تازہ ترین
خالی بستر کی آخری صدا
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
برطانیہ کی یارکشائر کاونٹی کے معروف شہر ڈیوسبری میں 12 جولائی کی شام دھیرے دھیرے ڈھل رہی ہے۔
آسمان ‘ سرمئی بادلوں سے لپٹا ہواہے۔
گلیاں سنسان ہیں۔
پیلگرم ڈرائیو کے ایک سادہ سے گھر کے دروازے پر ماں بیٹھی ہے۔
تسبیح کے دانے اس کی انگلیوں میں لرز رہے ہیں۔
آنکھوں میں اضطراب ہے-
بے چینی اور بے قراری ہے-
"شمس ابھی آ جائے گا نا…؟”
وہ خود کو دلاسا دیتی ہے، مگر آواز اس کے دل میں اٹک کر رہ جاتی ہے۔
باپ کھڑکی کے پاس کھڑا ہے۔ سفید ہوتے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہے۔
"وہ کبھی دیر نہیں کرتا… آج کیوں؟”
گھڑی کی ٹک ٹک بڑھتی جا رہی ہے۔ وقت زخمی قدموں سے چل رہا ہے، اور ہر قدم ماں کے دل کو بھاری کر رہا ہے۔
رات آہستہ آہستہ گہری ہوتی جا رہی ہے۔
اچانک گلی میں زور دار آوازیں گونجتی ہیں:
"زیادہ بہادری نہ دکھا، شمس!”
باسط علی آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ثقلین علی، سکیب علی خان، ذیشان خان، اور پیچھے عاصم اکرم
فیضان اکرم موجود ہیں۔

شمس سیدھا کھڑا ہے۔ سانس قابو میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر دل دھک دھک کر رہا ہے۔
"میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ مجھے گھر جانا ہے۔ راستہ دو۔”
ذیشان ہنستا ہے۔
"گھر؟ پہلے حساب ہوگا۔”
یہ بھی پڑھیں: وینٹیلیٹر کی آس میں موت
ایک دھکا،
پھر دوسرا۔
شمس سنبھلتا ہے اور تیز قدموں سے آگے بڑھتا ہے۔
"پکڑو اسے!” باسط چیختا ہے۔
قدموں کی آوازیں بڑھ رہی ہیں۔
گلیاں مڑ رہی ہیں۔
رات سیاہ ہو رہی ہے۔
شمس دوڑ رہا ہے،
دل دھڑک رہا ہے،
ہاتھ کانپ رہے ہیں ‘ کرو نیسٹ پارک کے درخت خاموش کھڑے ہیں۔
شمس ہانپ رہا ہے۔
"بس کرو… اللہ کا خوف کرو…”
سکیب آگے بڑھتا ہے۔
"اب یاد آیا اللہ؟”
ڈنڈا کندھے پر پڑتا ہے۔
ثقلین پسلیوں پر وار کرتا ہے
شمس گھٹنوں کے بل گرتا ہے۔
"خدارا… مت مارو… میں نے کچھ نہیں کیا…”
سکیب جھک کر کہتا ہے،
"آج حساب برابر ہوگا۔”
چاقو چمکتا ہے۔
وار ہوتا ہے۔
پھر ایک اور۔
یہ بھی پڑھیں: سچ دب گیا، نعرہ جیت گیا، اداس نسلوں کی کہانی
شمس کی سانس ٹوٹ رہی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں پھیل رہی ہیں۔
وہ آخری بار آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔
"امی…”
زمین سرخ ہو رہی ہے۔
شمس کا بے جان جسم زمین پر پڑا ہے
درخت خاموش ہیں۔
ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہو جاتے ہیں،
لیکن —
رات سب کچھ اپنے اندر سمیٹ رہی ہے۔
چھ ہفتے بعد —
لیڈز کراؤن کورٹ میں سکوت چھایا ہوا ہے۔
ماں قرآن کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے۔
آنکھیں نم ہیں،
لیکن آنسو نہیں بہا رہیں،
دل میں ایک ہلکی سی امید ہے کہ آج انصاف ہو جائے گا۔
باپ کی نظریں زمین پر جمی ہیں،
ہاتھ ایک دوسرے میں بندھے ہیں۔
وہ اپنے دل کی درد بھری دھڑکنوں کو سن رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چرواہے سے ایس ایس پی تک، ایک ماں کی نصیحت کی لازوال کہانی
جج کمرہ عدالت میں داخل ہوتا ہے۔ آواز کمرے میں گونجتی ہے:
"ملزمان کو کٹہرے میں پیش کیا جائے۔”
ہتھکڑیوں کی دھیمی دھیمی آواز کمرے میں پھیل رہی ہے۔
جج پہلے ثقلین علی کی طرف دیکھتا ہے۔
"تم تعاقب کرتے ہو، تم گھیرتے ہو، تم وار کرتے ہو۔ یہ محض غصہ نہیں، یہ ارادہ قتل ہے۔ کیا تم عدالت کو بتاؤ گے کہ ایک نہتے نوجوان پر حملہ کیوں کیا؟”
ثقلین سر جھکائے کھڑا ہے۔
"سر… ارادہ قتل کا نہیں تھا… بس غصہ تھا…”
جج کی نظریں سخت ہیں۔
"غصہ؟ کیا غصہ تمہیں قانون سے بڑا بنا دیتا ہے؟ جب وہ رحم کی اپیل کرتا ہے تو تمہارا ہاتھ کیوں نہیں رکتا؟”
پھر جج باسط علی کی طرف رخ کرتا ہے:
"جب تم چیختے ہو ‘پکڑو اسے’ — کیا تم انجام سے بے خبر تھے؟”
باسط جھک کر جواب دیتا ہے:
"سر… ہمارا مقصد صرف اسے ڈرانا تھا…”
جج کی آواز گونجتی ہے:
"ڈر انسان کو کمزور کر سکتا ہے، مگر ضمیر کو نہیں۔ تم نے اس نوجوان کی زندگی چھین لی، اور تم کہہ رہے ہو صرف غصہ تھا؟ اور ایک چھوٹی سی تکرار — تمہاری انا، تمہارا غرور — نے ایک قیمتی جان لے لی!”
