پاکستان
عہدہ نہیں، کردار: اچھی گورننس کا ایک نمونہ
تحریر: نثار حسین
اچھی گورننس بڑے دعووں، پالیسی دستاویزات یا سرکاری عمارتوں کی شان و شوکت سے نہیں پہچانی جاتی۔ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ ریاستی نظام عام شہری، اداروں اور معاشرے کے ساتھ کتنی رفتار، شفافیت اور ذمہ داری سے معاملہ کرتا ہے۔ اچھا انتظامی افسر ریاست اور شہری کے درمیان وہ مؤثر رابطہ ہوتا ہے جو اختیار کو خدمت، پالیسی کو عمل اور فیصلے کو نتیجے میں بدلتا ہے۔ اسی لیے کسی افسر کی اصل قدر اس کے عہدے سے نہیں، اس طرزِ حکمرانی سے متعین ہوتی ہے جو اس کی موجودگی میں ادارے کے اندر تشکیل پاتی ہے۔
سرکاری عہدہ اختیار ضرور دیتا ہے، مگر اختیار کو اعتبار میں بدلنے کے لیے کردار، قابلیت، تحمل، فیصلہ سازی اور جواب دہی درکار ہوتی ہے۔ انتظامی کارکردگی کا پیمانہ یہ نہیں کہ دفتر میں کتنی فائلیں آئیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنے جائز کام غیر ضروری تاخیر کے بغیر انجام پائے، کتنے پیچیدہ معاملات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سلجھائے گئے اور دفتر سے واپس جانے والا شخص ریاستی نظام کے بارے میں کیا تاثر لے کر گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں گورننس انتظامی اصطلاح سے آگے بڑھ کر ریاستی خدمت کا عملی اظہار بن جاتی ہے۔

بعض سرکاری عہدے ایسے ہوتے ہیں جہاں دفتری اوقات سے زیادہ ذمہ داری کے اوقات اہم ہوتے ہیں۔ میز پر رکھی فائل صرف کاغذ نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے کسی ادارے، صحافی، کاروباری فرد یا عام شہری کا مسئلہ، حق یا ضرورت موجود ہوتی ہے۔ ایک فیصلے میں غیر ضروری تاخیر بظاہر معمولی انتظامی معاملہ دکھائی دے سکتی ہے، مگر اس کا اثر پورے نظام پر پڑتا ہے۔ اچھی انتظامیہ اسی فرق کو سمجھتی ہے کہ اختیار استعمال کرنا اور اختیار کو ذمہ داری کے ساتھ برتنا، دو مختلف چیزیں ہیں۔
اس روایت کی ایک قابلِ ذکر مثال سابق سیکریٹری اطلاعات اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر (PIO) انور محمود ہیں۔ اپنے طویل سرکاری دور میں انہوں نے میڈیا ڈویلپمنٹ کو محض ایک انتظامی ذمہ داری کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ریاستی ابلاغ اور ادارہ جاتی استحکام کے وسیع تر تقاضوں سے جوڑ کر آگے بڑھایا۔ الیکٹرانک میڈیا کے ارتقا کے ابتدائی مراحل، اخبارات اور صحافتی اداروں کے لیے معاون ماحول کی تشکیل اور میڈیا سے متعلق ادارہ جاتی ڈھانچے کی ترقی، ان کے دور میں وزارتِ اطلاعات کی ذمہ داریوں کے اہم پہلو رہے۔
ان کی مثال اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ سرکاری عہدہ ختم ہونے کے بعد بھی ان کے تجربے اور انتظامی صلاحیتوں سے استفادہ جاری رہا اور انہیں ایک اہم قومی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ اس بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ کسی افسر کی اصل افادیت صرف اس کے منصب تک محدود نہیں ہوتی؛ تجربہ، ادارہ جاتی فہم اور کام کرنے کی صلاحیت عہدے کی مدت سے آگے بھی اپنا اثر قائم رکھ سکتی ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کام کا آدمی کبھی فارغ نہیں ہوتا؛ عہدہ ختم ہو سکتا ہے، کردار نہیں۔
