پاکستان
اخلاقیات کا فقدان کیوں؟
تحریر: وجیہہ کاظمی
پاکستان کا قیام ایک ایسے تصور کے تحت عمل میں آیا تھا جہاں ہر انسان کو دین، اخلاق، انصاف، مساوات اور انسانی وقار کو بنیادی اہمیت حاصل ھو۔ آئین پاکستان میں بھی اسلامی اقدار کو نمایاں مقام دیا گیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مساجد آباد ہیں، دینی اجتماعات ہوتے ہیں، مذہبی شعائر اللہ کا اہتمام بہت باکمال انداز میں کیا جاتا ہے اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست ہونے پر فخر کیا جاتا ہے، وہاں ہماری اجتماعی زندگی میں اخلاقیات کیوں کمزور ہوتی جا رہی ہیں؟ یہ سوال محض مذہبی نہیں، بلکہ سماجی، سیاسی، تعلیمی اور قومی نوعیت کا سوال ہے۔
اخلاقیات صرف یہ نہیں کہ انسان نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے یا مذہبی لباس اختیار کرتا ہے۔ اخلاقیات کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب انسان کو اختیار ھوتے ھوے وہ جب کسی کمزور سے معاملہ کرنا ہو، جب اسے مالی فائدہ حاصل کرنے کا موقع ملے، جب اسے اپنے مخالف کے ساتھ انصاف کرنا ہو اور جب کوئی اسے دیکھ نہ رہا ہو۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مذہبی شناخت اور اخلاقی کردار کے درمیان ایک واضح فاصلہ پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں بدکردار۔بدمعاش۔نوسرباز اور قبضہ مافیا کو عزت دار شہری تسلیم کیا جا چکا ہے۔کسی بھی معاشرے کے اخلاقی مزاج کی تشکیل گھر سے شروع ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ اپنے والدین کو کرتے دیکھتا ہے، وہ اکثر وہی سیکھتا ہے۔
اگر گھر میں جھوٹ کو معمولی بات سمجھا جائے، سفارش کو ذہانت، ناجائز فائدے کو کامیابی اور دوسروں کے حق پر قبضہ کرنا معمولی بات سمجھا جائے تو وہاں نصابی تعلیم ۔بچوں کے کردار کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ہم بچوں سے سچ بولنے، بڑوں کا احترام کرنے اور دوسروں کے معملات میں آسانیاں بانٹنے کے تلقین تو کرتے ہیں، لیکن کیا ہم خود ان اصولوں پر عمل کرتے ہیں؟یہ سوال ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا۔ہم نے تعلیم کے میدان میں ڈگریوں، نمبروں اور اداروں کو کامیابی کا پیمانہ بنا لیا ہے، لیکن کردار سازی کو ثانوی حیثیت دے دی ہے۔
ایک نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتا ہے، کئی زبانیں بول سکتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہو سکتا ہے، مگر اگر اسے دیانت، برداشت، ذمہ داری، اختلافِ رائے کا احترام اور انسانی حقوق کا شعور نہیں دیا گیا تو اس کی تعلیم معاشرے کو حقیقی معنوں میں بہتر نہیں بنا سکتی۔
تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں، بلکہ بہتر انسان بننا بھی ہے۔قانون کی کمزوری اور اخلاقی زوالکسی بھی معاشرے میں قانون اور اخلاق ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ جب قانون پر عمل کمزور ہو تو معاشرے میں یہ تصور جنم لیتا ہے کہ طاقتور شخص اپنے لیے راستہ نکال سکتا ہے۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے لے کر سرکاری معاملات میں بے ضابطگی، کاروباری دھوکے، ملاوٹ، ناجائز تجاوزات اور دوسروں کے حقوق کی پامالی تک، بہت سے معاملات میں مسئلہ صرف قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ قانون کی پاسداری کے کلچر کا کمزور ہونا ہے۔جب شہری یہ دیکھتا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں نہیں تو اس کے اندر قانون کا احترام بھی کم ہونے لگتا ہے۔سیاست کسی بھی معاشرے کے اجتماعی مزاج کی عکاس بھی ہوتی ہے اور اسے متاثر بھی کرتی ہے۔ جب سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو جائے، مخالف رائے رکھنے والے کو برداشت نہ کیا جائے اور دلیل کی جگہ الزام، گالم گلوچ اور کردار کشی لے لے تو اس کے اثرات معاشرے کے عام رویوں پر بھی پڑتے ہیں۔
اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلافِ رائے کے ساتھ احترامِ رائے بھی ضروری ہے۔ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی شخص سے اختلاف کرنا اور کسی شخص کی تذلیل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔سوشل میڈیا نے مسئلہ بڑھایا یا بے نقاب کیا؟سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، مگر اسی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا امتحان بھی بڑھ گیا ہے۔کسی خبر کی تصدیق کیے بغیر اسے آگے بڑھا دینا، کسی کی نجی زندگی کو موضوعِ بحث بنانا، اختلاف پر گالی دینا، جھوٹی معلومات پھیلانا اور کسی کی عزت کو چند لمحوں میں مجروح کر دینا اب عام ہوتا جا رہا ہے۔اصل مسئلہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے انسان کا اخلاقی شعور ہے۔
اگر کردار مضبوط ہو تو سوشل میڈیا علم اور شعور کا ذریعہ بنتا ہے، اور اگر کردار کمزور ہو تو یہی پلیٹ فارم نفرت اور انتشار پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات میں اخلاق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سچائی، امانت، عدل، صبر،حسنِ سلوک، پڑوسی کے حقوق، والدین کا احترام، یتیم اور کمزور کے ساتھ شفقت اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اسلامی اخلاقیات کے بنیادی تعلیمات ہیں۔لیکن ہماری اجتماعی زندگی میں بعض اوقات مذہب کا اظہار زیادہ اور مذہبی اخلاقیات کا عملی مظاہرہ کم دکھائی دیتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں؛ حقوق العباد بھی دین کا اہم حصہ ہیں۔اخلاقی بحران کسی ایک ادارے یا طبقے کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے کئی عوامل بیک وقت کام کرتے ہیں: گھریلو تربیت کی کمزوری، تعلیمی نظام میں کردار سازی کی کمی، قانون کی غیر مؤثر عمل داری، معاشی دباؤ، عدم برداشت، طبقاتی فرق، اداروں پر کمزور اعتماد اور سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ رویے۔
اس لیے اس مسئلے کا حل بھی کسی ایک ادارے یا حکومت سے ممکن نہیں۔ریاست کو قانون کی بالادستی یقینی بنانا ہوگی، تعلیمی اداروں کو کردار سازی پر توجہ دینا ہوگی، مذہبی اداروں کو اخلاقی تعلیمات کو عملی زندگی سے جوڑنا ہوگا، میڈیا کو ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا ہوگا اور والدین کو اپنے عمل کے ذریعے نئی نسل کی تربیت کرنا ہوگی۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے۔ لیکن اصل معاشرہ ہم ہی ہیں۔
تبدیلی کا آغاز اس سوال سے ہونا چاہیے:کیا میں خود وہ اخلاقی اصول اختیار کرتا ہوں جن کی پابندی دوسروں سے چاہتا ہوں؟اگر ہم قطار میں اپنی باری کا احترام کریں، راستے میں دوسرے کا حق نہ ماریں، ملاوٹ سے بچیں، جھوٹ سے گریز کریں، امانت میں خیانت نہ کریں، اختلاف رکھنے والے کی عزت کریں، کمزور کا حق نہ دبائیں اور اپنے اختیارات کو ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کریں تو یہی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک بڑے معاشرتی انقلاب کی بنیاد بن سکتی ہیں۔پاکستان کو صرف معاشی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور بلند عمارتوں کی ضرورت نہیں۔
ہمیں ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں انسان کی عزت ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو، سچ بولنا نقصان کا سودا نہ سمجھا جائے اور دیانت داری کمزوری نہیں بلکہ عزت کی علامت سمجھا جائے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اصل طاقت صرف اس کی سرحدیں، وسائل یا آبادی نہیں بلکہ اس کی اصل طاقت اس کے شہریوں کا کردار ہے۔قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتیں بلکہ قومیں اپنے کردار سے عظیم بنتی ہیں۔اور شاید آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت اسی کردار کی تعمیرِ نو کی ہے۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان7 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان12 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو12 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان8 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

