اوورسیز پاکستانیز
بلیو بیج اسکیم: فلاحی حق یا قانونی استحصال؟
برطانیہ میں بڑھتا ہوا فراڈ اور ریاستی قانون کی سخت گرفت
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ (لیڈز، برطانیہ)
برطانیہ کی بلیو بیج اسکیم معذور اور محدود نقل و حرکت رکھنے والے شہریوں کے لیے ریاستی فلاح کا ایک اہم اور قابلِ قدر نظام ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ایسے افراد کو روزمرہ زندگی میں سہولت، وقار اور خودمختاری فراہم کرنا ہے جو جسمانی یا ذہنی معذوری کے باعث عام شہریوں کی طرح سہولیات تک آسان رسائی نہیں رکھتے۔
تاہم گزشتہ چند برسوں، خصوصاً 2024 اور 2025 کے دوران، اسی فلاحی اسکیم کا غلط استعمال ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف اصل مستحق افراد کے حقوق کو متاثر کر رہا ہے بلکہ عوامی اعتماد اور ریاستی وسائل دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب محبت جرم بن جاتی ھے: ایک ھوشربا فسانہ و حقیقت
بلیو بیج اسکیم: تاریخی و قانونی پس منظر
بلیو بیج اسکیم کا آغاز دائمی مریضوں اور معذور افراد کے قانون 1970
(Chronically Sick and Disabled Persons Act 1970) کے تحت ہوا۔ ابتدا میں اسے معذور افراد کے لیے پارکنگ بیج اسکیم کہا جاتا تھا، جو بعد ازاں یورپی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے “بلیو بیج” کے نام سے جانی جانے لگی۔
وقت کے ساتھ اس اسکیم کے دائرۂ کار میں نمایاں وسعت آئی۔ خاص طور پر 2019 کے بعد غیر ظاہر شدہ یا غیر نمایاں معذوریاں—جیسے آٹزم، دماغی زوال (ڈیمنشیا)، مرگی، ذہنی امراض اور سیکھنے کی معذوریاں—بھی اس میں شامل کی گئیں۔ بلاشبہ اس توسیع سے لاکھوں افراد مستفید ہوئے، مگر اس کے ساتھ نگرانی اور شفافیت کے نئے چیلنجز بھی سامنے آئے۔
خطرے کی گھنٹی بجاتے اعداد و شمار
سرکاری رپورٹس کے مطابق مارچ 2024 تک صرف انگلینڈ میں تقریباً 28 لاکھ 40 ہزار فعال بلیو بیجز موجود تھے، جو آبادی کے لگ بھگ پانچ فیصد کے برابر ہیں۔ صرف ایک سال میں 11 لاکھ سے زائد نئے بیجز جاری کیے گئے، جبکہ ہر سال اوسطاً 6 ہزار سے زائد بیجز گم یا چوری رپورٹ ہوتے ہیں۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مختلف تخمینوں کے مطابق تقریباً 20 فیصد بیجز کسی نہ کسی شکل میں غلط استعمال کا شکار ہیں۔ 2025 میں متعدد مقامی کونسلوں نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ بلیو بیج فراڈ کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پی آئی اے کی نجکاری ناگزیر تھی؟
غلط استعمال کے عام طریقے
عدالتی فیصلوں، مقامی کونسلوں کی تحقیقات اور قومی انسدادِ فراڈ رپورٹس کے مطابق بلیو بیج کے غلط استعمال کی چند نمایاں صورتیں یہ ہیں:
ا) وفات پا جانے والے افراد کے بیجز کا مسلسل استعمال،
ب) خاندان کے صحت مند افراد کی جانب سے بیج کا ناجائز فائدہ،
ج) جعلی یا چوری شدہ بیجز کی خرید و فروخت،
د) معذور فرد کی غیر موجودگی میں خصوصی پارکنگ کا استعمال،
اور بیج میں جعل سازی، تاریخ یا تصویر میں رد و بدل۔
قانونی طور پر یہ تمام اعمال قانونِ انسدادِ دھوکہ دہی 2006 کے تحت فوجداری جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
سماجی اور اخلاقی اثرات
بلیو بیج کا غلط استعمال محض قانون شکنی نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی مسئلہ بھی ہے۔ اس کے نتیجے میں حقیقی معذور افراد کو اسپتالوں، کلینکس اور عوامی مقامات پر پارکنگ نہ ملنے کے باعث ذہنی دباؤ اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی معاشرے میں معذور افراد کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، جو ایک انتہائی افسوسناک رجحان ہے۔
مزید یہ کہ مقامی کونسلوں اور ٹیکس دہندگان کو ہر سال لاکھوں پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جو بالآخر عوامی خدمات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طاقت نہیں تو ریاست نہیں: وینزویلا سے سبق
ریاستی ردِعمل اور سخت کارروائیاں
غلط استعمال میں اضافے کے پیشِ نظر حکومت اور مقامی کونسلوں نے 2024 اور 2025 کے دوران سخت اقدامات کیے ہیں۔ ان میں قومی انسدادِ فراڈ پروگرام
(National Fraud Initiative – NFI) کے ذریعے ڈیٹا کا تقابلی تجزیہ، سادہ لباس میں افسران کے اچانک معائنے، بیجز کی فوری ضبطی اور گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔ متعدد شہروں میں “بلیو بیج خصوصی نفاذی مہمات” چلائی گئیں، جبکہ مجرموں کو ایک ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ، عدالتی اخراجات اور فوجداری ریکارڈ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
عدالتی مثالیں: 2025 کی جھلک
2025 میں سامنے آنے والے متعدد مقدمات اس سخت رویّے کی واضح مثال ہیں۔ کہیں مرحوم والد یا دادی کے بیج کے استعمال پر سزا دی گئی، کہیں خاندانی بیجز کے غلط استعمال پر جرمانے عائد ہوئے، اور کہیں چوری شدہ بیج کے استعمال پر فوجداری کارروائی عمل میں آئی۔ یہ تمام فیصلے اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ عدالتیں بلیو بیج فراڈ کو معمولی جرم نہیں سمجھتیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
نتیجہ
بلیو بیج اسکیم کوئی رعایت یا چالاکی کا راستہ نہیں بلکہ معذور شہریوں کے وقار اور بنیادی حقوق کی علامت ہے۔ 2025 تک کے حالات واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ غلط استعمال میں اضافہ ہوا ہے، مگر اس کے ساتھ قانون کی گرفت بھی پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔
حقیقی حل صرف قانونی کارروائی میں نہیں بلکہ اجتماعی شعور، اخلاقی ذمہ داری اور سماجی ہمدردی میں مضمر ہے۔ جب تک معاشرہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ فلاحی سہولیات سب سے کمزور افراد کا حق ہیں، اس وقت تک قانون اکیلا کافی نہیں ہو سکتا۔
بلیو بیج کا احترام دراصل انسانیت، انصاف اور مہذب معاشرتی اقدار کا احترام ہے۔
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