پاکستان کے موجودہ داخلی و خارجی حالات میں اطلاعات کا شعبہ بھی گورننس کے اسی وسیع تصور کا اہم حصہ ہے۔ ریاست کا موقف اب دارالحکومت کے کسی پریس روم تک محدود نہیں رہتا؛ چند لمحوں میں ایک خبر دنیا کے دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ہے اور اسی رفتار سے غلط یا نامکمل تاثر بھی عالمی رائے عامہ کا حصہ بن سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں درست معلومات، بروقت ابلاغ اور مؤثر عوامی رابطہ محکمانہ ذمہ داری کیساتھ قومی پالیسی کا لازمی جزو ہیں۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی کردار حکومت اور میڈیا کے درمیان مؤثر رابطہ، مستند معلومات کی بروقت فراہمی اور صحافتی عمل میں سہولت کاری ہے۔ پرنسپل انفارمیشن آفیسر کے منصب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اسے حکومت کی پالیسیوں، فیصلوں اور ترجیحات کو درست تناظر میں میڈیا اورعوام تک پہنچانے کے ساتھ میڈیا کے سوالات، تحفظات اور زمینی مشاہدات کو حکومت تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔ یوں یہ منصب سرکاری اطلاعات کی ترسیل کا ذریعہ ہی نہیں ریاست اور میڈیا کے درمیان دو طرفہ پل ہے۔ اس پل کی مضبوطی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ حکومتی فیصلہ عوام تک کس وضاحت سے پہنچتا ہے اور عوامی ردِعمل حکومت تک کس صداقت کے ساتھ واپس آتا ہے۔
جولائی 2026 میں BS-20 افسر رئیسہ عادل کو، جو اس سے قبل ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل، ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل/پرنسپل انفارمیشن آفیسر، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ تعینات کیا گیا۔ یہ ذمہ داری ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان کو اپنی سفارتی، سیاسی اور ابلاغی ترجیحات بیک وقت ملکی اور عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنا تھیں۔
ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ میں ان کا تجربہ اس منصب کے لیے متعلقہ پیشہ ورانہ پس منظر فراہم کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خارجہ پالیسی اور پبلک ڈپلومیسی ایک دوسرے سے الگ شعبے نہیں رہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار بھی اس عرصے میں اہمیت اختیار کرتا رہا۔ اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی اور مفاہمت کے لیے پاکستانی کوششوں نے عالمی توجہ حاصل کی۔ ایسے حساس سفارتی مرحلے میں اطلاعاتی محاذ کی ذمہ داری صرف خبریں جاری کرنا نہیں ہوتی؛ اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کاوش، موقف اور پیش رفت عالمی میڈیا تک بروقت، واضح اور مستند انداز میں پہنچے۔ سفارت کاری کی بہت سی کامیابیاں خاموشی سے حاصل ہوتی ہیں، لیکن عالمی سطح پر ان کی اہمیت اسی وقت اجاگر ہوتی ہے جب انہیں مؤثر ابلاغ میسر آئے۔ یہ پبلک ڈپلومیسی کا بنیادی تقاضا ہے کہ سفارتی محنت کو عالمی ابلاغ میں تبدیل کیا جائے۔

ستمبر 2026 میں وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب بھی پاکستان کے عالمی مؤقف کو پیش کرنے کا اہم موقع تھا۔ مشرقِ وسطیٰ، ایران امریکا کشیدگی، آبنائے ہرمز و باب المندب، کشمیر، سندھ طاس معاہدے، فلسطین، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت متعدد معاملات پر پاکستان کا نقطۂ نظر عالمی فورم پر پیش کیا گیا۔ ایسے مواقع پر پی آئی او کا امتحان صرف سرکاری متن میڈیا تک پہنچانا نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت یہ ہوتی ہے کہ پیچیدہ خارجہ پالیسی، متعدد حساس موضوعات اور پاکستان کے مؤقف کو اس انداز میں ابلاغ دیا جائے کہ اس کی معنویت برقرار رہے، ابہام پیدا نہ ہو اور ملکی و عالمی میڈیا کے لیے معلومات قابلِ استعمال ہوں۔
