تازہ ترین
میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہوگا
تحریر: سیدشجر عباس
تاریخِ انسانی میں کچھ ایسی حقیقتیں ہوتی ہیں جو صرف قصے نہیں رہتیں بلکہ اصول وکردار بن جاتی ہیں اور انسان کے ضمیر میں چراغ کی مانند روشن رہتی ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ وہ ہے جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا اور آگ کے شعلے میلوں تک پھیلے ہوئے تھے۔
اس ہولناک منظر میں ایک چھوٹا سا پرندہ، ہُد ہُد، اپنی چونچ میں پانی کے چند قطرے لیے آگ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کسی نے اس سے پوچھا کہ کیا تم ان چند قطروں سے اس بھڑکتی آگ کو بجھا سکو گے؟ اس نے جواب دیا: “نہیں، لیکن جب نام پکارے جائیں گے تو “ میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہوگا”۔
یہی جذبہ، یہی فکر، اور یہی اصول انسانیت کی بقا کا اصل راستہ ہے۔ دنیا کی تاریخ میں جب بھی جنگ کے شعلے بھڑکے، تباہی نے اپنے پنجے گاڑے، اور انسانیت کراہ اٹھی، تب ایسے ہی کردار سامنے آئے جنہوں نے اپنے حصے کا پانی لے کر آگ بجھانے کی کوشش کی—چاہے وہ کوشش کتنی ہی معمولی کیوں نہ لگتی ہو۔حالیہ عالمی منظرنامے میں ایک ایسی ہی ہولناک صورتحال نے جنم لیا۔
یہ بھی پڑھیں:میلبورن، پاکستانی آموں کی آمد اور نقاب کشائی
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر لی۔ یہ جنگ چالیس دن تک جاری رہی، لیکن ان چالیس دنوں نے دنیا کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے، کئی زخمی ہوئے، اور کروڑوں انسان اس کے اثرات سے متاثر ہوئے۔
دنیا کے ہر خطے میں خوف، بے یقینی اور بے بسی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید یہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہے۔یہ صرف ایک علاقائی جنگ نہ تھی بلکہ اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عالمی معیشت ہچکولے کھانے لگی۔ تیل، گیس اور توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
ترقی یافتہ ممالک بھی مالی بحران کے دہانے پر جا پہنچے۔ یورپ اور امریکہ جیسے طاقتور خطے انسانی اور اقتصادی نقصان سے دوچار ہونے لگے۔ عالمی منڈیاں منجمد ہو گئیں، کاروبار ٹھپ ہو گئے، اور عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی۔خلیجی ممالک، جو ہمیشہ معاشی استحکام اور امن کی علامت سمجھے جاتے تھے، بدامنی اور بے یقینی کا شکار ہو گئے۔
دبئی، سعودی عرب، قطر اور بحرین جیسے ممالک جہاں دنیا بھر کے سرمایہ کار اور سیاح آتے تھے، وہاں سناٹا چھا گیا۔ ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا تھا: “کیا دنیا واقعی ختم ہونے کے قریب ہے؟
یہ بھی پڑھیں: سانحۂ ترلائی: سجدوں میں بجھے چراغ اور سو گھروں کا اندھیرا
اس صورتحال میں عالمی طاقتیں بھی بے بس نظر آنے لگیں۔ بڑی بڑی حکومتیں، بین الاقوامی ادارے، اور عالمی تنظیمیں اس بحران کو روکنے میں ناکام دکھائی دیں۔ ہر کوئی جنگ کو روکنے کی بات تو کر رہا تھا، لیکن کوئی عملی قدم اٹھانے کے قابل نہیں تھا۔ دنیا ایک ایسی کشتی کی مانند ہو گئی تھی جو طوفان کے بیچوں بیچ ڈگمگا رہی ہو اور کوئی ملاح نظر نہ آ رہا ہو۔ایسے میں ایک غیر متوقع موڑ آیا۔
پاکستان، جسے اکثر عالمی سیاست میں ایک ثانوی کردار کے طور پر دیکھا جاتا تھا ،اچانک ایک مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ ملکِ خداداد پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو بڑے بڑے ممالک ادا نہ کر سکے۔ قیادت نے وہ جرات، بصیرت اور حکمت دکھائی جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔
اس نازک مرحلے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس بحران کو صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانیت کا مسئلہ قرار دیا۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے سفارت کاری کو ایک نئی جہت دی۔
پاکستان نے نہ صرف فریقین سے رابطہ کیا بلکہ انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی۔اسلام آباد، جو عام دنوں میں ایک پُرسکون دارالحکومت کے طور پر جانا جاتا ہے، اچانک عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا۔ دنیا بھر کے صحافی، تجزیہ کار اور مبصرین یہاں جمع ہونے لگے۔
ہر آنکھ اس بات پر مرکوز تھی کہ کیا واقعی یہ ملک اس جنگ کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا۔ یہ مذاکرات آسان نہ تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان برسوں کی دشمنی، بداعتمادی اور تلخیاں موجود تھیں۔ ہر جملہ، ہر موقف، اور ہر تجویز ایک نازک توازن کا تقاضا کرتی تھی۔ لیکن وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صبر، حکمت ، غیر جانبداری اوربردباری کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھایا۔یہ مذاکرات مسلسل 21 گھنٹے تک جاری رہے۔