یہ بھی پڑھیں: ماں، دارالامان اور انتظار کی آخری رات
پھر سکیب علی خان کی طرف رخ ہوتا ہے:
"چاقو کس نے نکالا؟ کس نے وار کیا؟ تم سب جانتے ہو کہ ہر وار کے ساتھ ایک جان کم ہوتی ہے۔ یہ ایک لمحے کی تکرار، ایک لمحے کی ضد — ایک قیمتی زندگی چھین سکتی ہے۔”
ذیشان سے سوال ہوتا ہے:
"جب وہ کہتا ہے ‘اللہ کا خوف کرو’ — تمہارے دل میں کوئی لرزش پیدا نہیں ہوئی؟”
"خاموشی”۔ جج کہتا ہے:
"خاموشی بھی کبھی اعتراف جرم ہوتی ہے۔ جو روک سکتا ہے اور نہیں روکتا — وہ بھی برابر کا شریک ہے۔”
پھر جج عاصم اکرم اور فیضان اکرم کی طرف متوجہ ہوتا ہے:
"تم موجود تھے۔ تم روک سکتے تھے۔ تم نے کیوں نہیں روکا؟”
عاصم ہکلاتا ہے:
"سر… ہم ڈر گئے تھے…”
جج کی آواز بھاری ہے:
"ڈر انسان کو کمزور کر سکتا ہے، مگر ضمیر کو نہیں۔ اور ایک لمحے کی چھوٹی تکرار، ایک چھوٹی سی کشمکش — ایک قیمتی جان لے سکتی ہے۔ عدالت انصاف کے اصول پر عمل کرتی ہے۔”
فیصلہ سنایا جاتا ہے:
"ثقلین علی، باسط علی، سکیب علی خان، ذیشان خان — تم قتل کے مجرم ہو۔
عاصم اکرم، فیضان اکرم — تم قتلِ خطا کے مجرم ہو۔”
ماں کی سسکی کمرے میں گونجتی ہے۔ باپ کی آنکھ سے آنسو بہہ رہا ہے۔
جج کہتا ہے:
"یہ عدالت ایک جان واپس نہیں لا سکتی، مگر قانون کی بالادستی قائم رکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ سزا کی مدت، اورر سزا کی نوعیت کے بارے میں تفصیلی تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا ۔”
عدالت برخاست ہوتی ہے-
شمس کے ماں باپ گھر کے لئے روانہ ہوتے ہیں-
ڈیوسبری کی فضا بوجھل ہے۔
گھر کا دروازہ کھلتا ہے۔
ماں شمس کا کمرہ کھولتی ہے۔
بستر ویسا ہی ہے۔
دیوار پر آویزاں تصویر مسکرا رہی ہے۔
ماں آہستہ سے کہتی ہے:
"دیکھو بیٹا… عدالت نے فیصلہ سنا دیا… مگر تم کہاں ہو؟”
باپ دروازے پر کھڑا ہے۔
"انصاف ہو گیا… مگر میرا بیٹا واپس نہیں آیا۔”
ماں سوچتی ہے: ہر سزا کے بعد بھی، خالی بستر کی گردن پر ایک وزن رہتا ہے۔
انصاف ہوتا ہے، مگر دل کے گھاو کبھی بھر نہیں پاتے-
اور —
ایک لمحے کی چھوٹی تکرار،
ایک لمحے کی انا —
ایک قیمتی زندگی چھین سکتی ہے۔
ہوا بدستور چل رہی ہے۔
کرو نیسٹ پارک کے درختوں سے ایک مدھم سی سرگوشی اب بھی آ رہی ہے—
"امی…”
-
پاکستان1 ہفتہ agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان3 ہفتے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو5 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو2 مہینے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان6 دن agoزیارات کے نام پر فراڈ، زائرین بے یار و مددگار، قافلہ سالار کیخلاف قانونی کاروائی

