تازہ ترین
یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا
صنعاء (صداۓ سچ نیوز) یمنی سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں نے کہا ہے کہ حوثی کی مسلسل کارروائیوں اور سنگین خلاف ورزیوں سے یمن میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
یمن نیوز ایجنسی کے مطابق تنظیموں نے اپنے بیان میں حوثیوں کی وحشیانہ کارروائیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ حوثی قتل و غارت، من مانی حراست، جبری نقل مکانی، گھروں کو دھماکوں سے اڑانا، سڑکیں بند کرنا، شہری گاڑیوں پر حملے، سنائپنگ اور رہائشی علاقوں پر گولہ باری جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں، صحت مراکز، تعلیمی اداروں اور دیگر شہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔
تنظیموں نے کہا کہ ان مظالم کا سب سے زیادہ شکار معاشرے کے کمزور طبقات بالخصوص بچے، خواتین اور بزرگ ہورہے ہیں۔ حوثی بچوں کو جبری طور پر اپنی صفوں میں بھرتی کرکے جنگ پر بھیج رہے ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت ایک سنگین جنگی جرم ہے۔ حال ہی میں تائز، مغربی ساحل، مارب اور الجوف کے محاذوں پر حوثیوں کی جانب سے بھرتی کیے گئے کئی بچے پکڑے گئے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ سات ستمبر کو حوثیوں نے صوبہ مارب کے ضلع رغوان میں بے گھر افراد کی پناہ گاہ پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا جس میں پانچ اور سات سال کے دو بچے شہید ہوگئے جبکہ پندرہ شہری زخمی ہوئے جن میں آٹھ بچے شامل تھے۔ اس حملے میں سولہ گھر اور تین شہری گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔ اسی دن المخا میں دو دسمبر ہسپتال پر بھی بیلسٹک میزائل داغا گیا۔
تنظیموں نے بتایا کہ پانچ ستمبر تک صوبہ تائز اور الحدیدہ سے 2183خاندان یعنی 8ہزار 896افراد نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں جنہیں فوری طور پر رہائش، خوراک، پانی، صحت اور تحفظ کی ضرورت ہے۔
تنظیموں نے خبردار کیا کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور آبنائے باب المندب میں بین الاقوامی بحری جہازوں پر حملے عالمی امن، علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ باب المندب کو مستقل جنگی علاقہ بننے سے روکا جائے اور حوثیوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کی تحقیقات کی جائیں۔
بیان میں اس بات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی گئی کہ حوثی یمن میں موجود افریقی تارکین وطن کو بھی جبری طور پر جنگ پر بھیج رہے ہیں جو ان کے حقوق اور وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
تنظیموں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ حوثیوں کو باضابطہ طور پر مجرمانہ تنظیم قرار دیا جائے، بچوں کی جبری بھرتی فوری روکی جائے، شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور احتساب کے میکانزم کو مضبوط کیا جائے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور دیگر بین الاقوامی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ خلاف ورزیوں کی نگرانی اور دستاویز بندی میں اپنا کردار مزید بڑھائیں۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان7 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان12 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو12 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان8 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

