Connect with us

تازہ ترین

سوڈان کا ماتم: مسلم آبادی پر تباہی، بیرونی مفادات اور مستقبل کا ممکنہ منظرنامہ

Syed Abbas Haider Shah Advocate

تحریر : سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ

سوڈان اس وقت ایک ایسے انسانی المیے سے گزر رہا ہے جو ہمارے جدید دور کی سب سے تکلیف دہ حقیقتوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ بحران ہے جس نے لاکھوں زندگیاں تباہ کیں، سماجی ڈھانچے کو توڑا، شہروں کو کھنڈرات میں بدل دیا اور ایک پوری نسل کو بے وطنی، بیماری اور بے یقینی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔

اپریل 2023 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے ملک کا نقشہ ہر روز بدل رہا ہے۔ ایک طرف فوج (Sudanese Armed Forces) اور دوسری طرف ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) طاقت کی جنگ لڑ رہی ہیں، جبکہ درمیان میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہو رہا ہے۔

خرطوم، ال فاشر، نیالا، ال اوبیڈ اور دارفور کے وسیع علاقے وہ مقام بن چکے ہیں جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ بہت مختصر رہ گیا ہے۔

اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی ادارے اس صورت حال کو عالمی سطح پر "انتہائی سنگین انسانی بحران” قرار دے چکے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اب تک کم از کم چالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متاثرین اور بے گھر افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ چالیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وینیزویلا: تیل، معدنیات اور امن کے انعام کے پیچھے عالمی مفادات

ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے گھروں کے اندر بے گھر ہو چکے ہیں اور وہ بھی جو پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ بہت سی ہلاکتیں ایسی بھی ہیں جن کا اندراج ممکن نہیں ہوا کیونکہ جنگ زدہ علاقوں میں رسائی تقریباً ناممکن ہے۔

شمالی دارفور اور ال فاشر کی صورت حال اس بحران کی شدت کو واضح کرتی ہے۔ زامزام اور ابو شُوک جیسے کیمپوں پر حملوں کے دوران سینکڑوں شہری مارے گئے، اور بعض علاقوں میں اجتماعی قبروں کی موجودگی رپورٹ کی گئی ہے۔

ال اوبیڈ میں ایک جنازے پر فائرنگ میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ اب کسی ہدف یا محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ عام شہری زندگی کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عبادت گاہیں، بازار، اسکول اور اسپتال اب محفوظ جگہیں نہیں رہیں۔

یہ بحران صرف گولی اور بارود کی تباہی تک محدود نہیں۔ ملک میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کا نظام شدید طور پر متاثر ہوا ہے۔ بہت سے اضلاع میں بچے غذائی قلت اور پانی کی آلودگی کے نتیجے میں ایسی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جن کا علاج مقامی سطح پر ممکن نہیں۔

اسپتال یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا وہاں عملہ اور ادویات موجود نہیں۔ عالمی امدادی اداروں کے مطابق کچھ علاقوں میں قحط جیسی صورت حال جنم لے رہی ہے، اور بچوں کی اموات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

اس خانہ جنگی کی وجوہات کو محض ایک وقتی سیاسی تنازع یا فوجی بغاوت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے دو بڑے عناصر ہیں: مقامی سیاسی و قبائلی کشمکش، اور علاقائی و عالمی طاقتوں کی مداخلت۔

یہ بھی پڑھیں:ظلم کے سمندر پر بہتا ہوا قانون (صمود فلوٹیلا)

ایک طرف سودان کی ریاستی ساخت دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ فوجی حکمرانی اور سول حکومت کے درمیان کشمکش نے ادارہ جاتی نظام کو کمزور کیا۔ سیاسی جماعتیں کمزور رہیں، عدالتی نظام مستقل دباؤ میں رہا، اور معاشی بدحالی نے عوام میں بے چینی کو بڑھایا۔

