Connect with us

برطانیہ اور یورپ

ہم نے خطرے کی گھنٹی کب سننی ہے؟

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

2014 میں برطانیہ آنے کے بعد مجھے ایک بات بارہا محسوس ہوئی اور اپنے لوگوں سے کہی کہ ہمیں اس ملک میں اپنے مستقبل کے بارے میں خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی معاشرے میں چند افراد کی مسلسل قانون شکنی، تشدد، چوری، ڈکیتی، مالی جرائم، دھوکہ دہی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں صرف ان افراد کا مسئلہ نہیں رہتیں؛ وقت گزرنے کے ساتھ یہ پورے تارکینِ وطن معاشرے کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرتی ہیں اور بالآخر اس کا سیاسی ردِعمل بھی سامنے آتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ جب یہ بات برسوں پہلے کہی جاتی تھی تو اکثر لوگ اسے محض خوف پھیلانے یا مایوسی کی بات سمجھتے تھے۔ برطانوی شہریت یا مستقل رہائش کو وہ ایک ایسی مستقل ضمانت تصور کرتے تھے جس کے بعد سیاسی حالات خواہ کتنے ہی بدل جائیں، ان کے مستقبل کو کوئی خطرہ نہیں پہنچ سکتا۔ مگر سیاست میں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے طے شدہ نہیں ہوتی۔

آج برطانیہ کی سیاست کو دیکھیں تو صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ Brexit کے بعد امیگریشن، سرحدی کنٹرول، غیر قانونی آمد، پناہ گزینی اور غیر ملکی مجرموں کی ملک بدری برطانوی سیاسی مباحث کے مرکزی موضوعات بن چکے ہیں۔ نائجل فراج کی قیادت میں یوکے ریفارم پارٹی نے اس مسئلے کو اپنی سیاست کا بنیادی حصہ بنا دیا ہے۔ اس کا پیغام واضح ہے: امیگریشن میں بڑی کمی، سرحدوں پر سخت کنٹرول اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی۔ اھم بات یہ ھے کہ نائجل فراج کے بیانئے کو بہت پذیرائی ملی ھے اور اس سال 7 مئی کو ھونے والے بلدیاتی انتخابات میں ریفارم پارٹی ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ھے- اس تناظر میں سیاسی و سماجی تجزیہ نگاروں کی آراء ھیں کہ اگلے عام انتخابات میں ریفارم پارٹی ملک گیر پارٹی کے طور پر سامنے آئے گی اور اپنے منشور پر عمل پیرا ھو گی-

یہ صرف ایک سیاست دان یا ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔ برطانیہ اور یورپ کے متعدد ممالک میں دائیں بازو، قوم پرست اور امیگریشن مخالف سیاسی قوتیں گزشتہ برسوں میں نمایاں ہوئی ہیں۔ ان جماعتوں نے عوامی بے چینی کو سیاسی طاقت میں تبدیل کیا ہے۔ اگرچہ ان کے تمام دعووں سے اتفاق ضروری نہیں، لیکن ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو نظرانداز کرنا سیاسی نادانی ہوگی۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ ہر تارکِ وطن مجرم نہیں ہے، اور کسی ایک فرد کے جرم کی بنیاد پر پوری کمیونٹی کو مجرم قرار دینا انصاف نہیں۔ ہزاروں تارکینِ وطن محنت کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، نیشنل ھیلتھ سروس اور دیگر اداروں میں خدمات انجام دیتے ہیں اور برطانوی معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو تارکِ وطن جرم کرتا ہے، اسے محض اس بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ تارکِ وطن ہے۔

اصل خطرہ یہاں پیدا ہوتا ہے: جب ایک کمیونٹی اپنے اندر موجود قانون شکن عناصر کے خلاف واضح اخلاقی موقف اختیار نہیں کرتی، تو اس کے خلاف دوسروں کا بیانیہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ پھر ایک فرد کا جرم پوری کمیونٹی کے خلاف سیاسی نعرہ بن سکتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ شہریت قانون سے بالاتر ہونے کا نام نہیں۔ برطانوی شہریت حاصل کرنے والے شخص کے حقوق ضرور محفوظ ہیں، لیکن قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی نتائج سے کوئی شخص بالاتر نہیں۔ اسی طرح تارکِ وطن ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہمیشہ مشتبہ یا قابلِ نفرت سمجھا جائے۔

میرا خدشہ دراصل اسی اجتماعی سیاسی ردِعمل کے بارے میں ہے۔ اگر امیگریشن مخالف قوتیں مسلسل مضبوط ہوتی رہیں اور تارکینِ وطن کے بعض حلقوں میں جرائم، دھوکہ دہی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے واقعات جاری رہے تو دونوں رجحانات ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں۔ سیاست دان سخت قوانین کا مطالبہ کریں گے، عوام میں بے چینی بڑھے گی، اور تارکینِ وطن کے لیے سیاسی ماحول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض یہ سوچ کر مطمئن نہ بیٹھیں کہ ’’ہمارے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے، ہمیں کچھ نہیں ہو سکتا۔‘‘ پاسپورٹ قانونی شناخت دیتا ہے، لیکن کسی کمیونٹی کی سیاسی قبولیت اس کے اجتماعی رویے سے بھی متاثر ہوتی ہے۔

ہمیں دوسروں کے ہاتھ میں وہ ہتھیار نہیں دینا چاہیے جسے کل ہمارے خلاف استعمال کیا جا سکے۔

جرم کرنے والے کا تعلق خواہ کسی قوم، مذہب یا ملک سے ہو، اسے قانون کے مطابق جواب دینا چاہیے۔ لیکن اسی کے ساتھ قانون پسند تارکینِ وطن کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ انہیں چند مجرم افراد کے اعمال کی بنیاد پر اجتماعی طور پر موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے۔

اگر ہم واقعی برطانیہ میں اپنی اگلی نسلوں کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی دو باتوں پر واضح اور غیر مبہم موقف اختیار کرنا ہوگا: قانون شکنی کی کوئی حمایت نہیں، اور اجتماعی نفرت کی بھی کوئی گنجائش نہیں۔

ورنہ تاریخ ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ سیاسی ہوا بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا—اور جب ہوا بدل جائے تو وہ لوگ سب سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں جو خطرے کی گھنٹی بجتے وقت بھی اسے سننے سے انکار کرتے رہے ہوں۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Muhammad Maqsood Khan Advocate Muhammad Maqsood Khan Advocate
برطانیہ اور یورپ2 گھنٹے ago

ہم نے خطرے کی گھنٹی کب سننی ہے؟

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ 2014 میں برطانیہ آنے کے بعد مجھے ایک بات بارہا محسوس ہوئی اور...

Sayed Shabbir Abbas Sayed Shabbir Abbas
پاکستان2 گھنٹے ago

عوامی مسائل کے حل کیلئے اہلیان علاقہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، سید شبر عباس ایڈووکیٹ

گوجر خان (صدائے سچ نیوز)عوامی مسائل کے حل اور علاقائی ترقی کیلئے ہر ممکن کردار ادا کر رہے ہیں اور...

rwp medical university rwp medical university
پاکستان2 گھنٹے ago

یو ایچ ایس ریجنل سینٹر کی اپ گریڈیشن، یو ایچ ایس اور آر ایم یو کے درمیان تعلیمی تعاون مزید مضبوط

راولپنڈی (صداۓ سچ نیوز) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) لاہور نے راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی (RMU) میں اپنے ریجنل سینٹر کی...

Chaudhary Obaidullah Chaudhary Obaidullah
پاکستان3 گھنٹے ago

اساتذہ کرام کو ہر سطح پر عزت و تکریم دی جائے، چوہدری عبیداللہ

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) مرکزی صدر نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز، چیئرمین کیریئر سکولز سسٹم محمد عبیداللہ چوہدری...

Salman-Akram-Raja Salman-Akram-Raja
پاکستان3 گھنٹے ago

پی ٹی آئی نے حکومت سے دوبارہ بات چیت کا عندیہ دیدیا

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ختم ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے دوبارہ...

Yemeni Forces Yemeni Forces
تازہ ترین5 گھنٹے ago

یمنی فورسز نے باب المندب، ذوباب کا کنٹرول حاصل کرلیا

صنعا (صداۓ سچ نیوز) یمن میں سرکاری فورسز نے حوثیوں سے باب المندب کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا۔ یمن میں...

Barrister Gohar Barrister Gohar
پاکستان5 گھنٹے ago

حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مذاکرات کے حتمی ڈرافٹ پر اتفاق نہ ہوسکا، بیرسٹر گوہر

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ...

Rain-In-Punjab Rain-In-Punjab
پاکستان5 گھنٹے ago

پی ڈی ایم اے کی 6، 7 اکتوبر کو پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے 6 تا 7 اکتوبر تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں...

Iran-Army-Chief-Ameer-Hatami Iran-Army-Chief-Ameer-Hatami
تازہ ترین5 گھنٹے ago

دشمن نے دوبارہ غلطی کی تو ایرانی فوج کچل دے گی، ایرانی آرمی چیف

تہران (صداے سچ نیوز) ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ دشمن نے دوبارہ کوئی غلطی...

gold gold
پاکستان6 گھنٹے ago

عالمی و مقامی منڈیوں میں بڑی گراوٹ کے بعد سونے کی قیمت میں پھر اضافہ

عالمی و مقامی منڈیوں میں بڑی گراوٹ کے بعد سونے کی قیمت میں پھر اضافہ ہوا ہے۔ آل پاکستان صرافہ...

Trending