یہ صرف وقت کی طوالت نہیں تھی بلکہ یہ اس عزم کی علامت تھی کہ دنیا کو بچانا ہے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی محنت کیوں نہ کرنی پڑے۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا، لیکن ایک اہم پیش رفت ضرور ہوئی: دونوں ممالک نے اس عمل کو مثبت قرار دیا اور مستقبل میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے دیکھا کہ ایک ملک، جس کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اعلی قیادت ہے جو اپنی نیت، حکمت اور جرات کی بنیاد پر عالمی امن میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک نے پاکستان کی اس کاوش کو سراہا۔ مغربی طاقتوں نے بھی اس مثبت کردار کا اعتراف کیا۔
عالمی میڈیا میں پاکستان کا تذکرہ ایک امن پسند اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ہونے لگا۔ یہ وہ مقام تھا جو صرف طاقت سے نہیں بلکہ کردار سے حاصل ہوتا ہے۔تاہم، ہر مثبت قدم کے ساتھ کچھ منفی ردعمل بھی سامنے آتے ہیں۔ بعض حلقوں، خصوصاً بھارت میں اس پیش رفت کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا، اور وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بعض بیانیوں نے اس سفارتی کوشش پر تنقیدی اور منفی ردعمل ظاہر کیا۔
بھارتی میڈیا پاکستان کی ثالثی پر حیران و پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی وقعت اور پشیمانی کا رونا رونے لگا اسی منفی سوچ کا سبب یہ ہوا کہ آج انڈیا کا اصل چہرہ دنیا نے دیکھ لیا ہے ۔ اس کے باوجود جب نیت صاف ہو اور مقصد انسانیت کی بھلائی ہو، تو ایسے ردعمل وقتی شور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور وقت خود اصل کردار کو نمایاں کر دیتا ہے۔یہ واقعہ ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے۔
دنیا کو صرف طاقتور ممالک نہیں بچاتے بلکہ وہ لوگ اور قومیں بچاتی ہیں جو “آگ بجھانے والوں” میں اپنا نام شامل کرنا چاہتے ہیں۔ چاہے ان کے پاس وسائل کم ہوں، لیکن اگر ارادہ مضبوط ہو تو وہ تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں۔یہی وہ فلسفہ ہے جو ہُد ہُد کے اس واقعے میں پوشیدہ ہے۔ اس نے آگ بجھانے میں اپنا کردار ادا کیا، اور یہی کردار اصل کامیابی ہے۔
آج کے دور میں، دنیا ایک بار پھر مختلف تنازعات، جنگوں اور بحرانوں کا شکار ہے، ہمیں اس سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ ہر ملک، ہر رہنما، اور ہر فرد کو یہ سوچنا ہوگا کہ وہ آگ کو بھڑکانے والوں میں شامل ہونا چاہتا ہے یا اسے بجھانے والوں میں۔
پاکستان کا یہ کردار صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے—امن، برداشت اور انسانیت کا نظریہ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت درست ہو تو چھوٹے سے چھوٹا قدم بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تاریخ ایسے ہی لمحات کو یاد رکھتی ہے۔ جنگیں بھی یاد رکھی جاتی ہیں، لیکن امن کی کوششیں زیادہ دیر تک زندہ رہتی ہیں۔ وہ لوگ جو آگ لگاتے ہیں، وقتی طور پر طاقتور نظر آتے ہیں، لیکن وہ لوگ جو آگ بجھاتے ہیں، ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔
یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ دنیا میں پاکستان کی کیا اہمیت اور افادیت ہے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کی بہترین سفارت کاری نے دنیا میں امن کے نئے باب رقم کئے ہیں جن کو دنیا کے مبصرین اور مورخین صدیوں تک یاد رکھیں گے۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہم سب کو خود سے ایک سوال پوچھنا چاہیے ۔جب تاریخ ہمیں پکارے گی، تو کیا ہمارا نام آگ لگانے والوں میں ہوگا یا آگ بجھانے والوں میں ہوگا۔
-
پاکستان4 ہفتے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان1 مہینہ agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان2 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان3 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 ہفتے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان6 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو6 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان1 مہینہ agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

