تازہ ترین
مشرق کا افق اور ظہورِ سحر
( روایات اور عالمی تناظر کا ایک تجزیہ)
تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ
تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت ہمیشہ ایک ایسے ‘کامل دور’ کی منتظر رہی ہے جہاں عدل و انصاف کا دور دورہ ہو۔ یہ محض ایک جذباتی تمنا نہیں بلکہ ایک آفاقی قانون ہے۔ جس طرح کائنات کا ہر ذرہ ایک توازن کے تحت حرکت کر رہا ہے، اسی طرح انسانی معاشرت بھی اپنے فطری توازن کی متلاشی ہے۔
ادیانِ عالم، بالخصوص اسلام میں اس امید کو ‘ظہورِ مہدیؑ’ اور ‘قیامت کے قریب پیش آنے والے واقعات’ کے ذریعے ایک مضبوط بیانیہ عطا کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں مشرقِ وسطیٰ کی بے چینی اور ایران و گردونواح کے بدلتے حالات نے ان قدیم پیشگوئیوں کو دوبارہ بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ آج کا سیاسی جغرافیہ وہی ہے جس کی نشان دہی صدیوں پہلے کی روایات میں کر دی گئی تھی۔
احادیث اور اسلامی روایات میں جس جغرافیائی خطے کا سب سے زیادہ ذکر ملتا ہے، وہ ‘مشرق’ اور بالخصوص ‘خراسان’ ہے۔ عقل انسانی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ جغرافیہ ہی سیاست اور تاریخ کا رخ متعین کرتا ہے۔ روایات میں مشرق سے ایک ایسی قوم یا لشکر کے اٹھنے کا تذکرہ ہے جو عالمی نظامِ ستم کے سامنے حق کا مطالبہ کرے گا۔ یہ تذکرہ محض کسی جنگی مہم کا نہیں بلکہ ایک ایسی فکری بیداری کا ہے جس کا مرکز ایران اور اس کے ملحقہ علاقے ہوں گے۔
قدیم خراسان، جو آج کے ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا پر محیط تھا، ہمیشہ سے انقلابات کی سرزمین رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مرکزِ خلافت یا عالمی طاقتوں میں بگاڑ پیدا ہوا، اصلاحی تحریکیں مشرق ہی سے اٹھیں۔ روایات میں "کالے جھنڈوں” کا تذکرہ دراصل ایک ایسی منظم طاقت کی علامت ہے جو مصلحتوں سے پاک اور اصولوں پر مبنی ہوگی۔
اہلِ تشیع اور اہل سنت کی کتب میں ‘سفیانی’، ‘یمانی’ اور ‘دجالی فتنوں’ کا ذکر ملتا ہے۔ اگر ان علامات کو موجودہ عالمی سیاست کے آئینے میں دیکھا جائے تو ایک عجیب و غریب مشابہت نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میں ایک امریکہ مخالف جوان ہوں
سفیانی فتنہ: شام کی موجودہ صورتحال اور وہاں پیدا ہونے والے شدت پسند گروہ، جن کی جڑیں ملوکیت اور جمود میں ہیں، سفیانی کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔ شام کا خطہ ہمیشہ سے حق و باطل کے معرکے کا مرکز رہا ہے اور آج بھی عالمی طاقتیں وہاں دست و گریبان ہیں۔
یمانی کردار: یمن کی بیداری اور وہاں کے عوام کی غیر معمولی استقامت کو بہت سے دانشور ‘یمانی’ اشارے سے تعبیر کرتے ہیں۔ یمن کا جغرافیائی محل وقوع اور باب المندب کی اہمیت اسے عالمی معیشت اور سیاست کا کلید بناتی ہے۔
دجالی نظام: استعمار کی فکری، معاشی اور ثقافتی جکڑبندیاں دراصل وہ ‘دجالی نظام’ ہے جس نے انسانیت کو مادی لذتوں کا قیدی بنا دیا ہے۔ یہ نظام حق کو باطل اور باطل کو حق دکھانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
عقل کہتی ہے کہ جب ظلم اپنی انتہا کو چھوتا ہے، تو قدرت کا ایک خودکار نظام حرکت میں آتا ہے جو کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
شیعہ روایات میں ‘قم’ کو علم کا مرکز اور ایران کے خطے کو امام مہدیؑ کے انصار کا گڑھ قرار دیا گیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، علم کوفہ سے رخصت ہو کر قم میں ڈیرے ڈالے گا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ فکری و نظریاتی محاذ پر ایران ایک ایسی مزاحمت کی علامت بن کر ابھرا ہے جس کی نظیر عصرِ حاضر میں نہیں ملتی۔
