میں ایک رات

یہ کالم صرف ایک محفل شب کی روداد نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کی بازگشت ہے ایسی سوچ کا عکس جو...

Syed Imam Ali Jillani Syed Imam Ali Jillani
پاکستان1 دن ago

پیر سید عبدالقادر شاہ جیلانیؒ کے صاحبزادے سید امام علی جیلانی پر قاتلانہ حملہ،ایک شخص جانبحق

راولپنڈی (صدائے سچ کرائم نیوز) پیر عبدالقادر شاہ جیلانیؒ کے صاحبزادے سید امام علی جیلانی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا...

Muhammad Maqsood Khan Advocate Muhammad Maqsood Khan Advocate
برطانیہ اور یورپ2 دن ago

بریڈفورڈ کی خاموش گلی اور سفید پاؤڈر کا دھندہ

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ (لیڈز، برطانیہ)maqsudkhan@hotmail.com لیڈز کا جڑواں بریڈفورڈ — انگلستان کا وہ معروف شہر جہاں پاکستانی نژاد...

Punjab govt owned vehicles Punjab govt owned vehicles
پاکستان4 دن ago

پنجاب میں سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول پر چلنے پر پابندی عائد

لاہور(صدائے سچ نیوز)پنجاب حکومت نےماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کےلیےبڑا فیصلہ کرتے ہوئےسرکاری محکموں میں پٹرول اور ڈیزل سے چلنے...

Pakistani students Pakistani students
برطانیہ اور یورپ4 دن ago

پاکستانی طلبہ کےلیے خوشخبری، لندن کالج کامکمل فنڈڈسکالرشپ کا اعلان

لندن (صدائے سچ نیوز) امپیریل کالج لندن نے پاکستانی طلباء کے لیے مکمل فنڈڈ پوسٹ گریجویٹ سکالرشپ کا اعلان کیا...

Shahmeer Shahnawaz Shahmeer Shahnawaz
پاکستان5 دن ago

سری لنکا نے تیسرے ٹی ٹونٹی میں پاکستان کو شکست دے کرسیریز برابرکر دی

تحریر:شاہ میر شاہنواز 13 جنوری 2026 کو دمبولا میں کھیلے گئے تیسری ٹی 20 میچ میں سری لنکا نے پاکستان...

MINISTRY OF INFORMATION & BROADCASTING MINISTRY OF INFORMATION & BROADCASTING
ایکسکلوسِو5 دن ago

وزیراعظم نے جرمن زبان کہاں سے سیکھی؟ وزارت اطلاعات کے افسران دنگ

اسلام آباد (صدائے سچ خصوصی رپورٹ) وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے فارن پوسٹنگ کیلیے جرمن زبان میں انٹرویو کرکے...

Muhammad Maqsood Khan Advocate Muhammad Maqsood Khan Advocate
پاکستان6 دن ago

ڈی جی خان سے حوا کی ایک بیٹی کی وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے فریاد

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز ، برطانیہ ڈی جی خان کا شہر رات کے سناٹے میں ڈوبا ہوا ہے۔گلیاں...

MINISTRY OF INFORMATION & BROADCASTING MINISTRY OF INFORMATION & BROADCASTING
ایکسکلوسِو6 دن ago

پریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع

اسلام آباد(صدائے سچ خصوصی رپورٹ) وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کیساتھ بیرون ملک مختلف عالمی امور پرپاکستان کا بیانیہ...

Trending