تازہ ترین
میں ایک امریکہ مخالف جوان ہوں
تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ
میں ایک جوان ہوں، اور جوانی کا پہلا تقاضا حق گوئی اور بے باکی ہے۔ مانا کہ آج کی دنیا کا رخ امریکہ کی طرف ہے؛ مانا کہ وہاں علم کے دریا بہتے ہیں، وہاں کی جامعات عقل کو جلا بخشتی ہیں، وہاں کی لیبارٹریوں میں زندگی کی نئی تصویریں بنتی ہیں اور وہاں کے روزگار کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ ناسا کے ستارے ہوں، خلاؤں کی تسخیر ہو، یا انسانی کلوننگ جیسے حیرت انگیز تجربات یہ سب انسانی ذہن کی معراج سہی، ہالی ووڈ کا جادو اور میڈیا کی سحر انگیزی اپنی جگہ سہی۔۔۔
لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا انسانی روح کی پیاس محض ان مادی کھلونوں سے بجھ سکتی ہے؟ میرا قلبِ سلیم، میرا ضمیر، اس چکا چوند کو دیکھ کر مرعوب ہونے کے بجائے مجھ سے چند سلگتے ہوئے سوالات پوچھتا ہے۔ جب میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے ان بے گناہ انسانوں کا تصور کرتا ہوں جن کی ہڈیاں امریکی ایٹم بم کی تپش میں پگھل گئیں، تو میرا لہو کھول اٹھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان کا ماتم: مسلم آبادی پر تباہی، بیرونی مفادات اور مستقبل کا ممکنہ منظرنامہ
کیسا انصاف تھا کہ ظلم کرنے والا خود منصف بن بیٹھا اور جاپان کے ہی حکمرانوں کو مجرم قرار دے کر سزا سنادی؟ کوریا کی زمین سے لے کر عراق و افغانستان کی خاک تک، جہاں جہاں امریکی بوٹوں کی چاپ سنائی دی، وہاں وہاں صرف جبر کی داستانیں رقم ہوئیں۔
آج جب دنیا انسانی حقوق کا راگ الاپتی ہے، تو میرا رخ فلسطین کی جانب مڑ جاتا ہے۔ پچھتر سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا، صیہونی ریاست کی بربریت تھمنے کا نام نہیں لیتی۔ وہ معصوم بچے جو کڑاکے کی سردی میں چھت کے بغیر سسک رہے ہیں، ان کی آہوں کا ذمہ دار کون ہے؟ امریکہ کا وہ "ویٹو” جو ہر بار مظلوم کی گردن پر صیہونی چھری کو مزید تیز کر دیتا ہے، کیا یہی اس کی ترقی کا ثمر ہے؟
میرا دل تڑپ اٹھتا ہے جب میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغواء کی داستان پڑھتا ہوں۔ کس قانون کے تحت ایک خود مختار ریاست کے سربراہ کے بیڈروم میں شب خون مارا گیا؟ وہ سوتا ہوا جوڑا جس کی نیندیں ہتھکڑیوں کی آواز سے ٹوٹی ہوں گی، ان کا قصور کیا تھا؟ کیا صرف یہ کہ انہوں نے امریکی غلامی سے انکار کیا؟
لوگ کہتے ہیں امریکہ طاقتور ہے، اس کے پاس ٹیکنالوجی ہے، اس کے پاس پیسہ ہے۔ میں کہتا ہوں، میرے ضمیر کے نزدیک یہ سب "بے وقعت” اور "بے توقیر” ہے۔ جس تہذیب کی بنیادیں مظلوموں کے خون پر ہوں، جس کا راستہ لاشوں سے ہو کر گزرتا ہو، میں اس کی چمک سے مرعوب نہیں ہو سکتا۔
میں ایک جوان ہوں، اور جوانمردی کا شیوہ ہی یہ ہے کہ وہ وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر "حق” کہے۔ میں ظالم کا ہاتھ روکنے اور مظلوم کی ڈھال بننے کا عہد کر چکا ہوں۔ میرا مطالبہ محض زمین کا ٹکڑا یا چند مراعات نہیں، میرا مطالبہ عدلِ الٰہی ہے۔ جب تک صیہونی ریاست اور اس کی پسِ پردہ کارفرما خفیہ قوتیں انسانیت کا گلا گھونٹتی رہیں گی، تب تک ہر زندہ ضمیر جوان ان کا مخالف رہے گا، کیونکہ بیدار جوانوں کا ضمیر بکاؤ نہیں ہے!
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