دوسری طرف، اصفہان کے حوالے سے موجود روایات (اصفہان کے ستر ہزار یہودی جو دجال کی پیروی کریں گے) اس خطے کی غیر معمولی پیچیدگی کو واضح کرتی ہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں حق اور باطل کے درمیان آخری معرکے کی لکیریں کھینچی جانی ہیں۔ آج کے سیاسی نقشے پر جب ہم ایران کو عالمی استعماری طاقتوں کے سامنے سینہ سپر دیکھتے ہیں، تو ذہن خود بخود ان روایات کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جن میں اہل مشرق کی استقامت کا تذکرہ ہے۔
اگر ہم روایات سے قطع نظر بھی سوچیں، تو انسانی فطرت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ موجودہ مادی تہذیب، خاندانی نظام کی تباہی اور جنگوں کی ہوس زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ موجودہ عالمی نظام (Global Order) معاشی تفاوت اور طاقتور کی برتری پر مبنی ہے۔ ایک ایسی روحانی اور عدل پر مبنی طاقت کا ظہور ناگزیر ہے جو انسانیت کو اس خود ساختہ تباہی سے بچائے۔ روایات ہمیں صرف یہ بتاتی ہیں کہ اس تبدیلی کا نقطہ آغاز کہاں سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:سوڈان کا ماتم: مسلم آبادی پر تباہی، بیرونی مفادات اور مستقبل کا ممکنہ منظرنامہ
یہ محض مذہبی جذباتیت نہیں، بلکہ ایک ایسی سماجی ضرورت ہے جس کی گواہی تاریخ کے بڑے بڑے فلسفیوں نے بھی دی ہے۔ ‘سوشل کنٹریکٹ’ سے لے کر ‘اختتامِ تاریخ’ (End of History) کے نظریات تک، سب کہیں نہ کہیں ایک آخری منصف (Final Arbitrator) کے محتاج نظر آتے ہیں۔
روایات کو کسی مخصوص سال، مہینے یا شخصیت پر حتمی طور پر فٹ کر دینا ‘توقیت’ (وقت کا تعین) کے زمرے میں آتا ہے جس سے آئمہ معصومینؑ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیشگوئیاں ‘بداء’ (تبدیلی) کے قانون کے تابع ہو سکتی ہیں اور وقت کا تعین انسانی عمل کو جمود کا شکار کر سکتا ہے۔
تاہم، ان پیشگوئیوں کا اصل مقصد مومنین کو مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر امید کی شمع روشن رکھنا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ شعلے، جن میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے، شاید اس بڑی آگ کا حصہ ہوں جو بالآخر باطل کے خس و خاشاک کو جلا کر راکھ کر دے گی اور اس کی راکھ سے عدلِ الہیٰ کا سورج طلوع ہوگا۔
ہمیں ان روایات کو خوف یا محض تجسس کے بجائے شعور اور تیاری کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ایک ایڈووکیٹ کے طور پر، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ‘قانونِ الہیٰ’ کا نفاذ تبھی ممکن ہے جب انسانی معاشرہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو۔ تاریخ کا سفر ہمیشہ سچائی کی فتح پر ہی ختم ہوتا ہے۔
آج کا انسان اگرچہ ٹیکنالوجی کی معراج پر ہے، مگر سکونِ قلب اور عدلِ اجتماعی سے محروم ہے۔ ظہورِ سحر کی یہ علامات ہمیں پکار رہی ہیں کہ ہم اپنے کردار کو پہچانیں اور اس آنے والے عظیم انقلاب کا حصہ بننے کے لیے خود کو فکری و اخلاقی طور پر تیار کریں۔
-
پاکستان2 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان4 ہفتے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو5 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو2 مہینے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان2 ہفتے agoزیارات کے نام پر فراڈ، زائرین بے یار و مددگار، قافلہ سالار کیخلاف قانونی کاروائی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل

