تازہ ترین
مسجد کے سائے میں دو انسانوں کا خون
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
جہلم شہر کا قریبی گاؤں للہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بھی ویسا ہی ہے—
کچے راستے، نیم، ببول، شیشم اور بیری کے درخت…
اور دوپہر کی دھوپ میں پھیلی ہوئی ایک عجیب سی خاموشی۔
مگر آج…

یہ خاموشی عام نہیں۔
ہوا جیسے کسی آنے والے سانحے کی خبر دے رہی ہو…
مسجد کا سفید مینار آسمان کی طرف اٹھا ہے، جیسے فریاد کر رہا ہو۔
اندر لگا پرانا لاؤڈ اسپیکر، جو صرف اذان کے وقت بولتا ہے…
مگر آج…
وہ چیخ اٹھتا ہے۔
“خدا کے لیے… کوئی ہمیں بچا لے… کوئی تو آ جائے…”
آواز ٹوٹ رہی ہے… سانسیں بکھر رہی ہیں…
یہ سنیعہ ہے۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں، مگر وہ مائیک کو مضبوطی سے تھامے کھڑی ہے۔
اس کی نظریں مسجد کے دروازے پر جمی ہیں—
جیسے موت کو آتے دیکھ رہی ہو۔
“گاؤں والو…! میں سنیعہ بول رہی ہوں… خدا را ہمیں بچا لو… میرا اپنا بھائی ہمیں قتل کر دے گا… کوئی تو دروازہ کھٹکھٹائے… کوئی تو بولے…!”
یہ بھی پڑھیں: بارودی دھوئیں میں لپٹی دنیا
پورا گاؤں سنتا ہے۔
ہر گھر میں یہ آواز گونجتی ہے۔
چولہے بجھ جاتے ہیں-
باتیں رک جاتی ہیں…
مگر دروازے نہیں کھلتے۔
صرف کھڑکیوں کے پردے ہلتے ہیں…
اور پھر ساکت ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ گاؤں ہے…
جہاں لوگ سب کچھ جانتے ہیں… مگر سچ بولنے کی ہمت نہیں رکھتے۔
رحمان، سنیعہ کے پاس کھڑا ہے۔
اس کے چہرے پر تھکن ہے… مگر آنکھوں میں عجیب سا سکون۔
وہ آہستہ سے کہتا ہے:
“سنیعہ… چھوڑ دو… کوئی نہیں آئے گا…”
سنیعہ اس کی طرف دیکھتی ہے—
اس کی آواز ٹوٹ جاتی ہے:
“کیوں نہیں آئے گا رحمان…؟ کیا ہم اس گاؤں کے نہیں ہیں…؟ کیا ہم نے کسی کا کچھ بگاڑا ہے…؟”
رحمان کی آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے۔
وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے:
“قصور صرف اتنا ہے… کہ ہم نے محبت کی ہے…
اور یہاں محبت سے بڑا کوئی جرم نہیں…”
یہ بھی پڑھیں: کیا دنیا کو بھی وائٹ ہاؤس کے فیصلے میں حصہ ملنا چاہیے؟
چند دن پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی گاؤں خوشی سے جگمگا رہا تھا۔
سنیعہ کے گھر میں روشنی تھی، دعائیں تھیں،
ہنسی تھی۔
رحمان نے عزت سے رشتہ بھیجا تھا—
اور قبول بھی ہو گیا تھا۔
ماں نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا تھا:
“میری بچی… اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے…”
باپ نے آنکھیں بند کر کے دعا مانگی تھی:
“یا اللہ… میری بیٹی کی قسمت سنوار دے…”
مگر…
یہ خوشی زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔
وسیم…
سنیعہ کا بھائی…
جس کی آنکھوں میں غیرت کا جنون تھا،
اور دل میں انا کا زہر۔
“یہ رشتہ نہیں ہو سکتا!”
اس کی آواز گونجی تھی۔
“میری بہن اپنی مرضی سے شادی کرے؟
میں زندہ ہوں ابھی!”
باپ نے کانپتی آواز میں کہا تھا:
“بیٹا… یہ اس کی خوشی ہے…”
وسیم چیخ اٹھا:
“خاموش! یہ خوشی نہیں… بے غیرتی ہے!”