رئیسہ عادل کے طرزِ کار کی نمایاں خصوصیت ان کی رسائی، شائستگی اور پیشہ ورانہ تحمل کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم انتظامی منصب میں یہ اوصاف اسی وقت اہمیت اختیار کرتے ہیں جب ان کے ساتھ کام کی رفتار، دستیابی اور فیصلہ سازی بھی موجود ہو۔ بڑے اور چھوٹے میڈیا اداروں کے لیے یکساں رسائی، جائز معاملات کو قواعد کے مطابق آگے بڑھانا، ناقابلِ عمل درخواست کی وجہ واضح کرنا اور زیرِ التوا امور کو قانون کے دائرے میں نمٹانے کی کوشش ایک ایسے انتظامی رویے کی نشاندہی کرتی ہے جس میں شخصی پسند و ناپسند کے بجائے ادارہ اور ضابطہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ میڈیا سے متعلق بعض پرانے معاملات اور اے بی سی سے وابستہ کیسز میں پیش رفت بھی قابلِ تعریف ہے۔
یہاں اچھی گورننس کا ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: ہر درخواست منظور کرنا اچھی انتظامیہ نہیں، بلکہ ہر جائز درخواست کو قانون کے مطابق سننا، اس پر بروقت فیصلہ کرنا اور جہاں انکار ناگزیر ہو وہاں اس کی معقول وجہ بتانا اچھی انتظامیہ ہے۔ اداروں پر اعتماد اسی طرزِ عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ افسر کا کام ہر شخص کو خوش کرنا نہیں، نظام کو اس طرح چلانا ہے کہ کسی جائز کام کے لیے غیر ضروری سفارش، دباؤ یا ذاتی تعلق ناگزیر نہ بنے۔
مختصر عرصے میں اس منصب کی عملی ضرورت کو سمجھنے کا جو انداز سامنے آیا ہے، اس کا خلاصہ دو بنیادی ذمہ داریوں میں کیا جا سکتا ہے: حکومت کا مؤقف میڈیا تک پہنچانا اور میڈیا کی آواز حکومت تک پہنچانا۔ خارجہ پالیسی کے حساس مرحلوں میں عالمی ابلاغ، اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی، اور ملکی میڈیا سے روزمرہ رابطہ بظاہر الگ ذمہ داریاں ہیں، مگر درحقیقت ایک ہی انتظامی فلسفے کا حصہ ہیں مؤثر، بروقت اور قابلِ اعتماد رابطہ۔
کسی افسر کی اصل پہچان اس کے عہدے کی مدت نہیں بلکہ اس دوران قائم ہونے والی انتظامی روایت ہوتی ہے۔ عہدے بدلتے رہتے ہیں، نام آتے جاتے ہیں، مگر اگر کسی افسر کے دور میں رابطے آسان ہوں، جائز کام بروقت ہوں، ادارہ زیادہ قابلِ رسائی بنے اور قواعد و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے معاملات آگے بڑھانے کا رجحان مضبوط ہو تو یہ اس کی حقیقی انتظامی شناخت بنتی ہے۔
سرکاری عہدہ دراصل عارضی اختیار ہے مگرکردار اس اختیار کا مستقل حوالہ بن سکتا ہے۔ اچھی گورننس کا حسن ہے کہ اس میں شخصیت سے زیادہ ادارہ نمایاں ہو، اختیار سے زیادہ خدمت دکھائی دے ۔
کسی افسر کے دور کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ اس کا نام ہر جگہ لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بعد بھی ادارہ پہلے سے زیادہ قابلِ رسائی، منظم اور قابلِ اعتماد دکھائی دے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عہدہ ختم ہو جاتا ہے مگر کردار باقی رہتا ہے اور اچھی گورننس کسی فرد کی نہیں بہتر انتظامی روایت کی شناخت بن جاتی ہے۔
مصنف ایک تجربہ کار پاکستانی صحافی ہیں جنہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں تقریباً چار دہائیوں کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے اعلیٰ اداراتی عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان7 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان12 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو12 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان8 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان2 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

