تازہ ترین
ماں، دارالامان اور انتظار کی آخری رات
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
وہ عورت کوئی عام عورت نہیں لگتی تھی۔
اس کا تعلق متمول گھرانے سے تھا،
با وقار اور دلآویز شخصیت-
اس کی خاموشی میں بھی وقار تھا،
لب و لہجے میں شائستگی تھی- شائستگی کی وہ مہک
جو وقت کے ہنگاموں میں بھی ختم نہیں ہوتی۔
مگر اس کے چہرے پر ایک گہری سی اداسی اور تھکن بسی ہوئی تھی—
ایسی اداسی اور تھکن جو نہ عمر کی دین ہوتی ہے
نہ بیماری کی،
بلکہ وہ اداسی اور تھکن جو اپنوں کی بے رخی اور بے اعتنائی سے جنم لیتی ہے۔
وہ کبھی ایک بھرے پُرے گھر کی مالکن تھی۔
یہ بھی پڑھیں: فیصلوں کی بازگشت
ایسا گھر جہاں علم دروازہ کھٹکھٹاتا تھا،
جہاں گفتگو میں کتابوں کے حوالے ہوتے تھے،
جہاں بچوں کے مستقبل کے خواب
پورے یقین اور دعا کے ساتھ بُنے جاتے تھے۔
وقت مگر اپنی ہی رفتار سے چلتا رہا۔
بچے بڑے ہوتے گئے۔
کوئی سمندر پار علم کے تعاقب میں نکل گیا،
کوئی سفید کوٹ پہن کر
دکھی انسانیت کی خدمت کا دعوے دار بن گیا،
کوئی مالیاتی اداروں کی
شیشے کی بلند عمارتوں میں
طاقتور فیصلے کرنے لگا،
اور کوئی زمینوں، باغات اور کاروبار کی
گرد میں خود کو گم کرتا چلا گیا-
یہ بھی پڑھیں: کووڈ 19 اور برطانیہ میں 6.6 ملین پاؤنڈز کا اسکینڈل
اور وہ—
جو ان سب کے پہلے لفظ،
پہلے قدم
اور پہلی کامیابی کی خاموش گواہ تھی—
آہستہ آہستہ
ان کی زندگیوں میں ایک اضافی اور بیکار وجود بنتی چلی گئی،
جیسے کسی کمرے کے کونے میں رکھی
وہ شے جسے کوئی پھینکتا تو نہیں
مگر سنبھالتا بھی نہیں۔
پھر ایک دن،
علاج کے بہانے
اسے شہر سے باہر لے جایا گیا۔
گاڑی چلتی رہی
اور وہ کھڑکی سے گزرتے راستوں کو دیکھتی رہی۔
شاید کسی موڑ پر بیٹا آواز دے،
شاید بیٹی ہاتھ تھام لے،
شاید کوئی کہہ دے:
“اماں، ہم آ گئے ہیں۔”
مگر گاڑی جس دروازے پر رکی
وہ دروازہ ماں کے لیے نہیں ہونا چاہیے تھا—
دارالامان۔
وہاں اس کی زندگی
انتظار میں ڈھل گئی۔
ہر قدموں کی آہٹ پر وہ چونک اٹھتی،
ہر دروازہ کھلنے پر
آنکھوں میں ایک مدھم سی روشنی جاگ اٹھتی۔
“آج آئیں گے…”
وہ خود سے کہتی۔
ہر روز سورج مشرق سے طلوع ہوتا،
دن بھر کی مسافت طے کر کے
مغرب کی گہری خاموشی میں ڈوب جاتا،
مگر نہ کوئی آیا،
نہ ہی کسی کو آنا تھا۔
دن ہفتوں میں بدلتے گئے،
ہفتے مہینوں میں۔
سات مہینے گزر گئے—
سات مہینے انتظار کے،
سات مہینے ماں ہونے کے
آخری اور کڑے امتحان کے۔
یہ بھی پڑھیں: بریڈفورڈ کی خاموش گلی اور سفید پاؤڈر کا دھندہ
اور پھر ایک رات،
جب نہ کوئی بیٹا آیا،
نہ کوئی بیٹی،
نہ کسی مصروفیت کا عذر،
نہ کسی عہدے کی پرچھائیں—
اس بیکس، دکھیاری عورت نے
زندگی کی آخری ہچکی لی۔
کہتے ہیں
مرنے کے بعد بھی اس کی آنکھیں کھلی رہیں،
جیسے وہ اب بھی
اپنی اولاد کی ایک جھلک
دیکھنے کی آس میں ہو۔
اس کی موت کے بعد
یہ تلخ حقیقت سامنے آئی
کہ وہ کوئی عام سی خاتون نہیں تھی۔
وہ جام شورو کی ایک عظیم درسگاہ کے
مرحوم سابق وائس چانسلر کی بیوہ تھی—
جس کے نام پر علم کی شمعیں جلتی رہیں،
مگر جس کی بیوی
اپنی اولاد کے ہوتے ہوئے
دارالامان میں
لاوارث مر گئی۔
اگلے دن
اخبار میں ایک خبر چھپی—
چند بے جان سطروں میں:
“جام شورو یونیورسٹی کے مرحوم وائس چانسلر کی بیوہ
دارالامان میں کسمپرسی کے عالم میں
دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔”
نام نہاد تہذیب کے اس دور کا
یہ کس قدر سنگین المیہ ہے
کہ ہم نے علم تو بہت سیکھ لیا،
دنیا بھر کی ڈگریاں سمیٹ لیں،
مگر
ماں کو سنبھالنا
بھول گئے۔
اور یاد رکھیے—
جو معاشرہ
ماں کو لاوارث کر دے،
جیتے جی مار دے،
درحقیقت وہ خود
کب کا مر چکا ہوتا ہے،
بس
دفن ہونے میں
دیر ہوتی ہے۔
-
پاکستان2 دن agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 مہینہ agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان4 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز

