پاکستان
اہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) چئیر مین عوام دوست گروپ نورپور شاہاں تنویر حسین کا کہنا تھا کہ اہلیان نورپور شاہاں بری امام کے خلاف طاقت کا استعمال اور بے دخلی کا آپریشن عدالت عالیہ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہوگی، جس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار تنویر حسین عباسی چیئرمین عوام دوست گروپ نے اہل علاقہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان نورپور شاہاں قانون کے دائرے میں اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں مگر سی ڈی اے حکام کا رویہ آمرانہ ہے جو طاقت کے استعمال پر یقین رکھتا ہے۔
چیئرمین عوام دوست گروپ نے کہا کہ عدالت عالیہ نے نورپور شاہاں ماڈل ویلج کے قیام کے حوالے سے سی ڈی اے کے فیصلوں کی روشنی میں رٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 تنویر حسین بنام سی ڈی اے میں 26 جون 2025 کو متاثرین نورپور شاہاں کی آبادکاری کے لئے سی ڈی اے کی پالیسی کے مطابق بورڈ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے زون تھری میں ترمیم کر کے نورپور شاہاں ماڈل ویلج کے قیام کو یقینی اور محفوظ بنانے کا واضح حکم دیا ہے ۔
تنویر حسین نے کہا کہ عدالت نے سی ڈی اے کو حکم دیا ہے کہ نور پور شاہاں میں کسی بھی قسم کے آپریشن سے پہلے سی ڈی اے کے ممبر کے سطح کے افسر کی سربراہی میں نو رکنی کمیٹی جس میں مقامی نمائندگی بھی ہوگی قائم کی جائے گی۔ جس کی نگرانی میں متاثرین اور غیر متاثرین کے گھروں کی چھان بین کے بعد کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہونا تھا مگر سی ڈی اے حکام طاقت کے زور پر دو دن کے نوٹس پر لوگوں کے مکانات گرا رہے ہیں۔
تنویر عباسی نے کہا کہ چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود سی ڈی اے نے عدالت کی ماڈل ویلج کے حوالے سے دی گئی گائیڈ لائن پر عمل درآمد نہیں کیا ۔
انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کی مجرمانہ غفلت سے متاثرین نور پور شاہاں پچھلے 50 سالوں سے مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں راستے بند کر دئیے گئے ہیں۔ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی زمین پر وزیراعظم ہاؤس بنا ہے وہ 50 برسوں سے اپنی ہی آبادکاری کے حق لئے ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔
تنویر حسین عباسی نے صدر اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے کو نور پور شاہاں کے حوالے سے عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق ماڈل ویلج بنانے کے حکم کا پابند کیا جائے۔ جن سے مارشل لاء کے کالے قانون کے تحت گردن پر پاؤں رکھ کا اپنی مرضی کے ریٹ لگا کر 17 ہزار سے کنال اراضی لی گئی۔ مگر متاثرین کو ماڈل ویلج کی صورت میں آباد نہیں کیا گیا۔
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
-
ایکسکلوسِو2 مہینے agoنیشنل بینک کا ایک اورکارنامہ،5093 ملین روپے کی ڈیفالٹرکمپنی ماسٹرٹائیلز کو6074 ملین روپے کا مزید قرضہ جاری