اس صورت حال میں عسکری دھڑے طاقت کے حصول کے لیے براہ راست میدان میں آ گئے۔ RSF کی بنیاد بھی دراصل دارفور کے تنازع کے دوران ایک ملیشیا کے طور پر پڑی جو بعد میں باقاعدہ مسلح قوت میں تبدیل ہوئی۔ جب ریاست اور حکومت طاقت کا منصفانہ نظام نہ قائم کر سکیں تو اس خلا کو ہتھیاروں اور ملیشیوں نے پُر کیا۔

دوسری طرف، بیرونی مفادات اس جنگ کو مزید شدید بناتے ہیں۔ خلیجی ممالک، روس، مصر اور مغرب کے مختلف مفادات سودان کی سیاسی اور عسکری پوزیشن پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

متعدد رپورٹس کے مطابق UAE پر RSF کی مالی اور لاجسٹک مدد کا الزام ہے، جس کے پیچھے لالچ دریائے احمر کی ساحلی رسائی، علاقائی اثر و رسوخ اور سونے کے ذخائر تک پہنچ سے جڑا ہوا ہے۔

روس خصوصاً ویگنر گروپ کے ذریعے سونے کی کانوں تک رسائی، فوجی معاہدوں اور علاقائی سیاسی قوت حاصل کرنے کی کوشش میں رہا ہے۔ ویگنر اور مقامی عسکری گروہوں کے درمیان اسلحے کے بدلے قدرتی وسائل کے سودے کی خبریں کئی بار سامنے آ چکی ہیں۔

مصر اپنے طور پر نیل کے پانی اور سرحدی سلامتی کو اولین ترجیح دیتا ہے، اس لیے وہ عموماً سودانی فوج کی حمایت کے قریب نظر آتا ہے۔

مغربی ممالک بظاہر امن کی کوششوں کا اظہار کرتے ہیں، مگر ان کی سفارتی حکمت عملی میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ پابندیاں، تاخیری اقدامات اور بعض اوقات غیر واضح مداخلت نے حالات میں بہتری نہیں لائی۔

یوں یہ جنگ اب ایک مکمل پراکسی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق فریقین کی مدد کرتی ہیں۔ نقصان صرف عوام کا ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سیز فائر یا سودا حریت؟ فلسطین اور دو ریاستی فریب

زمینی حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ خاص طور پر RSF پر قتل عام، لوٹ مار، نسلی حملوں اور جبری نقل مکانی کے الزامات واضح ہیں۔ لیکن صرف مقامی گروہوں پر ذمہ داری ڈال کر بات ختم نہیں ہو جاتی۔

وہ طاقتیں بھی جوابدہ ہیں جو اس جنگ کو مالی اور عسکری سہارا دے کر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کی سست روی اور غیر مربوط پالیسیوں نے بھی بحران کو کم کرنے کے بجائے بڑھایا ہے۔

اگر دنیا نے اب بھی ٹھوس اور مشترکہ اقدام نہ کیا تو آنے والے مہینوں اور سالوں میں حالات اور بگڑ سکتے ہیں:

  • قحط اور وبائی امراض میں اضافہ ہو سکتا ہے
  • پڑوسی ممالک میں پناہ گزینوں کی تعداد بڑھ کر علاقائی عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے
  • مسلح گروہ مستقل طاقت بن کر سامنے آ سکتے ہیں
  • انتہا پسند تنظیمیں بحران کے خلا سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں

اس صورت حال میں چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:

سب سے پہلے انسانی امداد کی محفوظ راہداری یقینی بنانی ہوگی تاکہ خوراک، ادویات اور پناہ گاہیں ان لوگوں تک پہنچ سکیں جن کے پاس بچنے کا کوئی اور راستہ نہیں۔

دوسری بات، فریقین کو بیرونی ہتھیار اور مالی مدد کی فراہمی پر سخت بین الاقوامی پابندیاں ضروری ہیں۔ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اسے ایندھن ملتا رہے گا۔

تیسری بات، مذاکرات کی بحالی اور سیاسی حل کی تشکیل میں غیر جانب دار ثالثوں کا کردار اہم ہو گا۔ صرف بین الاقوامی طاقتیں اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتیں، اس میں علاقائی مسلم اور غیر مسلم ریاستوں کی مشترکہ کوشش شامل ہونا چاہیے تاکہ سودان کے عوام کے حقیقی نمائندوں کو قرارداد سازی کا حصہ بنایا جائے۔

