اوورسیز پاکستانیز
برطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز ، برطانیہ
برطانیہ میں شادی کے ٹوٹنے اور طلاق کے موضوعات طویل عرصے سے سماجی، قانونی اور پالیسی مباحث کا حصہ رہے ہیں۔ عوامی گفتگو میں کبھی کبھار یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ طلاقیں “بڑھ رہی ہیں”، مگر شماریاتی اور قانونی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔
طلاق اور تحلیل کے موجودہ رجحانات
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں انگلینڈ اور ویلز میں 102,678 طلاقیں اور 1,138 سول پارٹنرشپ کی تحلیل ہوئیں۔ یہ تعداد کووِڈ وبا کے بعد دوبارہ وبا سے پہلے کی سطح پر آ گئی، خاص طور پر Divorce, Dissolution and Separation Act 2020 (اپریل 2022 سے نافذ) کے بعد، جس نے قصور ثابت کرنے کی شرط ختم کر کے طلاق کو آسان بنا دیا۔ (آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس)
2023 میں ہر 1,000 شادی شدہ افراد میں طلاق کی شرح مردوں کے لیے 8.6 اور خواتین کے لیے 8.5 رہی۔ یہ 2022 کی کم ترین سطح سے واپسی کی علامت ہے، مگر 1990 کی دہائی کے اوائل سے جاری طویل مدتی کمی کے رجحان کے مطابق ہے۔ (آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس)
مزید یہ کہ حالیہ دہائیوں میں شادی کرنے والے گروہوں میں ابتدائی دس برس کے اندر طلاق کی شرح ماضی کے مقابلے میں کم ہے۔ (آور ورلڈ اِن ڈیٹا)
لہٰذا، اگرچہ قانونی تبدیلیوں اور زیرِ التواء مقدمات کی وجہ سے مجموعی تعداد میں اتار چڑھاؤ آیا ہے، مگر وسیع تر آبادیاتی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ:
ازدواجی تحلیل اب بھی نمایاں ہے (1990 کی دہائی کے اواخر میں شادی کرنے والوں میں تقریباً 25 سال کے اندر 5 میں سے 2 شادیاں طلاق پر ختم ہوئیں)۔ (میڈی ایٹ یو کے)
شادی کے ابتدائی برسوں میں طلاق کی شرح حالیہ نسلوں میں کم ہے۔ (آور ورلڈ اِن ڈیٹا)
ازدواجی ٹوٹ پھوٹ کے اسباب
ماہرین اور تحقیقی مطالعات برطانیہ میں شادی کے خاتمے کے پیچھے کئی باہم جڑے عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں:
(الف) قانونی اصلاحات اور بغیر قصور طلاق
2020 کے قانون نے الزام تراشی کی ضرورت ختم کر دی، جس سے طلاق کا عمل سادہ ہو گیا۔ بعض ناقدین کے مطابق، اس آسانی نے ناخوشگوار شادیوں کے خاتمے کی رکاوٹیں کم کیں، جس کے نتیجے میں قانون کے نفاذ کے بعد درخواستوں میں اضافہ ہوا۔ (کولیشن فار میرج)
(ب) سماجی اقدار اور توقعات میں تبدیلی
آج شادی ماضی کی طرح سماجی یا مذہبی پابندیوں سے مضبوطی سے بندھی نہیں، اور شریکِ حیات سے جذباتی تسکین کی توقعات زیادہ ہو گئی ہیں۔ (سینی کا لرننگ)
(ج) معاشی دباؤ اور مالی مشکلات
معاشی عدم استحکام، مہنگائی اور مالی دباؤ تنازعات کو بڑھا سکتے ہیں۔ طلاق کے مالی معاملات سے متعلق متنازعہ مقدمات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ (دی ٹائمز)
(د) عمر رسیدہ جوڑوں میں علیحدگی
درمیانی یا بڑھاپے کی عمر میں علیحدگی (“سلور اسپلٹرز”) کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ صحت، ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی اور طویل مدتی عدم اطمینان اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض قانونی مبصرین نے رجونورتی جیسے درمیانی عمر کے عوامل کو بھی ازدواجی حرکیات پر اثر انداز ہونے والا قرار دیا ہے۔ (دی ٹائمز)
(ہ) غیر ارادی قانونی پیچیدگیاں
پیچیدہ مالی ڈھانچے، ڈیجیٹل اور کرپٹو کرنسی اثاثے، اور بین الاقوامی عناصر طلاق کے معاملات کو مزید مشکل اور متنازع بنا سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل میں۔ اگرچہ یہ ابھی سرکاری اعداد و شمار میں مکمل طور پر ظاہر نہیں، مگر قانونی تجزیے بڑھتی ہوئی پیچیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ (دی ٹائمز)
“غیر منصفانہ” طلاقیں — اس تنقید کا مفہوم کیا ہے؟
“غیر منصفانہ طلاق” کوئی قانونی اصطلاح نہیں بلکہ ایک سماجی و قانونی تنقید ہے، جس سے مراد ایسے نتائج ہیں جو قانون یا عملی طریقہ کار کی وجہ سے ایک شریکِ حیات کے لیے ناانصافی سمجھے جاتے ہیں:
(الف) مالی عدم توازن اور صنفی نتائج
