اوورسیز پاکستانیز
جیکب آباد ریلوے اسٹیشن کا نابینا قلی
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز ، برطانیہ
یہ کہانی ہے اکبر خان جمالی کی—
ایک محنت کش انسان کی، جو پچھلے پچیس برسوں سے جیکب آباد کے ریلوے اسٹیشن کو اپنی تقدیر، اپنا آسمان اور اپنی زمین بنائے ہوئے ہے۔
دن چڑھتے ہی وہ پلیٹ فارم پر نمودار ہوتا ہے، اور شام ڈھلنے تک مسافروں کے بھاری بھرکم صندوق اور اٹیچی کیس اس کے مضبوط مگر تھکے ہوئے کندھوں پر آتے جاتے رہتے ہیں۔ انہی کندھوں کے سہارے اس کے بچوں کی سانسیں چل رہی ہیں، اور انہی ہاتھوں کی مزدوری سے اس کے گھر میں دال روٹی پک رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق
وقت گزرتا جا رہا ہے۔ صندوقوں کا بوجھ کم نہیں ہوتا، مگر اکبر خان کی کمر آہستہ آہستہ جھک رہی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی جواب دے رہی ہے، مگر اس کی خودداری آج بھی سر نہیں جھکاتی۔ وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا—ہمیشہ ہاتھ ہی بڑھاتا ہے، مزدوری کے لیے۔
دھیرے دھیرے محنت، فاقہ کشی اور بے آرام زندگی اس کے جسم میں خاموش قاتل اتار رہی ہیں: بلند فشارِ خون اور ذیابیطس۔ علاج اس کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس کے سامنے ہر دن دو ہی راستے کھڑے ہوتے ہیں:
یا اپنی بیماری کا علاج، یا بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی۔
اکبر خان ہر بار بچوں کو فوقیت دیتا ہے۔
اور پھر ایک گھڑی آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حسبِ معمول ایک بھاری صندوق اٹھائے پلیٹ فارم پر چل رہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کی دنیا بجھ جاتی ہے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے، قدم لڑکھڑا جاتے ہیں، اور وہ صندوق سمیت زمین پر گر پڑتا ہے۔ اس کی چیخ دھول آلود فضا میں گونجتی ہے:
“مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا!”
یہ بھی پڑھیں: کیا پی آئی اے کی نجکاری ناگزیر تھی؟
کچھ خدا ترس لوگ اسے قریبی اسپتال پہنچاتے ہیں، مگر وہاں اسے صرف تشخیص ملتی ہے—شفا نہیں۔ ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ بلند فشارِ خون اور ذیابیطس اس کی بینائی ہمیشہ کے لیے نگل چکے ہیں۔
اکبر خان اب اندھا ہو چکا ہے—ہمیشہ کے لیے۔
غمخوار اسے مشورہ دیتے ہیں:
“کسی بزرگ کے دربار پر بٹھا دو، زائرین کچھ نہ کچھ دے دیا کریں گے اور گھر کا چولہا جلتا رہے گا”
مگر اکبر خان کی انا یہ بات قبول نہیں کرتی۔ وہ ہاتھ جو ساری عمر بوجھ اٹھاتے رہے ہیں، بھیک کے لیے نہیں اٹھ سکتے۔
وقت دبے پاؤں گزر رہا ہے…
اور پھر ایک دن اکبر خان ایک نیا عزم کرتا ہے۔
وہ دوبارہ قلی بن جاتا ہے—
فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اب اس کی آنکھیں اس کے پاس نہیں ہوتیں۔
آج بھی جیکب آباد کے اسی ریلوے اسٹیشن پر، اسی شور، اسی دھول اور اسی ہجوم میں، اکبر خان مزدوری کرتا نظر آتا ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں مسافر کا صندوق ہوتا ہے، اور دوسرے ہاتھ میں اس کی آٹھ سالہ معصوم بیٹی کا ہاتھ۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
وہ بچی اس کی آنکھیں بن چکی ہے۔
وہ اسے راستہ دکھاتی ہے، پلیٹ فارم کے کناروں سے بچاتی ہے، اور لوگوں کے بدلتے چہروں کے تاثرات پڑھ کر اپنے باپ کو آگاہ کرتی ہے۔
باپ اندھا ہے—مگر سوالی نہیں۔
وہ آج بھی مزدور ہے، محتاج نہیں۔
اس کی صرف ایک التجا ہے، ایک ہی خواب ہے کہ کوئی اس کے بیٹے کو ایک چھوٹی سی سرکاری نوکری دلوا دے،
تاکہ آنے والی نسلوں کو اندھیرے میں ہاتھ ٹٹول کر جینا نہ پڑے۔
یہ ایک کہانی ہے۔
اور یہ کہانی صرف اکبر خان جمالی کی نہیں—
یہ اس خودداری کی کہانی ہے جو بینائی چھن جانے کے بعد بھی بھیک مانگنے سے انکار کر دیتی ہے۔
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