گھر کی دیواریں لرز گئی تھیں۔
اور پھر…
سب کچھ ٹوٹ گیا۔
سنیعہ اور رحمان نے عدالت میں نکاح کر لیا۔
چھوٹی سی دنیا…
سادہ سی خوشی…
مگر سچی خوشی۔
وہ گاؤں سے دور جا کر بس گئے۔
دن گزرتے گئے-
محبت کے دن-
پھر ایک دن…
ایک پیغام آیا۔
“سنیعہ… واپس آ جاؤ… ہم نے تمہیں معاف کر دیا ہے… قرآن کا واسطہ…”
سنیعہ کے ہاتھ کانپ گئے۔
“رحمان…مجھے امی یاد آ رہی ہیں… شاید واقعی سب ٹھیک ہو گیا ہو…”
رحمان نے گہری سانس لی:
“اگر قرآن کا واسطہ ہے… تو شاید ٹھیک ہی ہوگا…”
مگر…۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: چراغِ کربلا کی روشنی میں تہران کی ایک رات
کبھی کبھی سب سے بڑا دھوکہ…
مقدس لفظوں کے پردے میں چھپا ہوتا ہے۔
وہ گاؤں کے لئے روانہ ہوتے ہیں-
جیسے ہی گھر پہنچتے ہیں…
دروازہ کھلتا ہے…
اور ۔۔۔۔۔
سامنے وسیم کھڑا ہے۔
آنکھیں خون سے بھری ہوئی…
ہاتھ میں پستول۔
“آ گئے تم…؟”
اس کی آواز زہر میں ڈوبی ہوئی ہے۔
“آج تم دونوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا!”
سنیعہ چیخ پڑتی ہے:
“بھائی! قرآن کا واسطہ دیا تھا تم نے…!”
وسیم ہنستا ہے—ایک سرد، خوفناک ہنسی۔
“وہ صرف تمہیں واپس لانے کے لیے تھا…”
ماں چیختی ہے:
“وسیم! خدا کے لیے… یہ تیرے اپنے ہیں!”
باپ ہاتھ جوڑ لیتا ہے:
“بیٹا… گناہ مت کر…”
مگر وسیم کی آنکھوں میں صرف خون ہے۔
اسی لمحے…
سنیعہ رحمان کا ہاتھ پکڑتی ہے:
“دوڑو!”
وہ دونوں جان بچا کر بھاگتے ہیں…
اگاؤں کی مسجد میں پناہ لیتے ہیں۔
اللہ کے گھر میں پناہ-
“گاؤں والو…! خدا کے لیے… ہمیں بچا لو…!”
سنیعہ کی آواز آخری امید کی طرح گونجتی ہے۔
دروازہ زور زور سے ہل رہا ہے۔
دھم!
دھم!
دھم!
رحمان اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتا ہے:
“ڈرنا نہیں… ہم اللہ کے گھر میں ہیں…”
سنیعہ روتے ہوئے کہتی ہے:
“کیا اللہ کے گھر میں بھی ہمیں کوئی نہیں بچائے گا…؟”
اور پھر…
دروازہ ٹوٹ جاتا ہے۔
وقت رک جاتا ہے۔
سانسیں رک جاتی ہیں۔
اور پھر…
ایک گولی۔
دوسری گولی…
اور پھر…
خاموشی۔
مائیک اب بھی آن ہے۔
مگر اب کوئی آواز نہیں آتی۔
صرف…
ایک ادھوری فریاد کی بازگشت۔
گاؤں پھر بھی ویسا ہی ہے۔
لوگ باہر نکلتے ہیں…
ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں…
پھر نظریں جھکا لیتے ہیں۔
زندگی…
چلتی رہتی ہے۔
مگر مسجد کی دیواریں…
آج بھی گواہی دیتی ہیں۔
ہوا میں آج بھی وہ صدا گونجتی ہے:
“خدا کے لیے… کوئی ہمیں بچا لو…”
اور ہر بار…
ایک سوال جنم لیتا ہے—
کیا قاتل صرف وہ ہوتا ہے… جو گولی چلاتا ہے؟
یا وہ بھی…
جو سن کر بھی دروازہ نہیں کھولتا؟
گاؤں للہ آج بھی زندہ ہے۔
مگر اس کی خاموشی…
اب ایک چیخ ہے۔
ایک گواہی ہے۔
اور اس گواہی کے بعد…
اب کوئی انسانی عدالت باقی نہیں رہی۔
اب سنیعہ اور رحمان کا مقدمہ اللہ کی عدالت میں ہے…
ججوں کے بھی جج کی عدالت میں-
منصفوں کے بھی منصف کی عدالت-
وہ عدالت جہاں نہ جھوٹ چلے گا، نہ طاقت، نہ انا۔
انہوں نے اللہ کے گھر میں پناہ لی تھی…
اور وہیں اپنی جانیں دے دیں۔
اب ہر آنسو کا حساب ہوگا…
ہر فریاد سنی جائے گی…
اور ہر ظلم کا بدلہ دیا جائے گا۔
کیونکہ وہ اوپر والا…
دلوں کے راز بھی جانتا ہے،
اور خون کے قطروں کی زبان بھی۔
وہی سب سے بڑا منصف ہے…
اور اس کے ہاں…
نہ کبھی دیر ہوتی ہے…
نہ کبھی اندھیر۔
-
پاکستان4 ہفتے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان1 مہینہ agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان2 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان3 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 ہفتے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان6 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو6 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان1 مہینہ agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

