Connect with us

پاکستان

کیا یہ ڈاکٹر دکھی انسانیت کے لیے مسیحا بن پائیں گے؟

Muhammad Maqsood Khan Advocate

غیر ملکی میڈیکل ڈگریاں یا موت کے پروانے۔نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے تحت نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن کے نتائج بعض غیر ملکی میڈیکل اداروں کی ناقص تعلیمی معیار کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تحریر و تحقیق:محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، یوکے
maqsudkhan@hotmail.com

“ڈاکٹر دکھی انسانیت کا مسیحا ہوتا ہے۔”
یہ جملہ دہائیوں سے ہمارے معاشرے میں اعتماد، احترام اور امید کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔

لیکن نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) کے تحت دسمبر 2025 میں منعقد ہونے والے نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (NRE) کے پہلے مرحلے کے نتائج نے اس تصور کو سنجیدہ سوالات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

یہ نتائج محض امتحانی اعداد و شمار نہیں، بلکہ میڈیکل تعلیم کے معیار، طلبہ کی تیاری، اور بالآخر مستقبل میں مریضوں کی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بریڈفورڈ کی خاموش گلی اور سفید پاؤڈر کا دھندہ

نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کی جانب سے دسمبر 2025 کے نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، امتحان کے پہلے مرحلے میں 7,076 امیدواروں نے شرکت کی، مگر ان میں سے صرف 1,473 امیدوار کامیاب ہو سکے۔۔یوں کامیابی کی شرح محض 20.8 فیصد رہی، جبکہ 80 فیصد سے زائد امیدوار ناکام ہوئے۔

یہ اعداد و شمار ایک خوفناک، پریشان کن اور نہایت تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں، جو ان غیر ملکی میڈیکل اداروں کے تعلیمی معیار پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں جہاں سے یہ نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے وطن واپس آئے ہیں۔

ذیل میں نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن کے نتائج کی ملک بہ ملک تفصیل پیش کی جا رہی ہے:

چین: 2,154 شریک – 333 کامیاب – 1,821 ناکام
کرغزستان: 4,256 شریک – 951 کامیاب – 3,305 ناکام
افغانستان: 160 شریک – 18 کامیاب – 142 ناکام
ازبکستان: 116 شریک – 35 کامیاب – 81 ناکام
قازقستان: 174 شریک – 54 کامیاب – 120 ناکام
تاجکستان: 91 شریک – 30 کامیاب – 61 ناکام
روس: 16 شریک – 2 کامیاب – 14 ناکام
یوکرین: 14 شریک – 2 کامیاب – 12 ناکام
کیوبا: 10 شریک – 0 کامیاب – 10 ناکام
قبرص: 10 شریک – 0 کامیاب – 10 ناکام
ڈومینیکن ری پبلک: 30 شریک – 0 کامیاب – 30 ناکام
سینٹ لوشیا: 30 شریک – 0 کامیاب – 30 ناکام
بارباڈوس: 10 شریک – 0 کامیاب – 10 ناکام
سوڈان: 10 شریک – 0 کامیاب – 10 ناکام
بنگلہ دیش: 11 شریک – 1 کامیاب – 10 ناکام
ایران: 39 شریک – 20 کامیاب – 19 ناکام
دیگر ممالک: (مشترکہ اعداد و شمار)

یہ بھی پڑھیں: ڈی جی خان سے حوا کی ایک بیٹی کی وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے فریاد

یہ اعداد و شمار واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ متعدد ممالک سے آنے والے امیدواروں کی بھاری اکثریت امتحان میں ناکام رہی۔ خاص طور پر کیوبا، قبرص، ڈومینیکن ری پبلک، سینٹ لوشیا، بارباڈوس اور سوڈان سے کوئی بھی امیدوار کامیاب نہ ہو سکا۔

