پاکستان
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی میں کروڑوں کا گھپلا، وزیر اعلیٰ انسپیکشن ٹیم کاروائی کرنے میں ناکام
راولپنڈی (صدائے سچ خصوصی رپورٹ) ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی میں کروڑوں روپے کے مبینہ مالی غبن کا معاملہ بدستور تعطل کا شکار۔
وزیراعلی انسپیکشن ٹیم کی جانب سے بار بار دیے گئے احکامات بھی ردی کی ٹوکری کی نذر ہو رہے ہیں جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ محکمہ صحت کے بعض افسران وزیراعلیٰ کے اصلاحاتی وژن کے برعکس کام کر رہے ہیں۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق لوکل پرچیز کے نام پر ادویات، طبی آلات، جنرل اسٹور آئٹمز، اسٹیشنری، پرنٹنگ اور دیگر سروسز کی خریداری میں مالی سال 2019-20 سے 2023 تک مجموعی طور پر 16 کروڑ 18 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
آڈٹ اعتراضات سامنے آنے کے بعد 26 دسمبر 2022 کو پہلی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی، جس نے 27 فروری 2023 کو اپنی رپورٹ میں سرکاری خزانے کو 6 کروڑ 62 لاکھ روپے سے زائد کے براہِ راست نقصان کی تصدیق کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی اور رقم کی فوری ریکوری کی سفارش کی۔
Inquiryانکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ راولپنڈی کے 100 بنیادی مراکز صحت، 13 میونسپل میڈیکل سینٹرز، 15 گورنمنٹ رورل ہیلتھ ڈسپنسریز اور 6 زچہ بچہ مراکز میں بغیر طلب مہنگے نرخوں پر ادویات کی خریداری ظاہر کی گئی، جبکہ متعدد مقامات پر ادویات اور طبی سامان کی فراہمی صرف کاغذات تک محدود رہی۔
رپورٹ کے مطابق ٹینڈر کے ذریعے پبلک خریداری کے بجائے خریداری کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اوپن مارکیٹ سے مہنگی کوٹیشنز پر ادویات اور آلات خریدے گئے، جو پیپرا رولز 8 اور 22 کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ اس کے علاوہ مارکیٹ ریٹس سے زائد اسٹیشنری، پرنٹنگ اور ٹرانسپورٹیشن چارجز کی ادائیگی بھی کی گئی، جبکہ 89 لاکھ روپے سے زائد کی ایسی ٹرانزیکشنز سامنے آئیں جن کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنی واضح انکوائری رپورٹ اور سفارشات کے باوجود نہ تو ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی ریکوری کی جا سکی۔ پہلی انکوائری کے بعد 14 اپریل 2023 کو دوسری کمیٹی قائم کی گئی، جسے 8 مئی تک رپورٹ دینا تھی، تاہم رپورٹ پیش ہونے سے قبل ہی اس کمیٹی کو تحلیل کر دیا گیا۔
بعد ازاں تیسری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، لیکن مقررہ مدت گزرنے کے باوجود اس کی رپورٹ بھی سامنے نہیں آ سکی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے محکمہ صحت کو متعدد بار رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کیے، تاہم ان ہدایات پر بھی تاحال کوئی مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ باخبر حلقوں کے مطابق یہ طرزِ عمل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس واضح مؤقف کے منافی ہے جس کے تحت وہ چاہتی ہیں کہ سرکاری ادارے شفاف، جوابدہ اور عوامی خدمت کے حقیقی مراکز بنیں۔
دوسری جانب سابق سی ای او ہیلتھ راولپنڈی ڈاکٹر انصر اسحاق کا کہنا ہے کہ بطور پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر انہوں نے آڈٹ اعتراضات سامنے آنے پر بروقت اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا اور شفاف تحقیقات کے لیے تحریری مراسلے ارسال کیے، تاہم انکوائری رپورٹس کو فائلوں میں دبانا اور بار بار کمیٹیاں بدلنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملے کو دانستہ طور پر طول دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اور عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ کی واضح ہدایات، وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم کے احکامات اور ثابت شدہ مالی بے ضابطگیوں کے باوجود بھی کوئی عملی کارروائی نہیں ہو پاتی تو ایسے افسران کے خلاف کب اور کیسے کارروائی کی جائے گی جو وزیراعلیٰ کے اصلاحاتی وژن کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق بروقت ریکوری اور قانونی کارروائی نہ ہونا نہ صرف سرکاری وسائل کے ضیاع بلکہ نظامِ احتساب کی ساکھ کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