برطانیہ میں سرویز ظاہر کرتے ہیں کہ طلاق کے بعد خواتین کی گھریلو آمدن میں اکثر نمایاں کمی آتی ہے، جس کی وجوہات میں اثاثوں (خاص طور پر پنشن) کی غیر مساوی تقسیم، بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں، اور لیبر مارکیٹ کی رکاوٹیں شامل ہیں۔ یہ مالی تصفیوں میں نظامی عدم مساوات کی نشاندہی کرتا ہے۔ (فنانشل ٹائمز)
(ب) پیچیدہ اور متنازع مالی تصفیے
مالی تصفیوں سے متعلق متنازع عدالتی احکامات میں اضافہ، خاص طور پر معاشی دباؤ کے دور میں، ناانصافی کے تاثر کو بڑھاتا ہے اور عدالتوں پر توازن قائم رکھنے کا دباؤ ظاہر کرتا ہے۔ (دی ٹائمز)
(ج) طریقہ کار میں ممکنہ خلا
ناقدین کے مطابق خاندانی قانون کے بعض پہلو (مثلاً “کلین بریک” پر زور) طویل مدتی ضروریات یا صحت اور نگہداشت جیسی سیاقی شراکتوں کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ (دی ٹائمز)
(د) انصاف تک رسائی اور دولت کا تفاوت
زیادہ مالدار جوڑے نجی ثالثی (arbitration) کا سہارا لے کر طلاق کے عمل کو تیز اور نجی بنا لیتے ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کم وسائل رکھنے والے افراد کو سست، مہنگے سرکاری عدالتی عمل میں عدم مساوی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (فنانشل ٹائمز)
سماجی اور انفرادی اثرات
ازدواجی تحلیل کے اثرات محض قانونی نہیں ہوتے:
- معاشی مشکلات، خاص طور پر کم آمدن والے شریکِ حیات کے لیے۔
- بڑوں اور بچوں دونوں کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود پر دباؤ۔
- روزگار اور ریٹائرمنٹ کے تحفظ کے مسائل، خاص طور پر وہاں جہاں خاندان کی خاطر کیریئر قربان کیا گیا ہو۔
- یہ اثرات ظاہر کرتے ہیں کہ طلاق صرف ایک قانونی عمل نہیں بلکہ ایک زندگی بدل دینے والا مرحلہ ہے جو معیشت، صحت اور سماجی پالیسی سے جڑا ہوتا ہے۔
اصلاحی اقدامات: انصاف اور استحکام کی جانب
- ازدواجی ٹوٹ پھوٹ کی شرح اور غیر منصفانہ نتائج کے خدشات دونوں سے نمٹنے کے لیے ایک کثیرالجہتی حکمتِ عملی درکار ہے:
(الف) علیحدگی سے پہلے اور بعد میں معاونت کو مضبوط بنانا - جوڑوں کے لیے تعلیمی اور مشاورتی خدمات تاکہ ابلاغ اور تنازع حل کرنے کی مہارتیں بہتر ہوں۔
- شادی یا ساتھ رہنے سے قبل نوجوان بالغوں کے لیے لازمی تعلقاتی تعلیم۔
- علیحدگی کے بعد مالی مشاورت، ملازمت کی تربیت، اور ذہنی صحت کی خدمات تاکہ عبوری صدمات کم ہوں۔
(ب) قانونی نظام میں اصلاحات اور رہنمائی
- مالی تصفیوں، خصوصاً پنشن اور طویل مدتی نان و نفقہ کے معیارات پر نظرِ ثانی تاکہ انصاف یقینی بنایا جا سکے۔
- عدالتوں کے لیے واضح قانونی رہنمائی کہ نگہداشت یا کیریئر میں رکاوٹ جیسی شراکتوں کا جائزہ کیسے لیا جائے۔
- ثالثی اور مصالحت (mediation) کو فروغ دینا تاکہ تیز، کم تنازعی متبادل میسر آئیں اور عدالتی دباؤ کم ہو۔
(ج) پالیسی اور معاشی اقدامات
- فلاحی اور ٹیکس پالیسیاں جو طلاق کے بعد، خاص طور پر اکیلے والدین کے لیے، مالی عدم تحفظ کم کریں۔
- سستی بچوں کی دیکھ بھال اور روزگار کی معاونت تاکہ نگہداشت کرنے والے شریکِ حیات مکمل طور پر افرادی قوت میں شامل ہو سکیں۔
(د) ثقافتی اور سماجی رویوں میں تبدیلی
- شادی کے بارے میں حقیقت پسندانہ توقعات اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی حوصلہ افزائی۔
- ابتدائی مرحلے میں مدد لینے (مشاورت اور مالی منصوبہ بندی) کے حوالے سے بدنامی کم کرنا۔
نتیجہ
برطانیہ میں ازدواجی تحلیل قانونی اصلاحات، بدلتی سماجی اقدار، معاشی دباؤ اور آبادیاتی تبدیلیوں سے تشکیل پاتی ہے۔ اگرچہ نمایاں اعداد و شمار میں طلاق کی تعداد میں اتار چڑھاؤ دکھائی دیتا ہے، مگر طویل مدتی رجحانات استحکام اور علیحدگی کی نئی صورتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
طلاق کے نتائج میں ناانصافی پر تنقید وسائل کی منصفانہ تقسیم اور معاونت کے حقیقی چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے قانونی اصلاحات، نظامی معاونت، ثقافتی تعلیم اور معاشی پالیسی پر مشتمل بین الشعبہ جاتی کوششیں ضروری ہیں—تاکہ صحت مند تعلقات مضبوط ہوں اور شادی کے خاتمے کی صورت میں منصفانہ نتائج یقینی بنائے جا سکیں۔
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
ایکسکلوسِو2 مہینے agoنیشنل بینک کا ایک اورکارنامہ،5093 ملین روپے کی ڈیفالٹرکمپنی ماسٹرٹائیلز کو6074 ملین روپے کا مزید قرضہ جاری