یہ حقیقت بلا شبہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جن ممالک سے یہ طلبہ تعلیم مکمل کر کے واپس آتے ہیں، وہاں مضبوط نصاب، معیاری عملی تربیت، فیکلٹی کے معیار اور کلینیکل بنیادوں کی شدید کمی ہے۔ بالخصوص چین اور کرغزستان نمایاں مثالیں ہیں—جہاں سے بڑی تعداد میں گریجویٹس نے امتحان میں شرکت کی، مگر ان کی کامیابی کی شرح نہایت کم رہی۔

چین سے واپس آنے والے صرف 15 فیصد امیدوار کامیاب ہوئے۔ جبکہ کرغزستان سے آنے والے امیدواروں کی کامیابی کی شرح محض 22 فیصد رہی۔

اس قدر بڑے پیمانے پر ناکامی ناقص تعلیم، کلینیکل تجربے کی کمی، اور بین الاقوامی و مقامی میڈیکل معیار سے عدم مطابقت کی واضح علامت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جب محبت جرم بن جاتی ھے: ایک ھوشربا فسانہ و حقیقت

ماہرینِ تعلیم اس بحران کی ایک بڑی وجہ ایجنٹ مافیا کو قرار دیتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک طلبہ اور والدین کے خوابوں سے کھیلتا ہے، اور کم میرٹ، کم خرچ اور “آسان ڈگری” جیسے وعدوں کے ذریعے انہیں بیرونِ ملک غیر معیاری بلکہ اکثر “گھوسٹ میڈیکل کالجز” میں داخل کرواتا ہے۔ ایجنٹس عموماً نصاب، فیکلٹی، ہسپتال سہولیات، کلینیکل ٹریننگ اور تعلیمی معیار سے متعلق حقیقت چھپاتے ہیں، اور والدین کو یہ جھوٹا یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں رجسٹریشن محض ایک رسمی کارروائی ہے۔

مگر

جب یہی طلبہ نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن میں بیٹھتے ہیں، تو برسوں کی تعلیمی کمزوری اور عملی تجربے کی کمی پوری شدت کے ساتھ بے نقاب ہو جاتی ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے تحت منعقد ہونے والا نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن ایک شفاف امتحان ہے، جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ امتحان سال میں دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے، یہ دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے- منظور شدہ نصاب اور منظم اسٹرکچر کے تحت، تاکہ میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کی علمی، عملی اور کلینیکل صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ امتحان پاکستان میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے مساوی معیار کا پیمانہ فراہم کرتا ہے، تاکہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جا سکے۔

اس امتحان کا مقصد محض ڈگری دینا نہیں، بلکہ مریضوں کی جانوں کا تحفظ، علاج کے معیار کی ضمانت، اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو یقینی بنانا ہے۔

ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ ان مایوس کن نتائج کی روشنی میں، وہ غیر ملکی گریجویٹس جو علمی اور عملی طور پر کمزور ہیں، ان کی سخت جانچ، اصلاحی تعلیم، تدارکی تربیت اور مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر، انہیں پریکٹس کی اجازت دینا براہِ راست انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ صورتحال صرف تعلیمی یا پیشہ ورانہ مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سنگین سماجی اور معاشی بحران بھی ہے۔ پاکستانی خاندان ہر سال بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم پر سینکڑوں ملین ڈالر خرچ کرتے ہیں، مگر بدلے میں ایسی ڈگریاں حاصل ہوتی ہیں جو قابلِ قبول معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ نتیجتاً طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی، مالی اور سماجی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق

ان میں سے زیادہ تر طلبہ وہ ہوتے ہیں جو پاکستان میں پری میڈیکل امتحانات میں کمزور کارکردگی دکھاتے ہیں اور میرٹ پر مقامی میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل نہیں کر پاتے۔ مالی طور پر آسودہ والدین کی دولت کے بل بوتے پر یہ طلبہ غیر معیاری غیر ملکی میڈیکل اداروں میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ ناقص تعلیم و تربیت کے باعث وہ پیشہ ورانہ اہلیت سے محروم رہتے ہیں اور وطن واپس آ کر غیر ملکی ڈگریوں کے جھوٹے زعم میں انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

آخری سوال : کیا یہ ڈاکٹر مسیحا بن پائیں گے؟

ماہرین متفق ہیں کہ ڈاکٹر بننے کے لیے صرف نیک نیتی کافی نہیں۔ اس کے لیے درج ذیل امور ناگزیر ہیں:

ا) مضبوط علمی بنیاد
ب) اعلیٰ معیار کی منظم کلینیکل تربیت
ج) سخت اور شفاف امتحانی نظام
د) ایجنٹ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی

اگر نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز معیار پر سختی سے عمل درآمد کرانے پر کاربند رہتی ہے، کمزور غیر ملکی میڈیکل اداروں کے گریجویٹس کے لیے لازمی اصلاحی اور تربیتی پروگرام متعارف کراتی ہے، اور غیر معیاری غیر ملکی میڈیکل کالجوں اور سہولت کار ایجنٹس کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جاتے ہیں، تو یہی طلبہ مستقبل میں ذمہ دار، قابل اور مؤثر ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔
لیکن
اگر معیار پر ذرا سی بھی سمجھوتہ کیا گیا، تو یہ مسئلہ صرف ڈگریوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قومی صحت، مریضوں کی سلامتی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مستقل خطرہ بن جائے گا۔

یہ مایوس کن نتائج والدین، طلبہ اور پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ

میڈیکل تعلیم میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ محض کیریئر کا مسئلہ نہیں۔
یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔
ایسی میڈیکل ڈگریاں درحقیقت ڈگریاں نہیں بلکہ موت کے پروانے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Khalid-Maqbool Khalid-Maqbool
پاکستان4 دن ago

قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں،ایم کیو ایم پاکستان

ایم کیو ایم پاکستان نے اسلام آباد ترلائی خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ رہنما ایم کیو ایم خالد...

Putin Putin
پاکستان4 دن ago

معصوم شہریوں پر دہشتگرد حملہ غیر انسانی فعل ہے،روسی صدر

ماسکو (صداۓ سچ نیوز) روسی صدر پیوٹن نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کے نام خط لکھا...

nepra nepra
پاکستان4 دن ago

نیپرا نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ مد میں بجلی مہنگی کر دی

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں...

Talal-Ch Talal-Ch
پاکستان4 دن ago

خودکش حملہ آو ر کی ٹریول ہسٹری افغانستان کی ہے ،طلال چودھری

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وزیرمملکت داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں پیش آنے والا واقعہ...

fazl ur rahman fazl ur rahman
پاکستان4 دن ago

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گیا

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) اسلام آباد میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے وفد نے جمعرات کو امیر جمعیت علماء...

under-19 under-19
پاکستان4 دن ago

بھارت نے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ جیت لیا

ہرارے (صداۓ سچ نیوز) بھارت نے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ جیت لیا،فائنل میں انگلینڈ کو 100 رنز...

sawat sawat
پاکستان4 دن ago

وادی سوات اور نیلم میں شدید برفباری، پہاڑی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ

سوات (صداۓ سچ نیوز) وادی سوات کے بالائی مقامات کالام، مالم جبہ، مٹلتان، پلوگاہ، مہوڈنڈ اور اتروڑ میں برف باری...

Maryam-Nawaz Maryam-Nawaz
پاکستان4 دن ago

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی تمام بسنت تقریبات منسوخ کردیں

لاہور (صداۓ سچ نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کل کے لیے بسنت سے متعلق اپنی تمام سرکاری اور نجی...

white-house white-house
پاکستان4 دن ago

ایران سے سفارت کاری ٹرمپ کی پہلی ترجیح، مگر طاقت کے استعمال کا آپشن بھی موجود ہے، وائٹ ہاؤس

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاملات میں سفارت کاری...

America America
پاکستان5 دن ago

سکیورتی خدشات ، امریکا کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا حکم

امریکا نے ایران میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے...

Trending