اور آخر میں، جنگی جرائم کی شفاف تحقیقات اور جوابدہی کے بغیر کوئی مستقل امن ممکن نہیں۔ انصاف کے بغیر مصالحت صرف وقتی وقفہ ثابت ہوتی ہے۔

سودان کا المیہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگیں ہمیشہ سرحدوں، حکومتوں یا افواج کے درمیان نہیں ہوتیں۔ اصل جنگ انسان کے گھر، رشتوں، روزمرہ زندگی اور امید کے خلاف ہوتی ہے۔

وہ بچے، بوڑھے اور عورتیں جو آج پناہ گاہوں اور خیموں میں زندگیاں گزار رہے ہیں، ان کا مستقبل صرف اسی صورت محفوظ ہو سکتا ہے جب دنیا اس درد کو سننے اور سمجھنے کے ساتھ ساتھ عملی اور مستقل اقدامات کرے۔

سودان کا سوال محض سیاسی نہیں، انسانی ہے۔ اور انسانی سوال ہمیشہ فوری جواب مانگتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

abbas-araghchi abbas-araghchi
تازہ ترین2 گھنٹے ago

انسانی حقوق کے معاملے پر ہمیں لیکچر دینے والے خود کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رکھتے، ایران کی یورپی یونین پر تنقید

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے حوالے سے یورپی یونین کے بیانات کو مسترد...

makkah-defense-pact makkah-defense-pact
تازہ ترین2 گھنٹے ago

مصر مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کرنے لگا

قاہرہ (صداۓ سچ نیوز) مصر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے...

NADRA NADRA
پاکستان2 گھنٹے ago

نادرا نے کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرادیا

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان میں تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی...

president-zardari-meets-prime-minister- president-zardari-meets-prime-minister-
پاکستان2 گھنٹے ago

صدر زرداری سے وزیراعظم کی ملاقات، مکہ دفاعی معاہدے، قومی سلامتی اوردہشتگردی کے خاتمے پراہم مشاورت

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) صدر آصف علی زرداری اور  وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی جس دوران اہم...

Mir-Raza-Case Mir-Raza-Case
پاکستان2 گھنٹے ago

میر رضا کیس، لاش اٹھانے والے ریسکیو اہلکاروں کے اہم انکشافات

کراچی (صداۓ سچ نیوز) کراچی میں میر رضا کیس میں لاش اٹھانے والے ریسکیو اہلکاروں نے جائے وقوعہ اور لاش...

petrol-and-diesel petrol-and-diesel
پاکستان2 گھنٹے ago

ای سی سی نے پیٹرول اورڈیزل پر ڈیلرز مارجن 1 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دیدی

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرول اورڈیزل پر ڈیلرز مارجن 1 روپے 34...

gold-rate gold-rate
پاکستان2 گھنٹے ago

خریداروں کےلیے خوشخبری، مارکیٹ میں سونا سستا ہوگیا

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی اور یہ ہفتہ وار خسارے کی جانب گامزن رہیں...

Flag Flag
پاکستان3 گھنٹے ago

پاکستان کا 79 واں یومِ آزادی، پاک فوج کی جانب سے ملک بھر میں پرچم کشائی کی شاندار تقریبات

پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر جنرل ہیڈکوارٹرز اور مسلح افواج کے تمام ہیڈکوارٹرز میں پرچم کشائی...

missiles missiles
تازہ ترین3 گھنٹے ago

ایران کی جوہری صلاحیت برقرار ہے، امریکا میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہا، احمد خاتمی

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی  مجلس خبرگان رہبری کے رکن احمد خاتمی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی میزائل...

ibrahim razaei ibrahim razaei
تازہ ترین3 گھنٹے ago

غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کے نتیجے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کافیصلہ کن جواب دیا جائیگا، ایران کا خطے کے ممالک کو پیغام

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعے کے روز...

Trending