برطانیہ اور یورپ
بریڈفورڈ کی خاموش گلی اور سفید پاؤڈر کا دھندہ
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ (لیڈز، برطانیہ)
maqsudkhan@hotmail.com
لیڈز کا جڑواں بریڈفورڈ — انگلستان کا وہ معروف شہر جہاں پاکستانی نژاد آبادی کی نمایاں اکثریت ہے، اسی نسبت سے اسے اکثر منی پاکستان کہا جاتا ہے۔
شہر کی ایک گلی، ووڈسائیڈ روڈ، جیسے وقت کے بہاؤ میں منجمد ہو گئی ہو۔ گہری خاموشی طاری ہے۔ گھروں کے دروازے حسبِ معمول بند ہیں، کھڑکیوں کے پیچھے زندگیاں سمٹی ہوئی ہیں۔ ہر گھر اپنی دنیا میں مگن ہے، اور ہر دیوار کے پیچھے ایک کہانی سانس لے رہی ہے۔
اسی گلی میں ایک گھر ہے—ایک ایسا گھر جہاں پچھلا کمرہ اب آرام یا نیند کے لیے نہیں رہا۔ وہاں خاموشی سے ہیروئن کا کاروبار چل رہا ہے۔ تول، پیکنگ اور ترسیل—سب کچھ نہایت خاموشی اور مہارت سے۔ دائیں بائیں رہنے والے پڑوسیوں کو کانوں کان خبر نہیں کہ اس گھر میں موت کا کاروبار جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی خان سے حوا کی ایک بیٹی کی وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے فریاد
کمرے میں دیوار کے ساتھ ایک پیکنگ ٹیبل رکھا ہے۔ اس پر ڈیجیٹل ترازو، اردگرد بالٹیوں میں سفید پاؤڈر، اور سامنے قطار در قطار پلاسٹک کی تھیلیاں۔ یہاں زندگی کی کوئی قیمت نہیں—یہاں صرف مقدار بولتی ہے۔
پچاسی کلو ہیروئن۔
پچاسی لاکھ پاؤنڈ مالیت۔
مگر اس کمرے میں قیمت کوئی نہیں پوچھتا۔ یہاں صرف یہ سوال ہوتے ہیں: کتنا نکلا؟ کہاں جانا ہے؟ اور کب پہنچنا ہے؟
اسی گھر میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری سدرہ رہتی ہے۔ عمر چونتیس برس کے لگ بھگ۔ چہرہ ایسا کہ ہجوم میں پہچانا نہ جائے، مگر ہاتھ ایسے جو پورے شہروں کو اندھا کر سکتے ہیں۔ انگلیاں تیز، آنکھیں بے تاثر—جیسے یہ سب کسی روزمرہ معمول کا حصہ ہو۔ شاید واقعی ایسا ہی ہے۔

کمرے کے ایک کونے میں کھلے کارٹن پڑے ہیں۔ لیدر جیکٹس، موٹے کوٹ—ایسے کپڑے جن کے ریشوں میں موت چھپ کر سرحدیں پار کرتی ہے۔ پاکستان سے آنے والی ترسیل۔ لمبا سفر، خاموش راستے، اور طے شدہ انجام۔
میز پر رکھا موبائل فون پل بھر کو خاموش نہیں ہوتا۔ اس میں سینکڑوں پیغامات محفوظ ہیں—مقدار، راستے، ترسیل، ادائیگیاں۔ ایک پیغام میں درج ہے:
ڈھائی لاکھ پاؤنڈ—نقد۔
ان پیغامات میں کہیں انسان کا ذکر نہیں، کہیں ضمیر کی آواز نہیں۔ صرف مال ہے، صرف لین دین۔
یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں۔ یہ اس جرم کی جھلک ہے جو خاموشی سے پھیلتا ہے، پردوں کے پیچھے پنپتا ہے، اور پھر اچانک پورے معاشرے پر اپنی تباہی کے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ اس تباہی کا ایک اور پہلو بھی ہے—وہ بدنامی جو بلا تفریق پوری ایک کمیونٹی کے نام کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہے۔
ہر ایسے جرم کے بعد ہزاروں محنت کش، قانون پسند، خاموشی سے اپنی زندگی گزارنے والے پاکستانی خاندان ایک غیر اعلانیہ کٹہرے میں کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ انہیں بار بار یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ یہ کہانی ان کی نہیں، یہ چہرہ ان کا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب محبت جرم بن جاتی ھے: ایک ھوشربا فسانہ و حقیقت
بالآخر قانون کی دستک اس گھر تک پہنچتی ہے۔ نیشنل کرائم ایجنسی کے افسر اندر داخل ہوتے ہیں۔ وہ صرف دیواریں نہیں دیکھ رہے—وہ ایک مکمل کہانی پڑھ رہے ہیں: ایک منظم نیٹ ورک، ایک خاموش جال۔ سدرہ کو حراست میں لے لیا جاتا ہے۔
عدالت میں سدرہ کھڑی ہے۔ اب بولنے کی باری اس کی نہیں۔ شواہد بول رہے ہیں۔ وہ اعتراف کرتی ہے—درآمد، سپلائی، اور سازش۔
فیصلہ سنایا جاتا ہے:
اکیس سال اور چھ ماہ قید۔
عدالتی کمرے میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ باہر زندگی حسبِ معمول رواں ہے، مگر اس ایک فیصلے میں ان سب گھروں کی آہ شامل ہے جو اس نشے سے اجڑ گئے، اور ان سب خاندانوں کی خاموش شرمندگی بھی، جو ہر بار یہی کہتے ہیں: یہ ہم نہیں ہیں۔
بریڈفورڈ کی وہی گلی، وہی بند دروازے، وہی کھڑکیاں۔ سب کچھ ویسا ہی ہے—
مگر ایک کمرے کی کہانی اب بہت دور تک جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق
سدرہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے،
اکیس برس اور چھ ماہ کے لیے۔
سزا کاٹ کر باہر آئے گی تو پچپن برس کی ہو چکی ہو گی۔
نہ شاید کوئی گھر، نہ کوئی اپنا۔
ممکن ہے انجام کسی اولڈ ہوم کے سرد در و دیوار ہوں۔
یہ کہانی صرف جرم کی نہیں۔
یہ شناخت کی کہانی ہے۔
یہ بدنامی کی کہانی ہے۔
اور اس سوال کی بھی کہ
آخر کب تک چند افراد کے گھناؤنے جرائم
پوری ایک کمیونٹی کو داغ دار بناتے رہیں گے؟
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

